دنیا

چینی وزیر خارجہ کا اسرائیلی ہم منصب سے رابطہ، ایران پر حملوں کی مخالفت، سرکاری میڈیا

  • بیجنگ کا فوری جنگ بندی کا مطالبہ، آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت سنگین خلاف ورزی قرار
شائع اپ ڈیٹ

چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے اپنے اسرائیلی ہم منصب سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران واضح کیا کہ بیجنگ ایران پر فوجی حملوں کا مخالف ہے۔

سرکاری میڈیا کی رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جنگ کا آغاز گزشتہ ہفتے کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کے ان حملوں سے ہوا جن میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہو گئے تھے اور تب سے یہ تنازع پورے خطے میں پھیل چکا ہے۔ تہران کے قریبی شراکت دار بیجنگ نے جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے اور خامنہ ای کی شہادت کو سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی شینہوا کے مطابق اسرائیلی وزیر خارجہ گائیڈن سار سے گفتگو کرتے ہوئے وانگ ای نے براہ راست مذمت سے گریز کیا اور کہا کہ چین مسائل کو مذاکرات اور مشاورت کے ذریعے حل کرنے کا حامی ہے۔ وانگ ای کا کہنا تھا کہ حالیہ پاک امریکہ مذاکرات میں واضح پیش رفت ہو رہی تھی لیکن افسوس کہ اس عمل کو فائرنگ (جنگ) نے روک دیا ہے۔

امریکہ اور اسرائیل کے فوجی حملوں پر بیجنگ کی مخالفت کا اعادہ کرتے ہوئے وانگ ای نے کہا کہ طاقت کے ذریعے مسائل کو حقیقت میں حل نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس سے نئے مسائل اور سنگین اثرات جنم لیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ چین فوجی کارروائیاں فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کرتا ہے، تاکہ تنازع کو مزید پھیلنے اور قابو سے باہر ہونے سے روکا جا سکے۔