امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل سونے کی قیمتوں میں کمی
- اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.5 فیصد کمی کے بعد 3,926.52 ڈالر فی اونس پر آگئی
سونے کی قیمتوں میں منگل کو معمولی کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ گزشتہ کاروباری سیشن میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث مہنگائی سے متعلق خدشات کم ہونے پر سونے کی قیمتوں میں 2 فیصد سے زائد اضافہ ہوا تھا۔ دوسری جانب سرمایہ کار دن کے اختتام پر امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج کے منتظر رہے۔
عالمی مارکیٹ میں اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.5 فیصد کمی کے بعد 3,926.52 ڈالر فی اونس پر آگئی۔ گزشتہ کاروباری سیشن کے دوران سونے کی قیمت 2 فیصد سے زائد اضافے کے بعد 3,954.41 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی تھی جو جمعے کو ایک سال کی کم ترین سطح پر آنے کے بعد ہونے والی بحالی تھی۔
امریکا میں دسمبر میں ترسیل کے لیے سونے کے فیوچرز کی قیمت بھی 0.8 فیصد کمی کے بعد 3,936.30 ڈالر فی اونس پر آگئی۔
کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ تجزیہ کار ٹم واٹرر نے کہا کہ گزشتہ ہفتے قیمتوں میں شدید گراوٹ کے بعد سونا اب بھی قیمتوں کے استحکام اور اتار چڑھاؤ کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سونے کو روایتی طور پر محفوظ سرمایہ کاری سمجھ کر خریدنے کے بجائے، سرمایہ کار اسے دیگر مارکیٹوں میں ہونے والے نقصانات اور مارجن کالز کی ادائیگی کے لیے ایک ایسی اثاثہ جاتی سرمایہ کاری کے طور پر فروخت کر رہے ہیں جسے باآسانی نقد رقم میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ موجودہ مارکیٹ کی صورتحال میں سونے کی یہی خصوصیت اس کی قیمتوں کے لیے منفی ثابت ہورہی ہے۔
جغرافیائی سیاسی صورتحال کے حوالے سے تہران نے پیر کو کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان گزشتہ آٹھ ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے رابطوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب قطری ثالثوں کے ساتھ ایران کے کئی روز تک جاری رہنے والے مذاکرات نئی تجاویز پر اتفاقِ رائے کے بغیر ختم ہوگئے، تاہم ان مذاکرات میں تجاویز میں تبدیلیاں ضرور کی گئیں لیکن کوئی حتمی پیشرفت نہ ہوسکی۔
پیر کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں 7 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی۔
توانائی کی بلند قیمتیں اس توقع کو تقویت دیتی ہیں کہ امریکی فیڈرل ریزرو شرحِ سود کو طویل عرصے تک بلند سطح پر برقرار رکھے گا، جس سے سونے جیسے ایسے اثاثوں میں سرمایہ کاری کی متبادل لاگت بڑھ جاتی ہے جو کوئی منافع یا سود ادا نہیں کرتے۔
سی ایم ای کے فیڈ واچ ٹول کے مطابق سرمایہ کاروں کو فی الحال 74 فیصد امکان ہے کہ امریکی مرکزی بینک دسمبر میں شرحِ سود میں اضافہ کرے گا۔
دوسری جانب مارکیٹ کے شرکاء آج ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج اور عالمی مالیاتی منڈیوں میں سرمایہ کاروں کے مجموعی رجحان پر ان کے ممکنہ اثرات کے منتظر ہیں۔
واٹرر نے کہا کہ اگر ڈیموکریٹس انتخابات میں دونوں ایوانوں پر کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اس سے اے آئی کے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر اور مجموعی ٹیکنالوجی شعبے میں سرمایہ کاری کے رجحان کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹیکنالوجی کے شعبے پر ضابطہ جاتی نگرانی میں اضافے کے باعث اگر مزید دباؤ پڑتا ہے تو اس کے اثرات سونے کی مارکیٹ تک بھی پہنچ سکتے ہیں، کیونکہ سرمایہ کار دیگر شعبوں میں ہونے والے نقصانات پورے کرنے کے لیے اپنی سرمایہ کاری کے حصص فروخت کرنے کا سلسلہ جاری رکھ سکتے ہیں۔
دیگر قیمتی دھاتوں میں بھی کمی کا رجحان دیکھا گیا۔ عالمی مارکیٹ میں اسپاٹ چاندی کی قیمت 1.8 فیصد کمی کے بعد 49.71 ڈالر فی اونس پر آ گئی جبکہ پلاٹینم کی قیمت 0.2 فیصد کمی کے ساتھ 1,446.80 ڈالر فی اونس اور پیلیڈیم کی قیمت 1.4 فیصد کمی کے بعد 953.64 ڈالر فی اونس ہو گئی۔





















Comments