دنیا

تیل اور ایل این جی لے جانے والے جہاز آبنائے ہرمز سے گزر کر پاکستان اور چین روانہ

  • عراقی خام تیل لے جانے والا ایک سپر ٹینکر تقریباً تین ماہ پھنسے رہنے کے بعد ہفتے کے روز خلیج سے نکل گیا
شائع اپ ڈیٹ

آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے باوجود مائع قدرتی گیس (ایل این جی) اور خام تیل بردار چند بحری جہاز خلیج سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ شپنگ ڈیٹا کے مطابق دو ایل این جی ٹینکر پیر کے روز آبنائے ہرمز عبور کرتے ہوئے پاکستان اور چین کی جانب روانہ ہوئے، جبکہ عراقی خام تیل لے جانے والا ایک سپر ٹینکر تقریباً تین ماہ پھنسے رہنے کے بعد ہفتے کے روز خلیج سے نکل گیا۔

امریکا اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ کے بعد آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت شدید متاثر ہوئی ہے۔ دنیا بھر میں تیل اور ایل این جی کی تقریباً 20 فیصد حصے کی ترسیل عام طور پر اسی اہم آبی گزرگاہ سے ہوتی ہے۔

شپنگ کمپنیوں کے اعداد و شمار کے مطابق ایل این جی بردار جہاز فویرت پیر کے روز آبنائے ہرمز عبور کر رہا تھا اور توقع ہے کہ وہ منگل کو پاکستان میں اپنا کارگو اتارے گا۔ بہاماس کے پرچم تلے سفر کرنے والے اس جہاز نے قطر کی راس لفان بندرگاہ سے مارچ کے آخر میں ایل این جی لوڈ کی تھی۔

اسی طرح الریان نامی ایل این جی ٹینکر بھی آبنائے ہرمز سے نکل چکا ہے اور اس کے جون کے آخر میں چین پہنچنے کی توقع ہے۔ دوسری جانب ایگل ویرونا نامی سپر ٹینکر، جو تقریباً 20 لاکھ بیرل عراقی خام تیل لے کر جا رہا ہے، ہفتے کے روز آبنائے ہرمز سے نکلنے میں کامیاب ہوا۔ یہ جہاز 12 جون کو چین کی ننگبو بندرگاہ پہنچے گا۔

رپورٹس کے مطابق جنگ سے قبل آبنائے ہرمز سے روزانہ 125 سے 140 بحری جہاز گزرتے تھے، تاہم اب صورتحال انتہائی محدود ہو چکی ہے۔ خلیج میں موجود سینکڑوں جہازوں پر تقریباً 20 ہزار ملاح اب بھی پھنسے ہوئے ہیں، جبکہ کئی جہاز ایران کی جانب سے مقرر کردہ مخصوص راستوں کے ذریعے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔