رائے

بجٹ 2026-27 اور مالیاتی انصاف

  • پاکستان اس وقت ایشیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں ٹیکس نظام سب سے زیادہ منتشر اور کاروبار مخالف بن چکا ہے
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان میں ایک بار پھر بجٹ سازی کا موسم روایتی سرگرمیوں کے ساتھ شروع ہو چکا ہے: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے مشاورت، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے محصولات کے اہداف، اور ’’اضافی محصولات کے اقدامات‘‘ کے مطالبات۔ تاہم، زیادہ اہم سوال یہ نہیں کہ مزید کتنا ٹیکس عائد کیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ ٹیکس کس پر لگایا جائے، کس طریقے سے لگایا جائے اور کیا موجودہ ٹیکس نظام خود معیشت کے لیے نقصان دہ نہیں بن چکا؟

ورلڈ بینک کی 2023 کی پالیسی رپورٹ ’’سرکاری محصولات کو مضبوط بنانا: ایک منصفانہ، مؤثر اور پائیدار ٹیکس نظام کی جانب‘‘ اس سال کے بجٹ مباحثے کے لیے ایک اہم بنیاد فراہم کرتی ہے۔ پالیسی نوٹ 6 کھل کر اس حقیقت کا اعتراف کرتا ہے جس کی نشاندہی پاکستان میں آزاد ماہرینِ معیشت اور ٹیکس امور کے ماہرین دہائیوں سے کرتے آ رہے ہیں: ملک کو صرف کم ٹیکس وصولیوں کا مسئلہ درپیش نہیں بلکہ ایک ایسا مالیاتی نظام بھی درپیش ہے جو ساختی طور پر غیر منصفانہ اور بگاڑ پیدا کرنے والا ہے۔ یہ نظام معاشرے کے ایک محدود اور باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرنے والے طبقے پر غیر متناسب بوجھ ڈالتا ہے، جبکہ معیشت کے بڑے شعبے یا تو کم ٹیکس دیتے ہیں یا مکمل طور پر ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں۔

پالیسی نوٹ کے مطابق پاکستان میں ٹیکس اور جی ڈی پی کا تناسب 1980 کی دہائی میں تقریباً 14 فیصد تھا جو اب کم ہو کر تقریباً 10 سے 12 فیصد رہ گیا ہے، حالانکہ ملکی معیشت میں جی ڈی پی کے 22 فیصد سے زائد تک ٹیکس وصول کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ یہی تضاد پاکستان کے مالیاتی بحران کی بنیادی وجہ ہے۔ مسئلہ ٹیکس ادا کرنے کی صلاحیت کا فقدان نہیں بلکہ مراعات یافتہ شعبوں پر ٹیکس عائد کرنے میں سیاسی ہچکچاہٹ اور پہلے سے دستاویزی کاروباری طبقے اور تنخواہ دار افراد پر مزید بوجھ ڈالنے کی پالیسی ہے۔

ورلڈ بینک نے درست نشاندہی کی ہے کہ پاکستان کا ٹیکس نظام غیر معمولی حد تک رجعت پسندانہ ہے۔ ملک کے غریب ترین گھرانے اپنی آمدن کے تناسب سے معاشرے کے امیر ترین طبقات کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ٹیکس بوجھ برداشت کرتے ہیں۔ یہ موجودہ مالیاتی ڈھانچے پر ایک سنگین فردِ جرم ہے۔ ایک ایسا ملک جہاں بالواسطہ ٹیکس روزمرہ اشیائے صرف، بجلی، ایندھن، موبائل استعمال اور بینکاری لین دین پر حاوی ہوں، وہاں صرف کاغذی طور پر ترقی پسند انکم ٹیکس شرحوں کی بنیاد پر مالیاتی انصاف کا دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔

اس ساختی ناانصافی کی سب سے واضح مثال اعلیٰ ریاستی عہدے داروں اور عام شہریوں پر عائد ٹیکس کے فرق سے سامنے آتی ہے۔ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی تنخواہوں سے متعلق منظرعام پر آنے والے اعدادوشمار کے مطابق تقریباً 6 لاکھ 90 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ لینے والے ایک جج نے مبینہ طور پر لگ بھگ 62 ہزار روپے انکم ٹیکس ادا کیا، جو مختلف رعایتوں اور استثنیٰ کے بعد تقریباً 9 فیصد مؤثر شرح بنتی ہے۔ اس کے برعکس نجی شعبے کا ایک تنخواہ دار ملازم، جو اتنی ہی آمدن رکھتا ہو، عام ٹیکس شرح کے تحت تقریباً ایک لاکھ 73 ہزار روپے ٹیکس ادا کرتا ہے۔

دوسری جانب ایک غریب موٹر سائیکل سوار، پٹرول خریدتے وقت، اپنی آمدن سے قطع نظر فی لیٹر تقریباً 117 روپے پیٹرولیم لیوی اور دیگر بالواسطہ ٹیکس ادا کرتا ہے۔ یوں روزانہ مزدوری کرنے والا شخص، جو روزگار کے لیے سفر کرتا ہے، اپنی کھپت پر اس سے کہیں زیادہ مؤثر ٹیکس بوجھ برداشت کرتا ہے جتنا اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے ریاستی عہدے دار اپنی آمدن پر کرتے ہیں۔

یہ صورتِ حال نہ اتفاقیہ ہے اور نہ ہی لاعلمی کا نتیجہ۔ پاکستان کا جابرانہ ٹیکس ڈھانچہ رفتہ رفتہ ایک ایسے نظام میں تبدیل ہو چکا ہے جہاں سیاسی اثرورسوخ رکھنے والے اور آئینی تحفظ یافتہ طبقات مراعات حاصل کرتے ہیں، جبکہ بوجھ کھپت، یوٹیلیٹی بلوں، ایندھن اور دستاویزی نجی شعبے کی آمدن پر منتقل کر دیا جاتا ہے۔

کوئی بھی سنجیدہ مالیاتی اصلاح اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک اس دہرے معیار کا خاتمہ نہیں کیا جاتا۔ جب آئینی مساوات کی تشریح کرنے والے طبقات خود مالیاتی عدم مساوات سے فائدہ اٹھا رہے ہوں تو ٹیکس نظام اپنی اخلاقی ساکھ کھو دیتا ہے۔

لہٰذا مسئلہ صرف کم محصولات جمع ہونے کا نہیں بلکہ مالیاتی ڈھانچے میں افقی اور عمودی انصاف کے انہدام کا ہے۔ جب تک ریاستی نظام میں موجود مراعات، استثنیٰ اور ترجیحی سلوک ختم نہیں کیے جاتے، اس وقت تک بالواسطہ ٹیکسوں اور پیٹرولیم لیوی میں اضافے کے ذریعے محصولات بڑھانے کی کوششیں معاشی ناانصافی اور عوامی بداعتمادی کو مزید گہرا کرتی رہیں گی۔

ورلڈ بینک کے پالیسی نوٹ 16 میں کئی ایسے شعبوں کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں اب بھی مؤثر ٹیکس وصولی ممکن ہے، جن میں زرعی آمدن پر ٹیکس، شہری زمین اور جائیداد پر ٹیکس، ٹیکس چھوٹ میں کمی، وفاقی و صوبائی ٹیکسوں میں ہم آہنگی، اور ٹیکس نظام کو سادہ بنانا شامل ہیں۔ جیسا کہ ان کالموں میں بارہا نشاندہی کی جاتی رہی ہے، اس تشخیص کا بڑا حصہ درست ہے۔ تاہم اصل مسئلہ یہ ہے کہ بین الاقوامی ادارے اکثر پاکستان کے مالیاتی بحران کو ایک تکنیکی مسئلہ سمجھتے ہیں، حالانکہ یہ بنیادی طور پر آئینی اور سیاسی معیشت کا مسئلہ ہے۔

پاکستان اس وقت ایشیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں ٹیکس نظام سب سے زیادہ منتشر اور کاروبار مخالف بن چکا ہے۔ ایف بی آر کے ساتھ متعدد صوبائی ریونیو ادارے، ایک دوسرے سے متصادم قواعد، مختلف تعریفیں، متداخل اختیارات، الگ الگ قوانین اور بار بار کی قانون سازی موجود ہے۔ ورلڈ بینک بھی اس حقیقت کو تسلیم کرتا ہے کہ ایف بی آر کے ساتھ بارہ صوبائی محصولات اداروں کی موجودگی نقلِ کار، کرایہ خوری اور ٹیکس تعمیل کے بوجھ میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔ تاہم عملی طور پر یہ ادارہ جاتی انتشار اس سے کہیں زیادہ سنگین ہو چکا ہے، خصوصاً جولائی 2025 کے بعد صوبائی سیلز ٹیکس کے دائرہ کار میں توسیع کے نتیجے میں، جب صوبوں نے چند مستثنیٰ شعبوں کے علاوہ تقریباً تمام خدمات پر ٹیکس عائد کرنا شروع کر دیا، جبکہ پرانے ’’پازیٹو لسٹ‘‘ نظام سے ورثے میں ملنے والے متضاد قواعد بھی برقرار رکھے گئے۔

اسی لیے رواں سال کا بجٹ محض ٹیکس شرحوں میں اضافے کی ایک اور مشق نہیں بننا چاہیے۔ پاکستان اس حد سے آگے نکل چکا ہے جہاں ضرورت سے زیادہ ٹیکس سرمایہ کاری، برآمدات اور معیشت کی دستاویزی شکل کو نقصان پہنچانے لگتے ہیں۔ اب ملک کو محض وقتی اقدامات نہیں بلکہ مالیاتی ڈھانچے کی بنیادی تشکیلِ نو درکار ہے۔

بجٹ 2026-27 کے لیے پہلی تجویز ایک ایسے متحدہ قومی ٹیکس رابطہ فریم ورک کے قیام کی ہونی چاہیے جو بالآخر صوبائی خودمختاری کے آئینی تحفظ کے تحت ایک وفاقی نوعیت کے ٹیکس ادارے کی بنیاد بن سکے۔ پاکستان مزید اس متوازی نظام کا متحمل نہیں ہو سکتا جہاں اشیا اور خدمات پر الگ الگ سیلز ٹیکس نافذ ہوں اور ایک ہی کاروباری لین دین مختلف اداروں کی مختلف تشریحات کی زد میں آ جائے۔ اس وقت کاروباری ادارے پیداوار بڑھانے کے بجائے زیادہ وقت ٹیکس درجہ بندیوں کے دفاع میں صرف کر رہے ہیں۔

دوسری اہم ضرورت ودہولڈنگ ٹیکسوں کے اس نظام کو معقول بنانا ہے جس نے پاکستان کو ایک مفروضاتی اور سزاپر مبنی ٹیکس ڈھانچے میں تبدیل کر دیا ہے۔ آج وفاقی محصولات کا تقریباً پورا نظام بینکوں، یوٹیلیٹی اداروں، ٹیلی کام کمپنیوں، رجسٹریشن حکام اور ودہولڈنگ ٹیکس ایجنٹس کے ذریعے جمع کیے گئے ٹیکسوں پر چل رہا ہے، نہ کہ مؤثر ٹیکس جانچ پڑتال کی حقیقی صلاحیت پر۔ اس نظام کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ دستاویزی معیشت سزا بھگتتی ہے کیونکہ باقاعدہ ٹیکس ادا کرنے والے شعبے آسان ہدف بن جاتے ہیں، جبکہ غیر دستاویزی شعبے سیاسی تحفظ حاصل کیے رکھتے ہیں۔

تیسری تجویز یہ ہونی چاہیے کہ برآمدی شعبے کو ضرورت سے زیادہ ٹیکسوں اور ریفنڈز میں تاخیر کے موجودہ چکر سے نکالا جائے۔ پاکستان ایک طرف برآمدات کے فروغ کا دعویٰ کرتا ہے، جبکہ دوسری طرف ایڈوانس ٹیکس، سپر ٹیکس، انفرااسٹرکچر لیویز، خدمات پر صوبائی سیلز ٹیکس، توانائی سرچارجز اور ریفنڈز میں تاخیر کے ذریعے برآمد کنندگان پر مسلسل بوجھ ڈالتا ہے۔ موجودہ مالیاتی ڈھانچے میں موجود برآمدات مخالف رجحان صنعتی تنزلی کی بڑی وجوہات میں شامل ہو چکا ہے۔

چوتھی بات یہ کہ جائیداد پر ٹیکس کے نظام کو ضرور معقول بنایا جانا چاہیے، لیکن ایسے آئینی طور پر متنازع تجربات کے ذریعے نہیں جیسے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی شق 7E، جسے پاکستان کی وفاقی آئینی عدالت نے 7 مئی 2026 کو آئین سے متصادم قرار دیا۔ اس شق کے تحت جائیداد کی ملکیت کو فرضی آمدن میں تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔

شہری جائیداد پر ٹیکس آئینی طور پر صوبائی اختیار کا معاملہ ہے اور اسے اسی دائرہ اختیار میں رہنا چاہیے۔ تاہم صوبوں کو چاہیے کہ وہ جائیدادوں کی قیمتوں کے تعین کے نظام کو جدید بنائیں، لینڈ ریکارڈ کو ڈیجیٹلائز کریں اور شہری علاقوں میں قیاس آرائی پر مبنی زمینوں کی خرید و فروخت پر ترقی پسند اور مستقل نوعیت کا ٹیکس عائد کریں، بجائے اس کے کہ غیر پیداواری سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جائے۔

ورلڈ بینک نے درست نشاندہی کی ہے کہ خالی شہری زمینوں اور قیاس آرائی پر مبنی رئیل اسٹیٹ سرمایہ کاری پر کم ٹیکس عائد ہونے سے معیشت میں بگاڑ پیدا ہوا ہے۔ پاکستان کی اشرافیہ پر مبنی سیاسی معیشت نے تاریخی طور پر صنعتی سرمایہ کاری کے بجائے غیر پیداواری منافع خوری کو ترجیح دی، کیونکہ رئیل اسٹیٹ میں قیاس آرائی پر مبنی سرمایہ کاری کو مینوفیکچرنگ اور برآمدات کے مقابلے میں زیادہ مالیاتی مراعات حاصل رہی ہیں۔

پانچواں اہم شعبہ زرعی آمدن پر ٹیکس کا ہے، جہاں نعروں کے بجائے دیانت داری کی ضرورت ہے۔ موجودہ نظام حقیقی آمدن کے بجائے فرسودہ ایکڑوں کی بنیاد پر زمین پر ٹیکس عائد کرتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ لاکھوں روپے صرف زمین کرائے پر دے کر کمانے والے بڑے زمیندار معمولی ٹیکس ادا کرتے ہیں اور پورا نظام محض نمائشی کارروائی بن کر رہ گیا ہے۔

اصلاحات کے عمل میں چھوٹے کسانوں، غیر حاضر زمینداروں اور بڑے تجارتی زرعی اداروں کے درمیان واضح فرق کرنا ناگزیر ہے۔ ان تمام طبقات کے ساتھ یکساں سلوک نہ صرف معاشی طور پر غیر معقول ہوگا بلکہ سیاسی طور پر بھی عدم استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔

ورلڈ بینک کے مطابق وفاقی اصلاحات، زرعی ٹیکس اور زمین پر ٹیکس کے ذریعے وقت کے ساتھ اضافی طور پر جی ڈی پی کے 5 سے 6 فیصد کے برابر محصولات حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ تاہم پائیدار محصولات صرف مزید بوجھ ڈالنے سے حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ پالیسی نوٹ 6 بجا طور پر تسلیم کرتا ہے کہ جمود کا شکار معیشت سے مسلسل مزید محصولات نکالنے کی کوشش بالآخر الٹا نقصان پہنچاتی ہے۔ اسلام آباد میں پالیسی سازوں کو اس نکتے پر خاص توجہ دینی چاہیے، جہاں اکثر زیادہ ٹیکس شرحوں کو زیادہ محصولات کے مترادف سمجھ لیا جاتا ہے۔

پاکستان کا اصل بحران کمزور پیداواری نمو، صنعتی مسابقت میں کمی اور معیشت کے دستاویزی حصے کے سکڑنے کا ہے۔ کوئی بھی ٹیکس نظام اس وقت تک پائیدار نہیں رہ سکتا جب تک باقاعدہ اور دستاویزی معیشت پر مسلسل بوجھ ڈالا جاتا رہے جبکہ غیر رسمی اور سیاسی تحفظ یافتہ معیشت پھیلتی رہے۔

چند ہی شعبے ایسے ہیں جو پاکستان کو زرمبادلہ، روزگار اور عالمی ڈیجیٹل معیشت میں مؤثر شمولیت کے اتنے واضح مواقع فراہم کر سکتے ہیں جتنے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا شعبہ فراہم کرتا ہے۔ مالی سال 2024-25 کے اعدادوشمار اس صلاحیت کو نمایاں کرتے ہیں، جہاں آئی ٹی خدمات کی برآمدات 18 فیصد سالانہ اضافے کے ساتھ ریکارڈ 3.8 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں۔

ایشیائی ترقیاتی بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان عالمی سطح پر گیگ اور فری لانسنگ کے شعبے میں پیشہ ور افراد کی تعداد کے اعتبار سے تیسرے نمبر پر ہے۔ اس مضبوط موجودگی کی عکاسی اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعدادوشمار سے بھی ہوتی ہے، جن کے مطابق فری لانسرز اور ریموٹ ورکرز کی آمدن مالی سال 2024-25 میں تقریباً دوگنی ہو کر 77 کروڑ 90 لاکھ امریکی ڈالر تک پہنچ گئی۔ یہ رفتار رواں مالی سال میں بھی برقرار ہے، جہاں ’’کمپیوٹر اور انفارمیشن سروسز فری لانسنگ‘‘ کی مد میں برآمدی آمدن پہلے نو ماہ میں 85 کروڑ 60 لاکھ امریکی ڈالر تک پہنچ گئی، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 51 فیصد زیادہ ہے۔

تاہم اس نمایاں ترقی کے باوجود عالمی مسابقت کے تناظر میں پاکستان کی مالی حیثیت اب بھی محدود ہے۔ مثال کے طور پر بھارت کی ٹیکنالوجی صنعت نے 2024-25 میں اندازاً 224 ارب امریکی ڈالر کی برآمدات کیں اور اس شعبے میں تقریباً 58 لاکھ افراد کو روزگار حاصل تھا۔ اس فرق کو کم کرنے میں ایک ترقی پسند اور مستقبل شناس ٹیکس پالیسی کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے، جو اس شعبے کو ترقی کے اگلے مرحلے تک لے جانے کے لیے مؤثر محرک ثابت ہو۔

انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی شق 154A کے تحت پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ (پی ایس ای بی) میں رجسٹرڈ اداروں کی آئی ٹی برآمدی آمدن پر صرف 0.25 فیصد رعایتی فائنل ٹیکس عائد ہوتا ہے۔ تاہم یہ اہم مالیاتی سہولت 30 جون 2026 کو ختم ہونے والی ہے۔ اس معاون پالیسی میں توسیع ناگزیر ہے کیونکہ یہی رعایت آئی ٹی شعبے کی مسلسل توسیع اور ترقی کا بنیادی محرک سمجھی جاتی ہے۔

مزید یہ کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد صوبے خدمات پر سیلز ٹیکس کے الگ الگ نظام چلا رہے ہیں، جہاں مختلف شرحیں، استثنیٰ، رجسٹریشن کی حدیں اور تعمیلی طریقہ کار موجود ہیں۔ اس صورتحال نے ٹیکس نظام کو مزید پیچیدہ اور کاروباری طبقے کے لیے مشکلات کا باعث بنا دیا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ وفاق اور صوبے مل کر آئی ٹی خدمات پر سیلز ٹیکس کے نظام میں ہم آہنگی پیدا کریں۔

لہٰذا بجٹ 2026-27 کو آئی ایم ایف دور کی عارضی محصولات بڑھانے کی سوچ سے نکل کر طویل المدتی مالیاتی تعمیرِ نو کی جانب بڑھنا ہوگا۔ پاکستان کو ایک ایسا ٹیکس نظام درکار ہے جو کم شرحوں، وسیع بنیاد، پیشگی وضاحت اور وفاقی و صوبائی ہم آہنگی پر مبنی ہو، تاکہ سرمایہ کاری، برآمدات اور معیشت کی دستاویزی شکل کی حوصلہ افزائی کی جا سکے، نہ کہ پیداواری سرگرمیوں کو مجرمانہ بنا دیا جائے۔

اگر آنے والا بجٹ محض موجودہ ٹیکس شرحوں میں مزید اضافہ کرتا ہے، ودہولڈنگ ٹیکس نظام کو مزید وسعت دیتا ہے اور منی بجٹ طرز کے نئے محصولات نافذ کرتا ہے تو ریاست کو وقتی آمدن تو حاصل ہو سکتی ہے، لیکن اس کی قیمت سرمائے کے انخلا، صنعتی زوال اور عوامی بداعتمادی کی صورت میں ادا کرنا پڑے گی۔

مالیاتی پائیداری، عوام اور معیشت کو نچوڑنے سے حاصل نہیں کی جا سکتی۔ اب پالیسی سازوں کے سامنے اصل انتخاب ٹیکس لگانے یا نہ لگانے کا نہیں بلکہ مالیاتی انصاف اور مسلسل مالیاتی استحصال کے درمیان ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026ء