BR100 Decreased By (-0.61%)
BR30 Decreased By (-1.6%)
KSE100 Decreased By (-0.34%)
KSE30 Decreased By (-0.64%)
BAFL 57.75 Decreased By ▼ -0.02 (-0.03%)
BIPL 23.00 Decreased By ▼ -0.15 (-0.65%)
BOP 28.24 Decreased By ▼ -0.11 (-0.39%)
CNERGY 12.42 Decreased By ▼ -1.22 (-8.94%)
DFML 15.40 Decreased By ▼ -0.01 (-0.06%)
DGKC 181.02 Increased By ▲ 2.87 (1.61%)
FABL 92.49 Increased By ▲ 1.09 (1.19%)
FCCL 53.16 Increased By ▲ 0.88 (1.68%)
FFL 12.76 Decreased By ▼ -0.14 (-1.09%)
GGL 18.75 Decreased By ▼ -0.26 (-1.37%)
HBL 285.67 Decreased By ▼ -5.88 (-2.02%)
HUBC 193.80 Increased By ▲ 0.62 (0.32%)
HUMNL 8.65 Increased By ▲ 0.08 (0.93%)
KEL 5.80 Increased By ▲ 0.01 (0.17%)
LOTCHEM 23.91 Increased By ▲ 0.02 (0.08%)
MLCF 91.60 Increased By ▲ 1.09 (1.2%)
OGDC 307.65 Increased By ▲ 0.87 (0.28%)
PAEL 32.30 Decreased By ▼ -0.03 (-0.09%)
PIBTL 12.85 Decreased By ▼ -0.08 (-0.62%)
PIOC 234.00 Increased By ▲ 0.86 (0.37%)
PPL 213.70 Decreased By ▼ -0.23 (-0.11%)
PRL 87.26 Decreased By ▼ -9.70 (-10%)
SNGP 90.55 Increased By ▲ 0.02 (0.02%)
SSGC 22.40 Decreased By ▼ -0.13 (-0.58%)
TELE 6.49 Decreased By ▼ -0.23 (-3.42%)
TPLP 12.90 Increased By ▲ 0.30 (2.38%)
TRG 52.30 Increased By ▲ 0.34 (0.65%)
UNITY 7.84 Increased By ▲ 0.05 (0.64%)
WTL 0.93 Decreased By ▼ -0.01 (-1.06%)

بالآخر، حکومت نے بجلی کے شعبے میں سلیب کی بنیاد پر دی جانے والی سبسڈی ختم کرنے کا منصوبہ بنالیا ہے، اس اخبار نے کئی سالوں سے اس مؤقف کی حمایت کی ہے کہ بجلی کے شعبے میں موجود ان خرابیوں اور بگاڑ کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ شاید آئی ایم ایف کے دباؤ کے تحت اب حکومت آخرکار اسی سمت میں قدم اٹھا رہی ہے۔ یہ فیصلہ درست ہے، لیکن اسے کرنے میں کچھ زیادہ ہی دیر کردی گئی ہے۔

تاریخی طور پر گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران بجلی کے شعبے میں دی جانے والی سبسڈی کا بے دریغ غلط استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ کراس سبسڈی کے نظام کے تحت اس کا بوجھ زیادہ بجلی استعمال کرنے والے سلیبز کے صارفین پر ڈال دیا جاتا ہے جن میں گھریلو صارفین، تجارتی شعبہ اور صنعتی شعبہ شامل ہیں۔

جب حکومت صارفین سے بجلی کی لاگت پوری طرح وصول نہیں کررہی تھی (2018 سے پہلے) تو دوسروں کو سبسڈی دینے والے صارفین پر اس بوجھ کی شدت اتنی زیادہ نہیں تھی۔ اس کے بجائے یہ اخراجات گردشی قرضے (سرکلر ڈیٹ) کی صورت میں جمع ہوتے رہے۔ بالآخر اس کا خمیازہ بجلی کے صارفین کو سود کی ادائیگیوں کی شکل میں بھگتنا پڑا، یا پھر مجموعی طور پر ٹیکس دہندگان کو، کیونکہ مالی شعبے کو اس خسارے کو پورا کرنا پڑا۔

اس کے بعد آہستہ آہستہ لیکن یقینی طور پر، آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت حکومت نے بجلی کے اخراجات صارفین سے وصول کرنا شروع کردیے۔ اس کے نتیجے میں صنعتی شعبے اور دیگر ایسے صارفین کے لیے بجلی کی قیمتیں انتہائی حد تک بڑھ گئیں جو کراس سبسڈی کا بوجھ برداشت کررہے تھے۔ بجلی کی ان بلند قیمتوں کی ایک وجہ آئی پی پیز (آزاد بجلی پیدا کرنے والے اداروں) کے غیر متوازن معاہدے بھی ہیں جو یکے بعد دیگرے آنے والی مختلف پاور پالیسیوں کے تحت زیادہ تر بجلی پیدا کرنے والوں کے حق میں رہے ہیں۔ مزید برآں بجلی کی ترسیل اور تقسیم کار کمپنیوں کی ناقص کارکردگی، جس میں بجلی چوری اور لائن لاسز بھی شامل ہیں، کا بوجھ بالآخر صارفین کے بجلی کے نرخوں میں شامل کردیا جاتا ہے۔

پاکستان میں بجلی کی پیداوار اور ترسیل کے اخراجات پہلے ہی خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں۔اس کے اوپر باقاعدگی سے بل ادا کرنے والے صارفین، ماہانہ 200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کی ایک بڑی تعداد کو کراس سبسڈی فراہم کر رہے ہیں۔ جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے، نسبتاً خوشحال گھرانوں نے بھی اپنے گھروں میں متعدد بجلی کے میٹر نصب کروا کر اس پالیسی کا ناجائز فائدہ اٹھایا ہے۔

بجلی کی قیمتوں میں اضافے نے صارفین کو جہاں تک ممکن ہو، بجلی کے قومی گرڈ سے دور ہونے پر مجبور کر دیا ہے، جس کے لیے وہ گھروں کی چھتوں پر سولر پینل نصب کر رہے ہیں۔ اسی طرح صنعتی شعبے سے وابستہ وہ ادارے جن کے پاس مناسب جگہ دستیاب ہے، دن کے اوقات میں قومی گرڈ پر اپنا انحصار کم کرنے کے لیے سولر پینل لگانا شروع کر چکے ہیں۔ سندھ کے بعض علاقوں میں ہوا سے بجلی پیدا کرنے کا رجحان بھی تیزی سے عام ہو رہا ہے۔ اسی دوران کسانوں نے بھی تقریباً مکمل طور پر ڈیزل سے چلنے والے بجلی پیدا کرنے والے نظام کو ترک کرکے ٹیوب ویل شمسی توانائی پر منتقل کر دیے ہیں۔ ان تمام تبدیلیوں کے باوجود نیٹ میٹرنگ کے ذریعے استعمال ہونے والی بجلی کا حصہ مجموعی کھپت میں اب بھی بہت کم ہے۔

اس صورتحال کے نتیجے میں بجلی کے قومی گرڈ پر انحصار کم ہو گیا ہے اور جو صارفین اب بھی گرڈ سے بجلی حاصل کر رہے ہیں، ان کے لیے اخراجات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ پورا نظام اب غیر پائیدار ہوتا جا رہا ہے اور اس میں بنیادی تبدیلی (ازسرِنو تشکیل) کی ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزیرِ توانائی نے ایوانِ بالا (سینیٹ) کو موجودہ بجلی کے نرخوں کے نظام کی جگہ نیا نظام متعارف کرانے کے حکومتی منصوبے سے آگاہ کیا ہے۔

یہ درست اقدام ہے، لیکن اسے بہت پہلے اٹھایا جانا چاہیے تھا۔ بہرحال، اب حکومت کا منصوبہ ہے کہ مستحق اور پسماندہ گھرانوں کو سبسڈی بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے ذریعے فراہم کی جائے۔ اس اقدام سے اس بات کو یقینی بنانے میں مدد مل سکتی ہے کہ سبسڈی صرف مستحق صارفین کو ملے جب کہ نظام کا ناجائز فائدہ اٹھانے والے افراد اس سے محروم رہیں۔ تاہم، بہت سے مستحق صارفین ایسے بھی ہیں جو بی آئی ایس پی میں شامل نہیں ہیں، خصوصاً اس صورتِ حال میں جب ملک کی تقریباً نصف آبادی یومیہ چار امریکی ڈالر فی کس سے کم آمدنی کی بنیاد پر غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔

ممکن ہے کہ اس تبدیلی کا سب سے زیادہ بوجھ بالآخر انہی صارفین کو برداشت کرنا پڑے۔ حکومت کو بجلی کی لاگت کم کرنے کے لیے بھی اقدامات کرنا ہوں گے، کیونکہ مالی وسائل کی محدود گنجائش کے باعث اسے بجلی کے تمام اخراجات صارفین سے مکمل طور پر وصول کرنے کے نظام پر انحصار کرنا پڑے گا۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کے عمل کو تیز کیا جانا چاہیے، نئے آئی پی پی منصوبوں کے معاہدوں پر جہاں ممکن ہو ازسرِنو غور کیا جانا چاہیے، اور مالی بوجھ کم کرنے کے لیے قرضوں کی ادائیگی کی مدت میں توسیع کی کوششیں بھی کرنی چاہئیں۔

بنیادی مقصد یہ ہونا چاہیے کہ ہر فرد کو سستی توانائی فراہم کی جائے اور اس کے اخراجات کا بوجھ بالواسطہ طور پر ٹیکس دہندگان پر منتقل نہ کیا جائے۔

Comments

200 حروف