کسٹمز کلیئرنس میں تاخیر، کراچی کا سی اے یو برقرار رکھنے کا مطالبہ
- تقریباً 21 ماہ سے جاری نظام کے باوجود اسیسمنٹ کے معیار میں بہتری نہیں آسکی، ایف بی آر
پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) پر زور دیا ہے کہ کراچی میں اپنا سینٹرل اپریزنگ یونٹ (سی اے یو) برقرار رکھا جائے اور فیس لیس کسٹمز اسیسمنٹ نظام کا جائزہ لیا جائے۔ صنعت کے مطابق اس نظام کے باعث کلیئرنس میں تاخیر، اشیا کی مالیت کے تعین پر تنازعات اور درآمد کنندگان کے اخراجات میں اضافہ ہورہا ہے۔
آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) نے چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال کو 27 اکتوبر کو لکھے گئے خط میں کہا کہ تقریباً 21 ماہ سے جاری اس نظام کے باوجود اسیسمنٹ کے معیار میں بہتری نہیں آسکی۔
ایسوسی ایشن نے کہا کہ درآمد کنندگان کو اب بھی کلیئرنس میں تاخیر، اشیا کی مالیت میں من مانے اضافے، درجہ بندی کے تنازعات، بار بار جانچ پڑتال اور لیبارٹریوں کو نمونے بھیجنے جیسے مسائل کا سامنا ہے جس کے نتیجے میں ڈیمرج اور ڈیٹنشن اخراجات بڑھ رہے ہیں، کاروباری سرمائے کی رقوم پھنس رہی ہیں اور برآمدی پیداوار متاثر ہورہی ہے۔
اپٹما کے مطابق ایف بی آر کی ایک جائزہ کمیٹی نے نشاندہی کی تھی کہ 15 دسمبر 2024 کو فیس لیس کسٹمز اسیسمنٹ نظام متعارف کرائے جانے کے بعد کلیئرنس کے لیے اوسط وقت 25.6 گھنٹے سے بڑھ کر 40.2 گھنٹے ہو گیا۔ ایسوسی ایشن کے مطابق کمیٹی کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 48 گھنٹوں کے اندر کلیئر ہونے والی کنسائنمنٹس کا تناسب 84 فیصد سے کم ہو کر 70 فیصد رہ گیا، جبکہ نظرثانی کی درخواستوں کی شرح 6 فیصد سے بڑھ کر 14 فیصد ہو گئی۔
ایسوسی ایشن نے کہا کہ کمیٹی نے مبینہ طور پر اسیسمنٹ کے معیار میں کوئی بہتری نہ آنے کی نشاندہی کرتے ہوئے جائزے کی تکمیل تک نظام کو مزید وسعت نہ دینے کی سفارش کی تھی۔
اپٹما کا کہنا ہے کہ سینٹرل اپریزنگ یونٹ (سی اے یو) کو اسلام آباد منتقل کرنے سے یہ مسائل اور زیادہ شدید ہو جائیں گے۔
ایسوسی ایشن نے کہا کہ سمندری راستے سے درآمد ہونے والی زیادہ تر اشیا کراچی پہنچتی ہیں جہاں بندرگاہوں کے قریب ہی جانچ پڑتال کی سہولتیں، لیبارٹریاں، ٹرمینلز اور تکنیکی عملہ موجود ہے۔
اپٹما کا کہنا ہے کہ ’اس یونٹ کی منتقلی سے تجربہ کار اپریزرز کے نقصان، باہمی رابطے میں کمی، اضافی اخراجات اور کلیئرنس کے امور میں تعطل کا خطرہ ہے۔ جبکہ سنٹرل اپریزنگ یونٹ کو فزیکلی منتقل کیے بغیر بھی رینڈم (بلا ترتیب) الیکٹرانک نظام کے ذریعے فیس لیس اسسمنٹ کو برقرار رکھا جا سکتا ہے۔‘
ایسوسی ایشن نے ایف بی آر سے مطالبہ کیا کہ تجارت اور صنعت سے مشاورت کے بعد آزادانہ جائزہ مکمل ہونے تک نظام کو مزید وسعت دینے یا اس میں بڑی تبدیلیاں کرنے کا عمل معطل رکھا جائے۔
اپٹما نے کہا کہ زیر التوا کیسز نمٹانے کے لیے خصوصی سیل قائم کیا جائے، ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن اسکیم (ای ایف ایس) اور برآمدات کے لیے درآمد کیے جانے والے سامان کو ترجیح دی جائے جبکہ مجاز اقتصادی آپریٹرز اور قواعد کی پابندی کرنے والے درآمد کنندگان کو گرین چینل کی سہولت دی جائے۔
ایسوسی ایشن نے مزید تجویز دی کہ اسیسمنٹ اور پہلی نظرثانی کے لیے 24 گھنٹے، دوسری نظرثانی کے لیے 48 گھنٹے، سامان بندرگاہ پر اتارے جانے کے بعد جانچ پڑتال کے لیے 24 گھنٹے اور لیبارٹری نتائج کے لیے 72 گھنٹے کی پابند مدت مقرر کی جائے۔ مقررہ وقت گزرنے پر معاملہ خودکار طور پر اعلیٰ سطح پر بھیجنے اور جہاں قابلِ اطلاق ہو، کسٹمز ایکٹ کی دفعہ 81 کے تحت عارضی کلیئرنس دینے کا طریقہ بھی متعارف کرایا جائے۔
اپٹما کے مطابق ان اقدامات سے کلیئرنس میں تاخیر کم کرنے اور ٹیکسٹائل کی پیداوار و برآمدات میں رکاوٹوں سے بچنے میں مدد ملے گی۔




















Comments