ایران سے تجارت تک: امریکا کے وسط مدتی انتخابات دنیا کے دیگر ممالک پر کیسے اثر انداز ہوتے ہیں؟
- امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی ’نیلی لہر‘ عالمی تعلقات کا رخ بدل رہی ہے، جس کے اثرات دنیا بھر میں خارجہ پالیسی، تجارت اور ٹیکنالوجی کے ضوابط پر مرتب ہو رہے ہیں
امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کامیابی کی ’نیلی لہر‘ کے اثرات دنیا بھر میں محسوس کیے جا رہے ہیں، جہاں تجارتی شراکت دار، تزویراتی اتحادی اور حریف ممالک سبھی انتخابی نتائج کے مضمرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
ایران اور اسرائیل
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کانگریس پر کنٹرول سے محروم ہونے کے بعد یہ واضح نہیں کہ اس پیش رفت سے ایران کے ساتھ آٹھ ماہ سے جاری جنگ کا رخ کس طرح متاثر ہوگا۔ ووٹرز نے اس تنازع سے اپنی بیزاری کا اظہار کیا ہے، جس کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں شدید اضافے کا ذمہ دار بہت سے لوگ اسے ٹھہراتے ہیں۔ خلیجی حکومتوں کی سوچ سے واقف دو ذرائع نے رائٹرز کو بتایا ہے کہ بعض خلیجی حکومتوں کا اب خیال ہے کہ ٹرمپ کے پاس امن معاہدے کی کوشش کرنے کی پہلے سے کہیں زیادہ وجہ موجود ہے اور وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر ایک اور بھرپور حملے کا امکان کم ہوگیا ہے۔
تاہم، ٹرمپ کی انتخابی شکست ایران کے حوصلے بھی بڑھا سکتی ہے۔
ایمریٹس پالیسی سینٹر کی ابتسام الکتبی نے کہا کہ ’’اگر تہران یہ سمجھتا ہے کہ ٹرمپ کو کسی معاہدے کی ضرورت ہے، لیکن محض کوئی بھی معاہدہ نہیں بلکہ ایک حقیقی موقع موجود ہے، تو جنگ کے خاتمے کی راہ نکل سکتی ہے۔‘‘ تاہم، ان کے بقول، انتخابی نتائج کو کمزوری سمجھنے کے بجائے اس سے ’’ایک نئی فوجی کشیدگی کو دعوت بھی مل سکتی ہے۔‘‘
اسرائیل کے لیے ڈیموکریٹس کے زیر کنٹرول ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ ایران کے علاوہ غزہ اور لبنان میں بھی اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر کانگریس کی نگرانی اور جانچ پڑتال سخت کر سکتے ہیں، جبکہ فوجی امداد اور اسلحے کی فروخت کے ذریعے اسرائیل کے لیے امریکا کی دیرینہ حمایت بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کو عہدے سے ہٹانے کے خواہاں سیاسی حریفوں نے ڈیموکریٹس کی کامیابی کو ان کے خلاف استعمال کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے دور میں اسرائیل کو امریکا میں دونوں جماعتوں کی حمایت سے محروم ہونا پڑا۔ وہ گزشتہ ہفتے کے غیر فیصلہ کن اسرائیلی انتخابات کے بعد مخلوط حکومت تشکیل دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ایندھن کی قیمتیں
ایران جنگ کے باعث خلیجی خطے سے خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی رسد متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں خام تیل کی عالمی قیمتوں اور دنیا بھر میں پیٹرول پمپس پر ایندھن کے نرخوں میں اضافہ ہوا ہے۔
توانائی کی منڈی نے بدھ کے روز اس توقع کا اظہار کیا کہ امریکی انتخابات سے امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق تیل کی قیمتیں مسلسل تیسرے روز گر گئیں، تاہم ذخائر کی محدود سطح نے قیمتوں میں مزید بڑی کمی کو روک دیا۔
سیکسو بینک کے تجزیہ کار اولے ہینسن نے کہا ہے کہ ’’مارکیٹ میں یہ تاثر بتدریج مضبوط ہو رہا ہے کہ صدر ٹرمپ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ سے جان چھڑانا چاہتے ہیں۔‘‘
یوکرین
روس کے حملے کے خلاف جنگ لڑنے والے یوکرین کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بڑی حد تک امریکا کی براہِ راست مالی اور فوجی امداد روک دی ہے، حالانکہ کانگریس میں ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز دونوں جماعتوں کے ارکان کی وسیع حمایت اسے حاصل ہے۔ ٹرمپ نے روسی ڈیزل پر پابندیاں اٹھا کر اور روسی توانائی پر عائد پابندیوں سے استثنیٰ دے کر کانگریس کے ارکان، جن میں بڑی تعداد ریپبلکنز کی بھی شامل ہے، کو ناراض کیا ہے۔ انہوں نے روسی توانائی پر پابندیاں عائد کرنے کے قانون پر دستخط کرنے کے چند ہی ہفتے بعد یہ اقدام کیا۔
کانگریس کے دونوں ایوانوں کا کنٹرول حاصل ہونے سے ڈیموکریٹس کو یوکرین کے لیے نئی امداد کی تجاویز پیش کرنے کا موقع مل جائے گا۔ اگر انہیں ریپبلکنز کی جانب سے کافی حمایت مل جاتی ہے اور وہ دو تہائی اکثریت حاصل کر لیتے ہیں تو امداد کا نیا پیکیج ٹرمپ کے صدارتی ویٹو کے باوجود منظور ہو سکتا ہے۔ تاہم، امریکی امداد میں کسی بھی اضافے کا فوری امکان نہیں اور اس سے یوکرین کی سب سے فوری ضرورت بھی پوری نہیں ہوگی، یعنی امریکی ساختہ پیٹریاٹ فضائی دفاعی میزائلوں کی شدید قلت، جن کی مدد سے یوکرین کو اس موسم سرما میں اپنے توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور شہروں کا تحفظ کرنا ہے۔
ڈیموکریٹس ٹرمپ کی دیگر پالیسیوں کو بھی ہدف بنا سکتے ہیں۔
نیویارک سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ رکنِ ایوانِ نمائندگان گریگوری میکس، جو ایوان کی خارجہ امور کمیٹی کی سربراہی کے امیدوار ہیں، نے ٹرمپ کے اس منصوبے کو روکنے کے لیے دو جماعتی حمایت سے قانون سازی متعارف کرائی ہے جس کے تحت روسی ڈیزل کو دوبارہ عالمی منڈی میں لانے کی تجویز ہے۔ تاہم، وسط مدتی انتخابات سے روس کے ساتھ سہ فریقی امن مذاکرات میں ٹرمپ انتظامیہ کے موقف میں تبدیلی کا امکان نہیں۔ ان مذاکرات میں امریکی انتظامیہ نے یوکرین پر معاہدے تک پہنچنے کے لیے رعایتیں دینے کے لیے دباؤ ڈالا ہے، جبکہ اسی دوران ماسکو کے ساتھ ایسے کاروباری معاہدوں پر بھی بات چیت کر رہی ہے جن سے امریکی سرمایہ کاروں کو فائدہ پہنچے گا۔
کریملن نے کہا ہے کہ اسے امید ہے کہ وسط مدتی انتخابات کے نتائج اس کی نظر میں ٹرمپ کی ’’امن قائم کرنے کی کوششوں‘‘ پر اثر انداز نہیں ہوں گے۔
تجارت
تجزیہ کاروں کے مطابق انتخابات کے بعد ایشیا کے بعض ممالک کو محصولات سے بچنے کے لیے کیے گئے سرمایہ کاری کے وعدوں پر عمل درآمد سست کرنے کی مزید وجہ مل سکتی ہے، جبکہ معاشی حریف چین کو جاری تجارتی مذاکرات میں برتری حاصل ہونے کا تاثر بھی مضبوط ہو سکتا ہے۔
تاہم، بیجنگ میں قائم اکنامسٹ انٹیلی جنس یونٹ کے صنعتی پالیسی کے تجزیہ کار چم لی کے مطابق امریکا اور چین کے وسیع تر اقتصادی تعلقات میں غالباً ’’نازک استحکام‘‘ کی کیفیت برقرار رہے گی۔
ٹرمپ کو وسط مدتی انتخابات میں ہونے والے نقصان سے بھارت اور امریکا کے درمیان تجارتی معاہدے کے لیے جاری مذاکرات میں پیش رفت کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ ان مذاکرات میں تاخیر کی ایک وجہ نئی دہلی کی جانب سے اپنے کسانوں کے مفادات کا تحفظ کرنے کی کوشش ہے۔
بھارت کی وفاقی حکومت کے سابق تجارتی سیکریٹری انوپ ودھاون نے کہا ہے کہ ’’امریکی وسط مدتی انتخابات میں ٹرمپ کی جماعت کو نقصان کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے من مانے محصولات عائد کرنے کی صلاحیت کو یقیناً چیلنج کا سامنا ہوگا۔ کسی نہ کسی مرحلے پر انہیں تجارتی اقدامات کے لیے کانگریس کی منظوری درکار ہوگی اور اس حد تک ان کی پوزیشن کمزور ہوئی ہے۔‘‘
کانگریس کو تجارت کے ضوابط طے کرنے اور درآمدی محصولات مقرر کرنے کا اختیار حاصل ہے، تاہم ٹرمپ نے قومی سلامتی یا غیر منصفانہ تجارتی طریقوں کی بنیاد پر محصولات عائد کرنے کے لیے مختلف قوانین سے فائدہ اٹھایا ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے صدر کے اس اختیار کو محدود کرنے کی کوششوں کو صدارتی ویٹو کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ایک اور سوال یہ ہے کہ آیا ٹرمپ یورپی ممالک کو دی گئی فوری نوعیت کی دھمکیوں پر عمل درآمد کریں گے، مثلاً ان ممالک پر 100 فیصد محصولات عائد کرنا جو امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر ڈیجیٹل سروسز ٹیکس نافذ کرتے ہیں، یا پھر یورپی انویسٹمنٹ بینک کی جانب سے ایئربس کو 3 ارب یورو (3.37 ارب ڈالر) کا قرض دینا 2025 سے بڑی حد تک برقرار امریکا اور یورپ کے درمیان تجارتی جنگ بندی کو متاثر کرے گا۔
مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی
انتخابی نتائج کے بعد کیے گئے سروے سے ظاہر ہوا ہے کہ امریکا کے بہت سے ووٹرز مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز کی تیزی سے توسیع پر تشویش رکھتے ہیں۔ اس انکشاف سے ایشیا کی بڑی چِپ ساز کمپنیوں کے حصص میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی۔
اوکلاہوما میں قائم لانگ بو ایسٹ مینجمنٹ کے چیف ایگزیکٹو جیک ڈالرہائیڈ نے کہا ہے کہ ’’کانگریس کے دونوں ایوانوں میں ڈیموکریٹس کی مکمل کامیابی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر دباؤ بڑھا سکتی ہے اور ممکنہ طور پر مصنوعی ذہانت سمیت ٹیکنالوجی کے تمام شعبوں پر ضابطہ جاتی پابندیوں کا دباؤ پیدا کر سکتی ہے۔ اس سے روزانہ سامنے آنے والی اور جنہیں ہم اکثر معمول سمجھنے لگے ہیں، بے تحاشا ترقی کی رفتار بھی سست پڑ سکتی ہے۔‘‘
بدھ کے روز ایشیائی چِپ اور مصنوعی ذہانت سے وابستہ کمپنیوں، جن میں ٹی ایس ایم سی، سام سنگ الیکٹرانکس، ایس کے ہائنکس اور کیوکسیا شامل ہیں، کے حصص میں کمی ریکارڈ کی گئی۔
ایشیا کے سرمایہ کاروں کی تشویش امریکی مارکیٹوں میں کاروبار شروع ہونے سے پہلے کی تجارت میں بھی نظر آئی، جہاں ڈیٹا سینٹرز چلانے والی امریکی کمپنیوں اپلائیڈ ڈیجیٹل، ٹیرا وولف، کور سائنٹیفک اور آئرین سمیت متعدد کمپنیوں کے حصص گر گئے۔























Comments