ایران کے خلاف جنگ اختتام کے قریب ہے، ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ تقریباً اپنے اختتام کے قریب ہے اور امریکا اس حوالے سے ابتدائی اندازے سے کہیں زیادہ تیزی سے آگے بڑھ چکا ہے۔ یہ بات انہوں نے امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی۔
ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں جنگ اب تقریباً مکمل ہو چکی ہے۔ ان کے بقول ایران کی بحریہ، مواصلاتی نظام اور فضائیہ شدید کمزور ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے پاس اب نہ مؤثر بحریہ باقی ہے، نہ مواصلاتی نظام اور نہ ہی فضائیہ جیسی قوت۔
آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ اس وقت جہاز اس راستے سے گزر رہے ہیں تاہم وہ اس اہم گزرگاہ کو اپنے کنٹرول میں لینے پر غور کر رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل بردار گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور مائع قدرتی گیس کی تقریباً پانچواں حصہ ترسیل ہوتا ہے۔ جنگ کے باعث اس اہم بحری راستے پر آمدورفت شدید متاثر ہوئی ہے۔
امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملے شروع کیے تھے جس کے جواب میں ایران نے بھی اسرائیل اور خلیجی ریاستوں میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ اس جنگ میں ایران میں درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای بھی شامل ہیں۔
ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ ان کے پاس ان کے لیے کوئی پیغام نہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے ذہن میں ایران کی قیادت کے لیے ایک نام موجود ہے تاہم انہوں نے اس کی تفصیل بیان نہیں کی۔