کاروبار اور معیشت

خطے میں کشیدگی کے باوجود ملک میں ایندھن کے ذخائر تسلی بخش قرار، پیٹرول پرائس کمیٹی کی رپورٹ

  • حکومت عالمی منڈی میں ہونے والی پیش رفت پر مسلسل قریبی نظر رکھے ہوئے ہے، اجلاس کو بریفنگ
شائع March 14, 2026 اپ ڈیٹ March 14, 2026 06:34pm

وزارتِ خزانہ کی پیٹرول پرائس مانیٹرنگ کمیٹی نے ہفتہ کو تصدیق کی ہے کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر تسلی بخش سطح پر موجود ہیں اور سپلائی چین کے ہموار رہنے کے باعث آئندہ ہفتوں میں ایندھن کی بلا تعطل دستیابی متوقع ہے۔

یہ بات ایک اجلاس کے دوران سامنے آئی جس کی صدارت وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے ورچوئلی کی۔ اجلاس خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں توانائی کے شعبے میں پیش رفت کا روزانہ جائزہ لینے کے سلسلے کا حصہ تھا۔

پیٹرول قیمتوں کی نگرانی کے لیے قائم یہ کمیٹی وزیرِ اعظم شہباز شریف نے رواں ماہ کے آغاز میں خطے میں ابھرتی صورتحال کے بعد تشکیل دی تھی۔

اجلاس کے دوران ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر کی صورتحال کا جامع جائزہ لیا گیا۔ شرکا کو خام تیل اور ریفائن شدہ پیٹرولیم مصنوعات کے قومی ذخائر، جاری درآمدی انتظامات اور سپلائی چین کی لاجسٹکس کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ کچھ کارگو اس وقت راستے میں ہیں جبکہ قومی ذخائر کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اضافی کھیپوں کا بندوبست بھی کیا جا رہا ہے۔

فنانس ڈویژن کے مطابق اجلاس میں عالمی سطح پر خام تیل اور ریفائن شدہ پیٹرولیم مصنوعات کی منڈیوں میں حالیہ پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا، جہاں خطے میں جغرافیائی سیاسی حالات کے باعث حالیہ دنوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔

اجلاس میں بین الاقوامی قیمتوں کے رجحانات، بینچ مارک کروڈ کی نقل و حرکت اور ریفائن شدہ مصنوعات کی مارکیٹ ڈائنامکس کا جائزہ لیا گیا، جبکہ ممکنہ بیرونی منظرناموں اور ان کے پاکستان کے توانائی کے شعبے اور مجموعی معیشت پر ممکنہ اثرات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ حکومت عالمی منڈی کی صورتحال پر مسلسل قریبی نظر رکھے ہوئے ہے اور ملکی توانائی سلامتی اور معاشی استحکام کے تحفظ کے لیے مختلف ممکنہ منظرناموں پر مسلسل منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔

اجلاس میں خام تیل کی درآمدات، ریفائنری آپریشنز اور بحری لاجسٹکس سے متعلق انتظامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ متعلقہ حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ کارگو کی نقل و حرکت کو آسان بنانے، ریفائنریوں کی مناسب پیداواری سطح برقرار رکھنے اور پیٹرولیم سپلائی چین کی بلا تعطل کارکردگی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ ریفائنریوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور متعلقہ سرکاری اداروں کے درمیان قریبی رابطہ برقرار رکھنا ضروری ہے تاکہ مصنوعات کی روانی اور ملک بھر میں ایندھن کی دستیابی یقینی بنائی جا سکے۔

اجلاس میں ڈیزل، پیٹرول، ہوا بازی کے ایندھن اور ایل پی جی کی فراہمی کے امکانات پر بھی بریفنگ دی گئی۔ کمیٹی نے نوٹ کیا کہ موجودہ سپلائی سطح اور منصوبہ بند درآمدات آئندہ ہفتوں میں ملکی طلب کو پورا کرنے کے لیے کافی ہوں گی۔ حکام مسلسل ذخائر، شپمنٹس کے شیڈول اور تقسیم کے نظام کی نگرانی کر رہے ہیں تاکہ مارکیٹ میں بلا تعطل فراہمی برقرار رہے۔

سپلائی سے متعلق اقدامات کے علاوہ کمیٹی نے ایندھن کے استعمال میں بچت اور طلب کے انتظام سے متعلق مختلف ہدفی اقدامات کا بھی جائزہ لیا، جن کا مقصد عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے دوران درآمدی دباؤ کو کم کرنا ہے۔ مؤثر ایندھن استعمال اور سرکاری شعبے میں بچت کے مختلف اقدامات پر بھی غور کیا گیا، اس سمجھ کے ساتھ کہ ذمہ دارانہ استعمال درآمدی دباؤ کم کرنے اور مجموعی معاشی استحکام کو سہارا دینے میں مددگار ہو سکتا ہے۔

اجلاس میں پیٹرولیم سپلائی چین کی نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے سے متعلق پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا، جس میں ایک ڈیجیٹل ڈیش بورڈ کی تیاری شامل ہے تاکہ ذخائر، ڈپو اور ریٹیل سپلائی کی صورتحال پر حقیقی وقت میں نظر رکھی جا سکے۔ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ بہتر ڈیٹا انضمام اور نگرانی کے نظام سے مؤثر نگرانی اور بروقت فیصلوں میں مدد ملے گی۔

اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے زور دیا کہ حکومت کی اولین ترجیح ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانا ہے جبکہ عوام پر ممکنہ حد تک کم بوجھ ڈالنا بھی اہم ہدف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”اگرچہ عالمی توانائی منڈیاں اس وقت نمایاں اتار چڑھاؤ کا شکار ہیں، تاہم پیشگی منصوبہ بندی اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے درمیان قریبی رابطے کے باعث پاکستان کی سپلائی صورتحال مستحکم ہے۔“

انہوں نے مزید کہا کہ کمیٹی بین الاقوامی توانائی منڈیوں، ملکی ذخائر اور سپلائی چین کی صورتحال کا روزانہ کی بنیاد پر جائزہ لیتی رہے گی تاکہ بروقت اور مربوط پالیسی اقدامات کیے جا سکیں۔

وزیر خزانہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت منڈی کے استحکام کو برقرار رکھنے، قومی توانائی سلامتی کے تحفظ اور موجودہ عالمی صورتحال کے دوران سپلائی چین کو بلا تعطل برقرار رکھنے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔

اجلاس ورچوئلی منعقد ہوا جس میں وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر، وفاقی سیکریٹریز اور متعلقہ وزارتوں، ڈویژنز اور ریگولیٹری اداروں کے سینئر حکام نے شرکت کی۔