پاکستان میں ٹک ٹاک پر پابندی کا نوٹیفکیشن جعلی قرار، پی ٹی اے کی وضاحت
- ایسا کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا، اتھارٹی
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے جمعرات کو سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے اس نوٹیفکیشن کو جعلی قرار دے دیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان میں ٹک ٹاک پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
اتھارٹی نے اپنے بیان میں وضاحت کی کہ اس نے ایسا کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اس اطلاع کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیا۔
پی ٹی اے نے عوام پر زور دیا کہ وہ سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ معلومات نہ تو شیئر کریں اور نہ ہی ان پر بھروسہ کریں۔ اتھارٹی نے شہریوں کو ہدایت کی کہ مستند معلومات اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے صرف اس کی سرکاری ویب سائٹ اور تصدیق شدہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے رجوع کریں۔
دریں اثنا ٹک ٹاک نے اپنی کمیونٹی گائیڈ لائنز کی خلاف ورزی پر اپریل سے جون 2026 کے دوران پاکستان میں 2 کروڑ 32 لاکھ 40 ہزار سے زائد ویڈیوز ہٹا دیں۔ اس بات کا انکشاف ٹک ٹاک کی 2026 کی دوسری سہ ماہی کی کمیونٹی گائیڈ لائنز کے نفاذ سے متعلق رپورٹ میں کیا گیا ہے۔
عالمی سطح پر بھی پلیٹ فارم نے اسی عرصے کے دوران 18 کروڑ 82 لاکھ سے زائد ویڈیوز ہٹائیں۔ رپورٹ میں سہ ماہی کے دوران ٹک ٹاک کی جانب سے مواد کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کا جائزہ پیش کیا گیا جس میں پاکستان اور دنیا بھر میں ویڈیوز ہٹانے اور اکاؤنٹس کے خلاف اقدامات سے متعلق اعدادوشمار شامل ہیں۔
پاکستان میں ویڈیوز ہٹانے کی شرح 1.1 فیصد رہی۔ ان میں سے 99.7 فیصد ویڈیوز کی نشاندہی خودکار طور پر کی گئی اور انہیں صارفین کی شکایات موصول ہونے سے پہلے ہی ہٹا دیا گیا جبکہ 94.5 فیصد ویڈیوز اپ لوڈ ہونے کے 24 گھنٹوں کے اندر ہٹا دی گئیں۔ مزید برآں نظرثانی کے بعد 5 لاکھ 19 ہزار 75 ویڈیوز بحال کر دی گئیں۔






















Comments