BR100 Increased By (0.74%)
BR30 Increased By (0.97%)
KSE100 Increased By (0.63%)
KSE30 Increased By (0.64%)
BAFL 56.30 Decreased By ▼ -0.13 (-0.23%)
BIPL 23.50 Increased By ▲ 0.19 (0.82%)
BOP 27.63 Increased By ▲ 0.12 (0.44%)
CNERGY 12.81 Increased By ▲ 0.09 (0.71%)
DFML 15.80 Decreased By ▼ -0.08 (-0.5%)
DGKC 182.80 Decreased By ▼ -0.50 (-0.27%)
FABL 91.00 Increased By ▲ 0.30 (0.33%)
FCCL 52.55 Decreased By ▼ -0.07 (-0.13%)
FFL 12.99 Increased By ▲ 0.02 (0.15%)
GGL 19.60 Decreased By ▼ -0.06 (-0.31%)
HBL 284.70 Increased By ▲ 0.08 (0.03%)
HUBC 188.95 Increased By ▲ 0.33 (0.17%)
HUMNL 8.10 Decreased By ▼ -0.01 (-0.12%)
KEL 5.76 Decreased By ▼ -0.04 (-0.69%)
LOTCHEM 23.00 Increased By ▲ 0.07 (0.31%)
MLCF 90.48 Increased By ▲ 0.07 (0.08%)
OGDC 302.49 Increased By ▲ 0.03 (0.01%)
PAEL 32.82 Increased By ▲ 0.07 (0.21%)
PIBTL 13.08 Decreased By ▼ -0.13 (-0.98%)
PIOC 232.00 Decreased By ▼ -1.50 (-0.64%)
PPL 214.82 Decreased By ▼ -0.45 (-0.21%)
PRL 95.57 Decreased By ▼ -0.52 (-0.54%)
SNGP 89.71 Decreased By ▼ -0.49 (-0.54%)
SSGC 22.69 Decreased By ▼ -0.03 (-0.13%)
TELE 6.67 Decreased By ▼ -0.04 (-0.6%)
TPLP 12.05 Increased By ▲ 0.53 (4.6%)
TRG 53.35 Decreased By ▼ -1.36 (-2.49%)
UNITY 7.72 No Change ▼ 0.00 (0%)
WTL 0.95 Decreased By ▼ -0.01 (-1.04%)
کاروبار اور معیشت

مالدیپ سے براہِ راست کارگو رابطے قائم کرنے کا مطالبہ

ٹیرف اور نان ٹیرف رکاوٹوں میں کمی کے لیے آزاد تجارتی معاہدے یا ترجیحی تجارتی معاہدے پر مذاکرات بھی جلد از جلد مکمل کیے جائیں، میاں زاہد
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچوئلز فورم (پی بی آئی ایف) اور آل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر، نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین اور ایف پی سی سی آئی کی پالیسی ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین میاں زاہد حسین نے حکومت پر زور دیا ہے کہ مالدیپ کے ساتھ براہِ راست کارگو رابطے قائم کیے جائیں، بینکاری کے آسان ذرائع فراہم کیے جائیں اور دونوں ممالک کے مرکزی بینکوں کے درمیان مقامی کرنسی میں لین دین کا نظام متعارف کرایا جائے۔

ٹیرف اور نان ٹیرف رکاوٹوں میں کمی کے لیے آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) یا ترجیحی تجارتی معاہدے (پی ٹی اے) پر مذاکرات بھی جلد از جلد مکمل کیے جائیں۔

انہوں نے 21 اکتوبر کو اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف اور مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو کے درمیان ملاقات کے دوران پاکستان اور مالدیپ کی دوطرفہ تجارت کو آئندہ دو سال میں 1 کروڑ 34 لاکھ ڈالر سے بڑھا کر 20 کروڑ ڈالر تک لے جانے کے مشترکہ ہدف کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے مختلف شعبوں میں 20 معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کا بھی خیرمقدم کیا۔

انہوں نے کہا کہ ان معاہدوں پر مؤثر عمل درآمد سے دو سال میں دوطرفہ تجارت تقریباً 15 گنا بڑھ سکتی ہے، خطے میں اقتصادی تعاون کو فروغ مل سکتا ہے اور دونوں ممالک کے معاشی تعلقات مزید مستحکم ہو سکتے ہیں۔ پاکستان اور مالدیپ کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی روابط پر مبنی قریبی برادرانہ تعلقات ہیں، تاہم اقتصادی اور تجارتی روابط حقیقی استعداد سے کہیں کم رہے ہیں۔

میاں زاہد حسین نے کہا کہ مالدیپ دنیا بھر سے سالانہ 3.5 ارب ڈالر سے زائد مالیت کی اشیا درآمد کرتا ہے جن میں غذائی مصنوعات، زرعی اجناس، ٹیکسٹائل، تعمیراتی سامان اور ادویات شامل ہیں۔ تاہم اس منڈی میں پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے۔

اس وقت پاکستان اور مالدیپ کے درمیان دوطرفہ تجارت محض 1 کروڑ 34 لاکھ ڈالر ہے، جس میں پاکستانی برآمدات تقریباً 1 کروڑ 33 لاکھ ڈالر ہیں، جبکہ مالدیپ سے درآمدات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مالدیپ کو پاکستان کی اہم برآمدات میں ادویات، تازہ پھل، سبزیاں، اناج اور گوشت شامل ہیں۔

اس کے برعکس بھارت اور مالدیپ کے درمیان سالانہ دوطرفہ تجارت تقریباً 55 کروڑ 50 لاکھ ڈالر، چین اور مالدیپ کے درمیان 66 کروڑ 50 لاکھ ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ یہ تجارت تقریباً 50 کروڑ 30 لاکھ ڈالر ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس تناظر میں پاکستان اور مالدیپ کے درمیان تجارتی حجم مایوس کن حد تک محدود ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کاروبار کی زیادہ لاگت برآمد کنندگان کو بعض مصنوعات مسابقتی قیمتوں پر فراہم کرنے سے روکتی ہے جو دونوں برادر ممالک کے درمیان محدود تجارتی حجم کی اصل وجہ ہے۔

میاں زاہد حسین نے زور دیا کہ دوطرفہ تجارت کا حجم 20 کروڑ ڈالر تک پہنچانے کے لیے محض مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کافی نہیں ہوں گے، بلکہ جامع عملی منصوبہ بندی اور ملک میں کاروباری لاگت میں کمی بھی ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ تقریباً 5 لاکھ 31 ہزار آبادی پر مشتمل مالدیپ کی معیشت کا زیادہ تر انحصار سیاحت پر ہے۔ ہر سال 20 لاکھ سے زائد غیر ملکی سیاح اس ملک کا رخ کرتے ہیں، جس سے سیاحت کے شعبے کو سالانہ تقریباً 5 ارب 57 کروڑ ڈالر کی آمدنی ہوتی ہے۔

ان کے مطابق اس صورت حال کے باعث مالدیپ کے شعبہ مہمان نوازی میں حلال خوراک، خشک میوہ جات، بستر کی چادروں، تولیوں، اعلیٰ معیار کے جراحی آلات اور کھیلوں کے سامان کی مسلسل طلب رہتی ہے۔ پاکستان کو ٹیکسٹائل، کھیلوں کے سامان اور زراعت کے شعبوں میں عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل ہے جس سے پاکستانی برآمد کنندگان مالدیپ کو ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی برآمدات بڑھا سکتے ہیں۔ ملک میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے پیش نظر پاکستان کے پاس سیمنٹ اور دیگر تعمیراتی سامان کی فراہمی کے بھی وسیع امکانات موجود ہیں۔

میاں زاہد حسین نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے براہِ راست فضائی، بحری اور کارگو روابط کی عدم موجودگی کو دوطرفہ تجارت کی راہ میں حائل بڑی رکاوٹوں میں سے ایک قرار دے کر درست نشاندہی کی ہے۔ براہِ راست بحری سروس نہ ہونے کے باعث پاکستانی مصنوعات سری لنکا یا دبئی کے راستے مالدیپ پہنچتی ہیں، جس سے ترسیل کا وقت اور مال برداری کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں اور پاکستانی مصنوعات مالدیپ کی منڈی میں مسابقت کے قابل نہیں رہتیں۔

Comments

200 حروف