یو اے ای کی اوپیک پلس سے علیحدگی، اتحاد کیلئے بڑا امتحان
- یو اے ای کے علاوہ حالیہ برسوں میں انگولا، ایکواڈور اور قطر بھی اوپیک سے علیحدہ ہو چکے ہیں
متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کا اوپیک پلس سے علیحدہ ہونے کا فیصلہ صرف تیل پیدا کرنے والے ممالک کے کلب کے اندر ایک اور اختلاف نہیں ہے بلکہ یہ خام تیل کی سپلائی کی سیاست میں ایک اہم تبدیلی کی علامت ہے۔ فی الحال اس کے قیمتوں پر اثرات محدود رہ سکتے ہیں کیونکہ مارکیٹ اب بھی جغرافیائی سیاسی خطرات پر مرکوز ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز کے اردگرد سپلائی میں رکاوٹوں پر زیادہ توجہ ہ ے۔
تاہم درمیانی اور طویل مدت میں یہ اقدام اوپیک پلس کے نظم و ضبط کو کمزور کرتا ہے، یو اے ای کی زیادہ پیداوار کے امکانات کو بڑھاتا ہے اور عالمی تیل مارکیٹ میں مندی کا رجحان پیدا کرتا ہے۔
یو اے ای کے علاوہ حالیہ برسوں میں انگولا، ایکواڈور اور قطر بھی اوپیک سے علیحدہ ہو چکے ہیں، جس کے بعد یو اے ای چوتھا بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک بن گیا ہے جو تنظیم سے باہر ہوا ہے، اور اب گروپ میں 11 بنیادی ارکان رہ گئے ہیں۔
اس فیصلے کے مرکز میں یو اے ای کی پیداواری خواہشات ہیں۔ ابوظہبی نے اپنی تیل کی صلاحیت بڑھانے کے لیے بھاری سرمایہ کاری کی ہے اور اب وہ اس صلاحیت کو زیادہ آزادانہ طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے۔ اوپیک پلس کے تحت اس کی پیداوار کو کوٹہ سسٹم کے ذریعے محدود رکھا جاتا تھا۔ اتحاد سے نکل کر یو اے ای کو یہ آزادی مل گئی ہے کہ وہ اپنے مقررہ اہداف کے قریب یا اس سے زیادہ پیداوار کر سکے۔
رائٹرز کے مطابق یو اے ای اوپیک کے بڑے پیداواری ممالک میں شامل ہے اور اس وقت تقریباً 3.4 ملین بیرل یومیہ پیداوار کر رہا ہے، جبکہ اس کا ہدف 5 ملین بیرل یومیہ تک صلاحیت بڑھانا ہے۔
عالمی سپلائی پر فوری اثر محدود رہنے کا امکان ہے کیونکہ یو اے ای اچانک مارکیٹ میں تیل کی بڑی مقدار نہیں لا سکتا۔ برآمدات کی لاجسٹکس بھی مشرق وسطیٰ کی موجودہ جغرافیائی صورتحال کے باعث محدود ہیں، خصوصاً آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں کے سبب۔ ایچ ایس بی سی کے مطابق مختصر مدت میں مارکیٹ پر اثر کم ہوگا کیونکہ پہلے ہی خطے میں سپلائی متاثر ہے اور متبادل راستے استعمال کیے جا رہے ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ قلیل مدت میں تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی ممکن نہیں۔ بلکہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو خام تیل کی قیمتیں بلند یا غیر مستحکم رہ سکتی ہیں۔
اصل اثر بعد میں سامنے آئے گا جب علاقائی شپنگ معمول پر آئے گی۔ اس وقت یو اے ای اپنی پیداوار بتدریج بڑھا سکتا ہے۔ ایچ ایس بی سی کے مطابق مستقبل میں یو اے ای کی پیداوار 4.5 ملین بیرل یومیہ سے بھی بڑھ سکتی ہے، جبکہ بارکلیز کا کہنا ہے کہ علیحدگی کے بعد اس کی سپلائی میں مزید تیزی آ سکتی ہے۔
یہ اہم بات ہے کیونکہ تیل کی مارکیٹ کا انحصار توازن پر ہوتا ہے۔ اگر طلب مضبوط ہو تو اضافی سپلائی جذب ہو سکتی ہے، لیکن اگر عالمی طلب کمزور رہی—خصوصاً چین کی کھپت یا صنعتی سرگرمی میں کمی کی صورت میں—تو اضافی تیل ذخائر بڑھا کر قیمتوں پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔
سب سے بڑا مسئلہ صرف یو اے ای کی پیداوار نہیں بلکہ اوپیک پلس کی ساکھ ہے۔ یہ اتحاد اسی وقت مؤثر ہوتا ہے جب ارکان سمجھتے ہیں کہ اجتماعی پابندی ان کے مفاد میں ہے۔ یو اے ای کے فیصلے سے یہ پیغام جاتا ہے کہ اضافی صلاحیت رکھنے والے ممالک کوٹہ پابندیوں کے بجائے مارکیٹ شیئر کو ترجیح دے سکتے ہیں، جس سے مستقبل میں پیداوار میں کٹوتی کے فیصلے مزید مشکل ہو جائیں گے۔
سعودی عرب کے لیے یہ ایک اسٹریٹجک چیلنج ہے، کیونکہ وہ اوپیک پلس میں سپلائی مینجمنٹ کا مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ اگر یو اے ای آزادانہ طور پر زیادہ پیداوار کرے اور دیگر ممالک محدود رہیں تو قیمتوں کو سہارا دینے کا بوجھ سعودی عرب اور چند دیگر ممالک پر بڑھ سکتا ہے، جس سے اسے قیمتوں اور مارکیٹ شیئر کے درمیان مشکل انتخاب کرنا پڑے گا۔
پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے یہ صورتحال دو طرفہ اثر رکھتی ہے۔ قلیل مدت میں اگر جغرافیائی خطرات برقرار رہے تو ریلیف کم ہوگا، لیکن طویل مدت میں اوپیک پلس کی کمزور گرفت اور یو اے ای کی بڑھتی پیداوار قیمتوں میں نرمی لا سکتی ہے، جس سے درآمدی بل اور مہنگائی میں کمی ممکن ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ یو اے ای کا اوپیک پلس سے نکلنا فوری سپلائی بحران نہیں ہے، لیکن یہ اس تنظیم کی مارکیٹ پر گرفت میں واضح دراڑ ضرور ہے۔ یہ مستقبل میں زیادہ پیداوار کے امکانات بڑھاتا ہے اور تیل کی مارکیٹ کو زیادہ مسابقتی سمت میں لے جاتا ہے، جہاں قلیل مدت میں خطرہ جغرافیائی سیاست سے جبکہ طویل مدت میں رجحان مندی کی طرف جھکا ہوا ہے۔