دنیا

ایران نے معاہدے پر عمل نہ کیا تو دوبارہ حملے شروع کردینگے، ٹرمپ کی وارننگ

  • موجودہ حالات میں امریکہ کے ساتھ مستقل امن معاہدے کے لیے مذاکرات جاری رکھنا غیر معقول ہوگا، ایران
شائع April 9, 2026 اپ ڈیٹ April 9, 2026 02:20pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز کہا ہے کہ ایران کے گرد امریکی فوجی بحری جہاز، طیارے اور اہلکار اس وقت تک موجود رہیں گے جب تک تہران واشنگٹن کے ساتھ طے پانے والے معاہدے پر مکمل عمل درآمد نہیں کرتا۔ انہوں نے اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا کہ اضافی گولہ بارود اور اسلحہ بھی اسی علاقے میں تعینات رہے گا۔

ٹرمپ نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر کسی وجہ سے معاہدے پر مکمل عمل نہ ہوا، تو دوبارہ حملے شروع ہو جائیں گے جو پہلے سے زیادہ طاقتور ہونگے۔

دوسری جانب ایران نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں امریکہ کے ساتھ مستقل امن معاہدے کے لیے مذاکرات جاری رکھنا غیر معقول ہوگا، خاص طور پر اس وقت جب اسرائیل نے لبنان پر شدید حملے کیے ہیں جن میں سینکڑوں افراد جاں بحق ہوگئے۔

دونوں فریقوں کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام پر اختلافات بھی برقرار ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران نے یورینیم افزودگی روکنے پر اتفاق کیا ہے، جبکہ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے مطابق معاہدے کے تحت ایران کو افزودگی جاری رکھنے کی اجازت حاصل ہے۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ طے پانے والے معاہدے میں واضح کیا گیا ہے کہ کوئی جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے اور آبنائے ہرمز کو کھلا اور محفوظ رکھا جائے گا۔