امریکی 10 ارب ڈالر کی سہولت زر مبادلہ ذخائر کے تخمینے میں شامل نہیں، اسٹیٹ بینک
- بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں میں یورو بانڈز اور پانڈا بانڈز کے اجرا اور فروخت سے زرمبادلہ کے ذخائر میں جزوی طور پر نمایاں اضافہ ہوگا، جمیل احمد
پاکستان کے مرکزی بینک نے پیر کو کہا کہ جون 2027 کے اختتام تک زرمبادلہ کے ذخائر ریکارڈ 25 ارب ڈالر تک پہنچنے کی پیش گوئی میں امریکا سے طلب کی گئی 10 ارب ڈالر کی ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سپورٹ فیسلٹی (زرِ مبادلہ کے استحکام کے لیے مالی سہولت) شامل نہیں ہے۔
رواں سال کے آغاز میں پاکستان نے اپنے زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط بنانے، روپے پر دباؤ کم کرنے اور دوطرفہ مالی انتظامات اور کثیرالجہتی قرض دہندگان پر انحصار کم کرنے کے لیے امریکا سے باضابطہ طور پر 10 ارب ڈالر کی مالی سہولت طلب کی تھی۔
امریکا سے متوقع مالی معاونت سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے گورنر جمیل احمد نے کہا کہ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ جون 2027 کے اختتام تک زرمبادلہ کے ذخائر 25 ارب ڈالر تک پہنچنے کی پیش گوئی میں امریکا سے طلب کی گئی 10 ارب ڈالر کی ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سپورٹ فیسلٹی شامل نہیں ہے۔
جمیل احمد نے مزید کہا کہ اس کے بجائے بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں میں یورو بانڈز اور پانڈا بانڈز کے اجرا اور فروخت سے زرمبادلہ کے ذخائر میں جزوی طور پر نمایاں اضافہ ہوگا۔
وہ آئندہ چھ ہفتوں کے لیے مانیٹری پالیسی بیان کے اعلان کے موقع پر منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ اسٹیٹ بینک نے اس موقع پر پالیسی ریٹ میں 50 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کرکے اسے 12 فیصد کر دیا۔
بلومبرگ نیوز نے اگست 2026 کے اواخر میں رپورٹ کیا تھا کہ پاکستان کو امریکا سے 10 ارب ڈالر کی استحکامی مالی سہولت کی درخواست پر آئندہ چند ماہ میں واشنگٹن کے جواب کی توقع ہے۔ اسلام آباد، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ بہتر تعلقات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
اگر اس مالی سہولت کی منظوری دے دی گئی تو اس کی مدتِ واپسی پانچ سال تک ہو سکتی ہے۔
اس وقت اسٹیٹ بینک کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً 21.5 ارب ڈالر ہیں، جو تین ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔ جمیل احمد نے کہا کہ ہمارا ہدف ان ذخائر کو بڑھا کر 25 ارب ڈالر تک پہنچانا ہے، جس سے درآمدات کے لیے دستیاب زرِ مبادلہ کا دورانیہ بڑھ کر چار ماہ ہو جائے گا۔

















Comments