مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال
- ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں محدود بحری آمدورفت کے باعث عالمی سپلائی متاثر ہو رہی ہے
مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے باوجود عالمی مالیاتی اور توانائی منڈیاں غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔ جمعہ کے روز ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں اضافہ دیکھا گیا، جبکہ سرمایہ کار امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے پرامید رہے۔ ٹوکیو اور سیول کی مارکیٹس میں نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
تاہم تیل کی قیمتوں میں اضافہ جاری رہا، برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ میں بالترتیب 0.6 اور 0.8 فیصد اضافہ ہوا۔ ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں محدود بحری آمدورفت کے باعث عالمی سپلائی متاثر ہو رہی ہے اور تیل کی قیمتیں بلند سطح کے قریب برقرار ہیں۔
جاپان نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ ماہ اپنی قومی تیل ذخائر سے مزید 20 دن کی سپلائی مارکیٹ میں جاری کرے گا تاکہ قیمتوں میں استحکام لایا جا سکے۔ یہ اقدام مارچ سے شروع ہونے والے بحران کے بعد دوسرا بڑا فیصلہ ہے۔
دوسری جانب امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر کسی بھی قسم کی فیس یا ٹول قبول نہیں کیا جائے گا، جبکہ یورپی یونین نے بھی واضح کیا ہے کہ بین الاقوامی پانیوں میں آزادانہ نقل و حرکت پر کوئی چارج عائد نہیں کیا جا سکتا۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے خبردار کیا ہے کہ جنگ کے اثرات کے باعث عالمی اقتصادی شرح نمو کے تخمینے کم کیے جائیں گے، جبکہ متاثرہ ممالک کو 50 ارب ڈالر تک کی ہنگامی مالی مدد درکار ہو سکتی ہے۔
اسی دوران پہلی غیر ایرانی آئل ٹینکر نے جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز عبور کی ہے، تاہم بحری ٹریفک اب بھی معمول پر نہیں آ سکا۔
یورپی گیس نیٹ ورک نے خبردار کیا ہے کہ موسم سرما سے قبل گیس ذخائر بھرنے کے لیے فوری اقدامات ضروری ہیں، جبکہ ایئرفرانس نے سکیورٹی خدشات کے باعث مشرق وسطیٰ کے لیے پروازوں کی معطلی 3 مئی تک بڑھا دی ہے۔