اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، 100 انڈیکس 1.2 فیصد پوائنٹس بڑھ گیا
- بینچ مارک انڈیکس 164,831.42کی سطح پر بند
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بدھ کے روز خریداری کا رجحان برقرار رہا، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ بہت جلد ختم ہو جائے گی۔ اس بیان کے بعد مارکیٹ میں اعتماد بحال ہوا اور بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس نے 1900 سے زائد پوائنٹس یا 1.2 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا۔
کاروباری دن کے بیشتر حصے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس نے اپنی منڈلاتی ہوئی اڑان کو برقرار رکھا۔ اگرچہ صبح کے آغاز میں مارکیٹ میں تھوڑا اتارجڑھاؤ دیکھا گیا اور انڈیکس معمولی حد تک نیچے بھی گرا، تاہم اہم شعبوں میں تیز خریداری کے باعث مارکیٹ نے فوری ریکوری کی اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو گیا۔ مثبت رجحان کی بدولت مڈ سیشن کے دوران انڈیکس مسلسل اوپر کی طرف بڑھتا رہا۔
مارکیٹ میں مجموعی طور پر جارحانہ خریداری کا انداز غالب رہا، بالخصوص سیشن کے دوسرے ہاف میں سرمایہ کاروں نے جم کر شیئرز خریدے، جس سے بینچ مارک انڈیکس کاروبار کے دوران 165,081.69 کی بلند ترین سطح کو چھو گیا۔
کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 1,934.74 پوائنٹس یا 1.19 فیصد اضافے کے ساتھ 164,831.42 کی سطح پر بند ہوا۔
منگل کوبھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے مضبوط ریکوری دکھائی تھی، جب امریکہ اور ایران مذاکرات سے متعلق جغرافیائی سیاسی خدشات میں کمی اور عالمی تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی نے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا۔ اس روز کے ایس ای-100 انڈیکس 1,091.66 پوائنٹس یا 0.67 فیصد اضافے کے ساتھ 162,896.68 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
عالمی سطح پر ایشیائی اسٹاکس بدھ کے روز مسلسل چوتھے سیشن میں کمی کا شکار رہے، کیونکہ جنگ سے پیدا ہونے والی مہنگائی کے خدشات نے بانڈ مارکیٹس پر دباؤ بڑھا دیا اور سرمایہ کار امریکی کمپنی اینویڈیا کی آمدنی کے نتائج کے منتظر رہے۔
عالمی بانڈ مارکیٹس میں فروخت کا رجحان برقرار رہا، کیونکہ سرمایہ کار اس توقع کو بڑھا رہے ہیں کہ امریکی فیڈرل ریزرو کو اس سال شرح سود میں اضافہ کرنا پڑ سکتا ہے۔ 10 سالہ امریکی ٹریژری ییلڈ 4.687 فیصد اور 30 سالہ ییلڈ 5.198 فیصد تک پہنچ گئی، جو 2007 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔
برینٹ خام تیل کی قیمت معمولی کمی کے ساتھ 0.2 فیصد گر کر 111.07 ڈالر فی بیرل پر آ گئی، تاہم یہ اب بھی 110 ڈالر سے اوپر برقرار رہی۔
دوسری جانب بیجنگ میں چینی صدر شی جن پنگ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی میزبانی کریں گے، جو امریکی صدر ٹرمپ کے حالیہ دورے کے ایک ہفتے کے اندر ہونے والی اہم ملاقات ہے۔
ایم ایس سی آئی کا ایشیا پیسیفک شیئرز انڈیکس (جاپان کے علاوہ) 0.7 فیصد گر گیا، جاپان کا نکی انڈیکس 1.6 فیصد، جنوبی کوریا کا کوسپی 2 فیصد، جبکہ چینی بلیو چپس 0.4 فیصد اور ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ 0.7 فیصد نیچے آیا۔
دوسری جانب انٹربینک مارکیٹ میں بدھ کو ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں استحکام دیکھا گیا۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی ڈالر کے مقابلے میں 0.01 روپے (ایک پیسے) کے معمولی اضافے کے ساتھ 278.56 پر بند ہوئی۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آل شیئر انڈیکس کے کاروباری حجم (والیم) میں معمولی کمی دیکھی گئی اور یہ گزشتہ سیشن کے 391.93 ملین شیئرز کے مقابلے میں کم ہو کر 386.39 ملین شیئرز رہا۔ اس کے ساتھ ہی شیئرز کی مجموعی مالیت بھی گزشتہ کاروباری دن کے 22.97 ارب روپے سے گر کر 20.12 ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔
سُوئی سدرن گیس (ایس ایس جی سی) 25.26 ملین شیئرز کے کاروبار کے ساتھ پہلے نمبر پر رہی، جبکہ بینک آف پنجاب (بی او پی) 24.57 ملین شیئرز کے ساتھ دوسرے اور ورلڈ کال ٹیلی کام (ڈبلیوٹی ایل) 22.78 ملین شیئرز کے ساتھ تیسرے نمبر پر سب سے زیادہ فعال رہی۔
بدھ کو مارکیٹ میں مجموعی طور پر 483 کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا، جن میں سے 302 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ اور 141 کے ریٹس میں کمی دیکھی گئی جبکہ 40 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیں مستحکم رہیں۔