پاکستان نے ریکارڈ ڈیٹ مارکیٹ ٹرانزیکشن سے پی ایچ ایل ادائیگیاں مکمل کر لیں
- اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے توانائی کے شعبے کے سرکولر ڈیٹ کی فنانسنگ کے لیے 1.225 ٹریلین روپے میں سے 659.6 ارب روپے کی گارنٹی جاری کرنے کی منظوری دے دی۔
پاکستان کی پاور ڈویژن نے بدھ کو 659.6 ارب روپے کے پاور ہولڈنگ لمیٹڈ (پی ایچ ایل ) تصفیے کے مکمل ہونے کا اعلان کیا، جس سے ہولڈنگ کمپنی کو ختم کرنے کا راستہ ہموار ہو گیا ہے۔
وزیرِ توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے بیان میں کہا ہے کہ ”الحمدللہ! خوشی کے ساتھ اعلان کرتے ہیں کہ 659.6 ارب روپے کے پی ایچ ایل تصفیے کامیابی سے مکمل ہو گئے ہیں، جن میں 399.6 ارب روپے کا پی ای ایس 1 اور 2 [پاکستان انرجی سکّوک] کا ریڈیمپشن شامل ہے، جو نیگو شیئٹڈ ڈیل مارکیٹ/این ڈی ایم (آف مارکیٹ ٹرانزیکشن) کے ذریعے کی گئی اور پاکستان کی اب تک کی سب سے بڑی ڈیٹ مارکیٹ ٹرانزیکشن ہے، اس کے علاوہ مختلف سینڈیکیٹڈ فنانسنگ سہولیات میں 259.7 ارب روپے کے تصفیے بھی شامل ہیں۔“
انہوں نے مزید کہا کہ ”این ڈی ایم حصہ اس ٹرانزیکشن کا حقیقی عکس ہے کہ ہمارے کیپٹل مارکیٹ ایکو سسٹم کی طاقت اور بڑے اسکیل کی اسٹریٹجک مالیاتی آپریشنز کو سنبھالنے کی صلاحیت کس حد تک مضبوط ہے۔“
وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ ٹرانزیکشن 1,225 ارب روپے کے سرکولر ڈیٹ کمی پلان کا ایک اہم حصہ تھی،“جو پاکستان کی اقتصادی اصلاحات، حکومتی اقدامات اور ہمارے کیپٹل اور اسلامی فنانس ایکو سسٹم کی مضبوطی میں ادارہ جاتی اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔
پی ایچ ایل (پی ایچ ایل ) وزارتِ توانائی (پاور ڈویژن) کے انتظامی کنٹرول کے تحت ہے اور مکمل طور پر حکومتِ پاکستان کی ملکیت ہے۔ کمپنی کا قیام توانائی کے شعبے کے واجبات کو مالیاتی اداروں سے قرض لے کر کم کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔ پی ایچ ایل ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے جو کمپنیز آرڈیننس، 1984 کے تحت رجسٹرڈ ہے۔
یہ کمپنی بینکوں سے قرض لینے کے لیے ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) کی جانب سے استعمال ہوتی تھی اور بینکوں کو قرضوں پر سود کی ادائیگی کرتی تھی۔
گزشتہ ماہ بزنس ریکارڈر نے رپورٹ کیا تھا کہ وفاقی کابینہ نے پاور ڈویژن کو ہدایت دی تھی کہ پی ایچ ایل کے ختم کرنے کے تمام ضروری اقدامات مکمل کرے اور اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کو ایک متوقع ٹائم لائن پیش کرے۔
یہ ہدایات ای سی سی نے 7 نومبر کو جاری کیں، جب 1,225 ارب روپے کے سرکولر ڈیٹ کی فنانسنگ کے لیے حکومتِ پاکستان کی 659.6 ارب روپے کی گارنٹی کی منظوری دی گئی، جسے کابینہ نے 12 نومبر 2025 کو حتمی شکل دی۔
اس ہفتے کے اوائل میں امریکی سفیر نٹالی بیکر سے ملاقات میں، لغاری نے امریکی تعاون طلب کیا تاکہ امریکا میں قائم کثیرالجہتی ترقیاتی شراکت داروں اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں، بشمول آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک، کے ساتھ پاکستان کے توانائی کے شعبے کی پائیدار ترقی میں حائل رکاوٹیں دور کرنے میں مدد حاصل کی جا سکے۔
وزیرِ توانائی کے مطابق مستقبل میں بجلی کی پیداوار نجی شعبے کی قیادت میں ہوگی کیونکہ حکومت بجلی کی خریداری نہیں کرے گی۔