اداریہ

معیشت کی صورتحال

شائع اپ ڈیٹ

وزارتِ خزانہ نے جولائی تا مارچ 2026 کے وفاقی اور صوبائی مالیاتی آپریشنز کی مجموعی رپورٹ (سمری) جاری کردی ہے، یہ ایک ایسی اشاعت ہے جس کے ساتھ ایسا کوئی تجزیہ شامل نہیں جو غیر مشروط طور پر انتظامیہ کی پالیسیوں کے حق میں ہو۔

تاہم اسی روز اسٹیٹ بینک نے اپنی ششماہی (جولائی تا دسمبر) رپورٹ جاری کی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں میکرو اکنامک استحکام مزید مضبوط ہوا ہے، یہ وہ دعویٰ ہے جو وزارتِ خزانہ کی جانب سے بارہا کیا جاتا رہا ہے۔ البتہ رپورٹ میں مزید نشاندہی کی گئی کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ، جس کا آغاز رواں سال 28 فروری کو ہوا، پاکستان کے میکرو اکنامک منظرنامے کے لیے سنگین خطرات پیدا کررہی ہے جس سے عالمی غیر یقینی صورتحال کے درمیان مہنگائی، تجارتی بہاؤ اور معاشی ترقی کے حوالے سے خدشات جنم لے رہے ہیں، یہ ایک ایسا مشاہدہ تھا جس کا جولائی تا دسمبر کے اعداد و شمار سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ جنگ کے ایک ماہ بعد یعنی مارچ میں بیرونی ترسیلاتِ زر میں 33.2 فیصد کا غیر معمولی اضافہ ہوا جو 28 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جس نے ادائیگیوں کے توازن کی صورتحال کو بڑی تقویت بخشی، تاہم رپورٹس بتاتی ہیں کہ متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانی تارکینِ وطن کو اپنے ورک ویزوں کی تجدید میں کچھ چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، خاص طور پر ان کے 3.45 ارب ڈالر کے قرض کی واپسی کے مطالبےکے بعد جسے گزشتہ ماہ کلیئر کیا گیا تھا جب کہ سعودی عرب نے پاکستان کے لیے مزید 3 ارب ڈالر کے قرضے کی واپسی میں توسیع (رول اوور) کردی ہے۔

تاہم ایک حقیقت پسندانہ تقابل کے لیے جولائی تا مارچ 2026 کے مجموعی مالیاتی آپریشنز کی سمری کا موازنہ گزشتہ سال کے اسی عرصے سے کرنا ضروری ہے، جو کچھ تشویشناک عوامل پیش کرتا ہے۔ اول یہ کہ، گزشتہ مالی سال کے بجٹ میں جی ڈی پی کی شرح 3.6 فیصد تجویز کی گئی تھی جبکہ حاصل کردہ شرح 3.04 فیصد رہی، یعنی دوسرے لفظوں میں 114,692 ارب روپے کا ہدف واضح طور پر حاصل نہیں کیا جا سکا۔ رواں سال اسٹیٹ بینک کی پیشگوئی 3.75 سے 4.75 فیصد ہے جو کہ ایک پرامید شرح ہے، خاص طور پر موجودہ صنعتی ڈھانچے کے اس مسلسل شکوے کے پیشِ نظر کہ وہ علاقائی حریفوں کے مقابلے میں بہت زیادہ پیداواری لاگت (بشمول حالیہ پالیسی ریٹ میں 11.5 فیصد تک اضافہ) کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر مقابلہ کرنے سے قاصر ہیں۔ مزید برآں، یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ بند ہونے والے یونٹس کی تعداد بڑھ رہی ہے جس کا تازہ ترین عدد ’آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن‘ (اپٹما) کے مطابق 150 بتایا گیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں رواں سال کے لیے 129,567 ارب روپے کا جی ڈی پی تخمینہ غیر یقینی ہے جو جی ڈی پی کے تناسب سے ظاہر کیے گئے تمام میکرو اکنامک اشاریوں کو بے اثر یا غلط ثابت کر دے گا۔

دوم یہ کہ وفاقی حکومت کے جاری اخراجات جولائی تا مارچ 2025 کے دوران 14,588 ملین روپے رہے جبکہ رواں سال کے اسی عرصے میں یہ 14,267 ملین روپے ریکارڈ کیے گئے، یہ کمی بجٹ دستاویزات میں بھی ظاہر کی گئی تھی جس کی تمام تر بنیاد رواں سال کے لیے پالیسی ریٹ میں کمی پر رکھی گئی تھی۔ مالی سال 25-2024 کے جون میں پالیسی ریٹ 20.5 فیصد کی بلند ترین سطح پر تھا جسے جون 2025 تک کم کر کے 11.5 فیصد اور پھر 10.5 فیصد تک لایا گیا، تاہم ان توقعات کے برعکس کہ دسمبر 2025 کے آخر تک شرح میں مزید کمی آئے گی، اسے گزشتہ ماہ دوبارہ بڑھا کر 11.5 فیصد کردیا گیا۔ صورتحال کچھ بھی ہو، مقامی قرضوں کے حجم میں مسلسل اور بلا روک ٹوک اضافہ ہورہا ہے۔

مزید برآں حکومت نے گردشی قرضے کی ادائیگی کے لیے 1.25 ٹریلین روپے کا قرضہ بھی لیا جس کے سود کی ادائیگیاں معمول کے مطابق صارفین پر منتقل کر دی جاتی ہیں۔ یہ قرض اس وقت حاصل کیا گیا تھا جب پالیسی ریٹ 10.5 فیصد تھا اور یہ ابھی واضح نہیں ہے کہ پالیسی ریٹ میں 100 بیسس پوائنٹس کا حالیہ اضافہ توانائی کی قیمتوں پر اثر انداز ہوگا یا نہیں۔

تاہم، حسبِ معمول بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے طے شدہ اہداف پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام میں کٹوتیاں کر کے حاصل کیے گئے، رواں سال کے ایک ٹریلین روپے کے بجٹ ہدف کے مقابلے میں صرف 332,996 ملین روپے جاری کیے گئے جبکہ جولائی تا مارچ 2025 کے دوران یہ ادائیگی 309,408 ملین روپے رہی تھی۔

سیلز ٹیکس وفاقی حکومت کے لیے آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ رہا، جولائی تا مارچ 2025 کے اسی عرصے کے دوران جمع کیے گئے 2.8 ٹریلین روپے کے مقابلے میں رواں سال 3.1 ٹریلین روپے جمع ہوئے۔ تاہم یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ براہِ راست ٹیکسوں کا بڑا حصہ سیلز ٹیکس کی طرز پر لگائے گئے ود ہولڈنگ ٹیکسز سے حاصل ہوتا ہے جس کا بوجھ امیروں کے مقابلے غریبوں پر زیادہ پڑتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ملک میں غربت کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ نفاذِ قانون کے تحت ہونے والی وصولیوں کے لیے کوئی الگ کالم موجود نہیں ہے جو کہ ایف بی آر کے موجودہ چیئرمین کے لیے باعثِ فخر ہے اور اسی بنیاد پر وزیرِ اعظم نے مشورہ دیا ہے کہ اگلے مالی سال میں اس مد میں وصولیوں کو دوگنا کیا جائے۔ اس دوران ٹیکس دہندگان کے اس دکھ بھرے شکوے کو نظر انداز کر دیا گیا ہے جو غیر قانونی وصولیوں کے بارے میں ہے، جن کی تلافی کے لیے پہلے ٹربیونل اور پھر عدالتوں کے ایک طویل اور کٹھن عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔

اور آخر میں اعدادوشمار کا فرق جو جولائی تا مارچ 2025 میں 205,691 ملین روپے تھا، وہ 2026 کے اسی عرصے میں بڑھ کر منفی 443,554 ملین روپے تک پہنچ گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سرکاری اعداد و شمار عام عوام، ٹیکس دہندگان، نان ٹیکس دہندگان، متوسط طبقہ اور غریبوں کی مایوس کن صورتحال کے مقابلے میں کہیں زیادہ مثبت نظر آتے ہیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026