پاکستان

محسن نقوی کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے 90 منٹ طویل ملاقات

  • ملاقات میں خطے میں کشیدگی کم کرنے اور تہران و واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا
شائع اپ ڈیٹ

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اتوار کو تہران کے صدارتی محل میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے 90 منٹ طویل ملاقات کی، جس میں خطے میں کشیدگی کم کرنے اور تہران و واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان خطے میں سفارتی سرگرمیاں تیز کرتے ہوئے ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکراتی عمل میں سہولت کار کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

سرکاری اور سفارتی ذرائع کے مطابق ملاقات میں ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی اور وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی شریک تھے، جس سے مذاکرات کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔

ایران کی سرکاری خبر ایجنسی کے مطابق صدر مسعود پزشکیان نے خطے میں جنگ بندی کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز و فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کی تعریف کی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کی مسلسل سفارتی کاوشیں خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے فروغ میں مثبت کردار ادا کریں گی۔

ایرانی صدر نے اسلامی ممالک کے ساتھ مخلصانہ اور مستحکم تعلقات کی خواہش کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مسلم ممالک کے درمیان اتحاد اور ہم آہنگی بیرونی مداخلت کے امکانات کو کم کر سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم دنیا کا باہمی تعاون دیرپا امن کی بنیاد بن سکتا ہے۔

صدر پزشکیان نے پاکستان کے ساتھ اقتصادی تعاون بڑھانے کے امکانات پر بھی زور دیا اور سرحدی تجارت اور تجارتی روابط کے فروغ کے لیے اسلام آباد کے اقدامات کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، معیشت، سائنس، ثقافت، تعلیم اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔

ملاقات کے دوران وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہیں اور انہیں مشترکہ تاریخ، ثقافت اور عوامی روابط کی بنیاد پر مزید مستحکم بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام ایرانی قوم کے لیے گہرا احترام اور محبت رکھتے ہیں۔

بات چیت میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی سلامتی کی صورتحال اور ایران و امریکا کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے امکانات بھی زیر غور آئے۔ محسن نقوی دو روزہ سرکاری دورے پر ہفتہ کو تہران پہنچے تھے جہاں ان کا استقبال ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے کیا۔

پاکستان اس وقت پس پردہ سفارت کاری کو تیز کر رہا ہے تاکہ ایران اور امریکا کے درمیان دوبارہ مذاکرات کی راہ ہموار کی جا سکے اور خطے میں مزید کشیدگی کو روکا جا سکے، کیونکہ موجودہ تنازع عالمی توانائی منڈی اور ترقی پذیر معیشتوں پر بھی دباؤ ڈال رہا ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026