حکومت 5 جون کی بجائے 10 جون کو بجٹ پیش کرے گی، رکنِ پارلیمنٹ
- مذاکرات میں شامل ایک ذریعے نے کہا، ’’حکومت بجٹ کے اعلان کے بعد آخری وقت میں تبدیلیوں سے بچنا چاہتی ہے۔ اہم مالیاتی اعداد و شمار پر آئی ایم ایف کا اعتماد اور اتفاقِ رائے حاصل کرنا ناگزیر سمجھا جا رہا ہے۔‘‘
معلوم ہوا ہے کہ پاکستان کی وفاقی حکومت مالی سال 2026-27 کا سالانہ بجٹ 10 جون کو پیش کرے گی۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سینئر رہنما اور رکنِ قومی اسمبلی طاہرہ اورنگزیب نے بزنس ریکارڈر کو تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وفاقی بجٹ، جو پہلے 5 جون (جمعہ) کو پیش کیا جانا تھا، اب 10 جون (بدھ) کو پیش کیا جائے گا۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بجٹ پیش کرنے کے لیے طلب کیا گیا قومی اسمبلی کا اجلاس بھی اسی مناسبت سے مؤخر کر دیا گیا ہے۔
تاخیر کی وجوہات کے بارے میں پوچھے جانے پر رکنِ اسمبلی نے شیڈول میں تبدیلی کے اسباب پر مزید تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔
قبل ازیں، وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کا اہم اجلاس، جو کل منعقد ہونا تھا، آئندہ بجٹ پر مزید غور و خوض کے لیے ملتوی کر دیا گیا تھا۔
کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا، ’’یہ اطلاع دی جاتی ہے کہ قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کا اجلاس، جو بدھ 3 جون 2026 کو منعقد ہونا تھا، ملتوی کر دیا گیا ہے۔ اجلاس کی نئی تاریخ سے بروقت آگاہ کر دیا جائے گا۔‘‘
قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کے اجلاس کا التوا خاص اہمیت کا حامل ہے کیونکہ آئینی تقاضوں کے مطابق وفاقی بجٹ پیش کیے جانے سے قبل اس ادارے کی جانب سے اہم معاشی اہداف کی منظوری اور پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے حجم کی توثیق ضروری ہوتی ہے۔
معاملے سے باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ تعطل کا ایک بڑا سبب پی ایس ڈی پی کا حجم اور اس کی تشکیل ہے، کیونکہ اتحادی حکومت کے مختلف حلقے مالی گنجائش کی محدود صورتحال کے باوجود ترقیاتی منصوبوں کے لیے زیادہ فنڈز مختص کرنے پر زور دے رہے ہیں۔
پیر کے روز وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا تھا کہ وزارتِ خزانہ نے پی ایس ڈی پی 2026-27 کے لیے 1.126 کھرب روپے مختص کیے ہیں، جبکہ مجموعی ترقیاتی ضروریات 4.097 کھرب روپے ہیں، جس کے نتیجے میں تقریباً 3 کھرب روپے کا مالی خلا پیدا ہو رہا ہے۔
دریں اثنا، ذرائع کے مطابق بجٹ میں تاخیر کی ایک اور وجہ آئندہ مالی منصوبے کے مالیاتی خدوخال پر حکومت اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان جاری مشاورت بھی ہے۔
پاکستان اس وقت محصولات کے اہداف، اخراجات میں کفایت شعاری اور مالیاتی استحکام سے متعلق اقدامات پر مذاکرات کر رہا ہے، جس کے باعث بجٹ کی حتمی تشکیل میں آئی ایم ایف سے مشاورت مرکزی حیثیت اختیار کر گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکام بجٹ اخراجات کو حتمی شکل دینے اور ٹیکس اقدامات کا اعلان کرنے سے قبل آئی ایم ایف کی توقعات سے وسیع ہم آہنگی یقینی بنانا چاہتے ہیں۔
مذاکرات میں شامل ایک ذریعے نے کہا، ’’حکومت بجٹ کے اعلان کے بعد آخری وقت میں تبدیلیوں سے بچنا چاہتی ہے۔ اہم مالیاتی اعداد و شمار پر آئی ایم ایف کا اعتماد اور اتفاقِ رائے حاصل کرنا ناگزیر سمجھا جا رہا ہے۔‘‘
یہ بجٹ ایسے وقت میں پیش کیا جا رہا ہے جب پاکستان آئی ایم ایف کی عائد کردہ سخت مالیاتی پابندیوں کے تحت معاشی استحکام کے حصول کی کوشش کر رہا ہے۔ حکومت آئندہ مالی سال میں مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 4 فیصد تک پہنچانے کا ہدف رکھتی ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں قدرے زیادہ ہے، تاہم مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کے خطرات بدستور موجود ہیں۔
پاکستان کو توقع ہے کہ آئندہ مالی سال کے دوران اوسط مہنگائی کی شرح 8.2 فیصد رہے گی۔