ایران معاہدے میں چند دن لگ سکتے ہیں، مارکو روبیو
- آبنائے ہرمز کو ہر صورت کھلا رکھنا ہوگا، امریکی وزیر خارجہ
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے منگل کے روز کہا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے مذاکرات میں چند دن لگ سکتے ہیں، جس سے فوری طور پر تنازع کے خاتمے کی امیدوں کو دھچکا پہنچا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا جب ایک روز قبل امریکی افواج نے جنوبی ایران میں وہ حملے کیے جنہیں واشنگٹن نے دفاعی کارروائیاں قرار دیا تھا۔
بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کرنے والی کشتیوں اور میزائل لانچنگ سائٹس سمیت مختلف اہداف پر حملوں کی وضاحت کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو ہر صورت کھلا رہنا چاہیے۔
انہوں نے بھارت کے شہر جے پور جاتے ہوئے اپنے طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کو کھلا رہنا ہوگا، ایک نہ ایک طریقے سے یہ کھلا رہے گا، اس لیے اسے کھلا ہونا چاہیے۔
اگرچہ اپریل کے آغاز سے جنگ بندی نافذ ہے، تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ نے پیر کو ایک بیان میں کہا کہ اس نے ایرانی افواج سے لاحق خطرات کے پیش نظر اپنے فوجیوں کے تحفظ کے لیے تازہ حملے کیے ہیں۔
دوسری جانب ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایک دشمن اسٹیلتھ ڈرون کو اپنے نئے فضائی دفاعی نظام کے ذریعے مار گرایا ہے، تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ ڈرون کہاں سے آیا تھا۔
امریکی حملے ایسے وقت میں کیے گئے جب ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار اور وزیر خارجہ دوحہ میں قطر کے وزیراعظم سے ملاقاتیں کر رہے تھے۔ ان مذاکرات کا مقصد امریکہ کے ساتھ تین ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ممکنہ معاہدہ طے کرنا ہے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکہ سفارتکاری کو کامیاب بنانے کے لیے ہر ممکن موقع دے گا، اس سے قبل کہ ایران کے معاملے سے کسی اور طریقے سے نمٹا جائے۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور جوہری معاملے پر حقیقی، اہم اور وقت کی پابندی والے مذاکرات کے حوالے سے ایک مضبوط پیش رفت موجود ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی پیر کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات اچھی طرح جاری ہیں، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ناکامی کی صورت میں مزید حملے کیے جا سکتے ہیں۔
ادھر اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل لبنان میں ایران نواز حزب اللہ کے خلاف حملے مزید تیز کرے گا۔ اسرائیلی فوج نے بعد ازاں لبنان کی وادی بقاع اور دیگر علاقوں میں حزب اللہ کے انفراسٹرکچر پر حملوں کی تصدیق بھی کی۔
دوحہ مذاکرات
ایرانی وفد کے دورہ مہمِ دوحہ سے باخبر ایک عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ ان گفتگو کا محور آبنائے ہرمز اور ایران کے پاس افزودہ یورینیم کے ذخائر تھے، جبکہ ایرانی مرکزی بینک کے گورنر نے حتمی معاہدے کے حصے کے طور پر منجمد ایرانی اثاثوں کی ممکنہ واگزاری پر تبادلہ خیال کے لیے اس میں شرکت کی۔
اس سے قبل ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا تھا کہ جوہری امور پر مذاکرات فریم ورک معاہدے پر اتفاق کے بعد ہی ہوں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ اس جنگ میں ان کا بنیادی ہدف ایران کو اس کے اعلیٰ افزودہ یورینیم کے ذریعے جوہری ہتھیار تیار کرنے سے روکنا ہے۔ دوسری جانب تہران مسلسل ایسے کسی بھی منصوبے کی تردید کرتا آیا ہے۔
ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ ہونے والے اس ممکنہ معاہدے میں آبنائے ہرمز کے انتظام کے حوالے سے کوئی مخصوص تفصیلات شامل نہیں ہیں، جہاں سے دنیا کے تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی کل سپلائی کا لگ بھگ پانچواں حصہ گزرتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران گزرنے والے جہازوں سے کوئی ٹول ٹیکس وصول نہیں کرے گا، البتہ وہاں فراہم کی جانے والی خدمات مثلاً نیویگیشن اور ماحولیاتی تحفظ کے اقدامات کے اخراجات وصول کیے جائیں گے، جو کہ عمان کے ساتھ طے پانے والے ایک پروٹوکول کے تحت ہوں گے، جو اس آبی گزرگاہ کے دوسرے کنارے پر واقع ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کے ایک سفارتی ماخذ کا حوالہ دیتے ہوئے جاپانی اخبار نکئی نے رپورٹ کیا کہ امریکہ اور ایران ایک ایسے منصوبے پر غور کر رہے ہیں جس کے تحت جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے کے تقریباً 30 دن بعد اس آبنائے کو کھول دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد سے آبنائے ہرمز سے روزانہ صرف چند درجن بحری جہاز گزر رہے ہیں، جبکہ اس سے پہلے یہاں سے روزانہ 125 سے 140 جہاز گزرا کرتے تھے۔
اس تعطل کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں شدید اچھال آیا ہے اور ایندھن، کھاد اور اشیائے خورونوش کی لاگت میں اضافہ ہوا ہے۔
منگل کو ابتدائی ایشیائی کاروباری اوقات کے دوران امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت میں پیر کے آخری کاروباری ریٹ کے مقابلے میں معمولی اضافہ دیکھا گیا، تاہم یہ جمعہ کی بندش کے مقابلے میں اب بھی 5.5 فیصد کم ہے۔