BR100 Decreased By (-1%)
BR30 Decreased By (-1.47%)
KSE100 Decreased By (-0.95%)
KSE30 Decreased By (-1.02%)
BAFL 55.51 Increased By ▲ 0.30 (0.54%)
BIPL 23.97 Decreased By ▼ -0.20 (-0.83%)
BOP 27.30 Decreased By ▼ -0.62 (-2.22%)
CNERGY 12.40 Increased By ▲ 0.05 (0.4%)
DFML 15.79 Decreased By ▼ -0.39 (-2.41%)
DGKC 175.58 Decreased By ▼ -2.63 (-1.48%)
FABL 90.01 Decreased By ▼ -0.40 (-0.44%)
FCCL 49.65 Decreased By ▼ -0.37 (-0.74%)
FFL 13.36 Decreased By ▼ -0.27 (-1.98%)
GGL 18.69 Decreased By ▼ -0.26 (-1.37%)
HBL 283.26 Decreased By ▼ -2.49 (-0.87%)
HUBC 187.86 Decreased By ▼ -2.78 (-1.46%)
HUMNL 8.05 Decreased By ▼ -0.24 (-2.9%)
KEL 5.55 Decreased By ▼ -0.08 (-1.42%)
LOTCHEM 23.04 Decreased By ▼ -0.89 (-3.72%)
MLCF 86.63 Decreased By ▼ -0.91 (-1.04%)
OGDC 298.12 Decreased By ▼ -2.38 (-0.79%)
PAEL 32.05 Decreased By ▼ -0.72 (-2.2%)
PIBTL 12.55 Decreased By ▼ -0.31 (-2.41%)
PIOC 224.17 Decreased By ▼ -3.51 (-1.54%)
PPL 210.17 Decreased By ▼ -4.03 (-1.88%)
PRL 94.52 Decreased By ▼ -0.60 (-0.63%)
SNGP 90.13 Decreased By ▼ -0.52 (-0.57%)
SSGC 22.52 Decreased By ▼ -0.03 (-0.13%)
TELE 6.66 Decreased By ▼ -0.08 (-1.19%)
TPLP 11.51 Increased By ▲ 0.23 (2.04%)
TRG 52.54 Decreased By ▼ -2.19 (-4%)
UNITY 7.62 Decreased By ▼ -0.07 (-0.91%)
WTL 0.89 Decreased By ▼ -0.01 (-1.11%)
رائے

پاکستان کی صنعتی پالیسی: بلند عزائم سے مسابقتی صلاحیت تک

  • پاکستان کی صنعتی پالیسی کی کامیابی کا دارومدار مقامی صنعت کو عالمی منڈی میں مسابقت کے قابل بنانے پر ہے۔ برآمدات، معیار اور پیداواری صلاحیت میں بہتری، واضح حکمتِ عملی اور مؤثر عمل درآمد سے صنعتی ترقی اور معیشت کو تقویت مل سکتی ہے
شائع اپ ڈیٹ

حکومت کی قومی صنعتی پالیسی (این آئی پی) پاکستان کے صنعتی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، برآمدات بڑھانے اور کاروبار کے لیے زیادہ مسابقتی ماحول پیدا کرنے کا ایک اہم موقع فراہم کرتی ہے۔ تاہم اصل امتحان یہ نہیں کہ ملک بلند اہداف کا اعلان کرتا ہے یا صنعتوں کو ریلیف فراہم کرتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ آیا پاکستانی کاروبار اپنی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرتے، زیادہ قدر و قیمت کی حامل مصنوعات تیار کرتے اور عالمی منڈیوں میں کامیابی سے مقابلہ کرتے ہیں یا نہیں۔

مئی 2025 میں حکومت نے آئندہ پانچ برسوں کے دوران برآمدات میں 60 ارب ڈالر اضافے کا ہدف مقرر کرنے کا اعلان کیا اور مختلف شعبوں کے لیے قابلِ پیمائش اہداف پر مبنی کاروباری منصوبے تیار کرنے پر زور دیا مگر پاکستان کی اشیائے تجارت کی برآمدات مالی سال 2024-25 کے 32.04 ارب ڈالر سے کم ہو کر مالی سال 2025-26 میں 30.14 ارب ڈالر رہ گئیں، جو تقریباً 5.9 فیصد کمی ظاہر کرتی ہیں۔

یہ تضاد اس ضرورت کو اجاگر کرتا ہے کہ قومی عزائم کو ایسے عملی اقدامات سے جوڑا جائے جن پر کاروباری ادارے عمل کر سکیں۔ حکومت کو چاہیے کہ برآمدات کے مقررہ ہدف کی بنیاد اور دائرۂ کار واضح کرے اور اس کے حصول کے لیے ایک جامع لائحۂ عمل بھی شائع کرے۔

صرف ترقی کافی نہیں

پاکستان میں باصلاحیت کاروباری افراد اور مستحکم صنعتی شعبے موجود ہیں، لیکن ملک کی صنعتی صلاحیت مسلسل برآمدی ترقی اور برآمدات میں خاطر خواہ تنوع کی صورت میں سامنے نہیں آ سکی۔ عالمی بینک کے مطابق مجموعی ملکی پیداوار میں برآمدات کا اوسط حصہ 1990 کی دہائی میں 16 فیصد تھا، جو 2024 میں کم ہو کر تقریباً 10.4 فیصد رہ گیا۔ (عالمی بینک، پاکستان ڈیولپمنٹ اپ ڈیٹ، اکتوبر 2025)۔ اس لیے چیلنج محض زیادہ پیداوار حاصل کرنا نہیں، بلکہ پیداواری صلاحیت، معیار اور برآمد کی جانے والی مصنوعات کی قدر میں اضافہ کرنا بھی ہے۔

پاکستان کے پیداواری شعبے میں بحالی کے حوصلہ افزا آثار دکھائی دے رہے ہیں۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025-26 میں بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 4.98 فیصد اضافہ ہوا۔ لیكن پیداوار میں اضافہ بذاتِ خود اس بات کا ثبوت نہیں کہ صنعتیں عالمی منڈیوں میں زیادہ مسابقتی ہو گئی ہیں۔ پائیدار صنعتی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ کاروباری ادارے مؤثر انداز میں پیداوار کریں، بین الاقوامی معیار پر پورا اتریں، بروقت اور قابلِ اعتماد ترسیل یقینی بنائیں اور مارکیٹ کی بدلتی ہوئی طلب کے مطابق خود کو ڈھالیں۔

توانائی کی بلند قیمتیں، ٹیکسوں کا بوجھ، مہنگی فنانسنگ، درآمدی خام مال اور دیگر ضروری اشیا کی زیادہ لاگت اور غیر یقینی ضوابط، حتیٰ کہ بہتر انتظام کے تحت چلنے والے کاروباروں کی کارکردگی کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔ حکومت کو قابلِ پیش گوئی پالیسیوں، مؤثر ضابطہ کاری اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار کاروباری ماحول کے ذریعے ان رکاوٹوں کو دور کرنا چاہیے۔ تاہم صرف لاگت کم کرنا کامیابی کی ضمانت نہیں۔ کسی صنعت کار کو سستی بجلی تو مل سکتی ہے، لیکن اگر مصنوعات کا معیار یکساں نہ ہو، ترسیل قابلِ اعتماد نہ ہو یا پیداواری طریقے فرسودہ ہوں تو وہ پھر بھی اپنے صارفین کھو سکتا ہے۔

پاکستان کو مضبوط صنعتی بنیاد قائم کرنے کے لیے اپنی روایتی صنعتوں کو ترک کرنے کی ضرورت نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ انہیں زیادہ قدر و قیمت کی حامل مصنوعات کی تیاری کی جانب بڑھنے میں مدد دی جائے۔ مثال کے طور پر ٹیکسٹائل کے شعبے میں صرف بنیادی کپڑے کی قیمت کی بنیاد پر مقابلہ کرنے سے صنعت کار لاگت کے دباؤ اور بین الاقوامی مسابقت کے سامنے زیادہ غیر محفوظ ہو جاتے ہیں۔

خصوصی نوعیت کے کپڑے، تکنیکی ٹیکسٹائل، بہتر ڈیزائن کے ملبوسات اور مخصوص منڈیوں کی ضروریات کے مطابق تیار کردہ مصنوعات زیادہ قدر پیدا کر سکتی ہیں۔ جراحی کے آلات، کھیلوں کا سامان، چمڑے کی مصنوعات، فوڈ پروسیسنگ اور انجینئرنگ کے شعبوں میں بھی اسی نوعیت کے مواقع موجود ہیں۔

اس سمت میں آگے بڑھنے کے لیے جدید مشینری، تکنیکی مہارتوں، مصنوعات کے ڈیزائن، معیار پر قابو پانے اور بین الاقوامی خریداروں کی ضروریات کو بہتر طور پر سمجھنے کی ضرورت ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ صنعتی انجمنوں، برآمد کنندگان اور تکنیکی اداروں کے ساتھ مل کر صنعتی ترقی اور مصنوعات کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں حائل عملی رکاوٹوں کی نشاندہی کرے اور کاروباری اداروں کو ان پر قابو پانے میں مدد فراہم کرے۔

انحصار نہیں، صلاحیت پیدا کریں

حکومت کا ایک اہم کردار ایسی صنعتی سہولیات فراہم کرنا ہے جنہیں انفرادی کاروباری ادارے، خصوصاً چھوٹے ادارے اپنے طور پر قائم کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ کسی صنعت کار کے پاس امید افزا مصنوعات تو ہو سکتی ہیں، لیکن اسے خصوصی نوعیت کی جانچ، سرٹیفکیشن، تکنیکی مشاورت یا جدید آلات تک رسائی حاصل نہ ہو۔ ایسی سہولیات کی عدم دستیابی میں اس کے لیے بین الاقوامی معیار پر پورا اترنا یا کسی بڑی کمپنی کا سپلائر بننا مشکل ہو سکتا ہے۔

صنعتی کلسٹرز کو مشترکہ ٹیکنالوجی مراکز، جانچ کی لیبارٹریوں، مصنوعات کی تیاری و ترقی کی سہولیات اور عملی تربیتی پروگراموں سے فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ یہ سہولیات حکومت، صنعتی انجمنوں، جامعات اور نجی اداروں کے اشتراک سے قائم کی جا سکتی ہیں، جن کی خدمات حقیقی کاروباری ضروریات کے مطابق ترتیب دی جائیں۔

عالمی بینک نے بھی ٹیکنالوجی مراکز اور مشترکہ سہولت مراکز کو ایسے ذرائع قرار دیا ہے جن کے ذریعے چھوٹے صنعت کار خصوصی آلات اور تکنیکی خدمات تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

صنعتی مضبوطی کا انحصار اس بات پر بھی ہے کہ چھوٹے کاروباری ادارے بڑی صنعتوں کو پرزہ جات، پیکیجنگ، مرمت و دیکھ بھال اور خصوصی خدمات فراہم کریں۔ حکومت تکنیکی تربیت، سرٹیفکیشن اور بڑی کمپنیوں کے ساتھ منظم شراکت داری کے ذریعے ایسے سپلائرز کی مدد کر سکتی ہے۔ مقصد یہ نہیں ہونا چاہیے کہ اداروں کو لاگت یا معیار سے قطع نظر مقامی خریداری پر مجبور کیا جائے، بلکہ پاکستانی سپلائرز کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ تجارتی بنیادوں پر مقابلہ کرتے ہوئے کاروباری معاہدے حاصل کر سکیں۔

یہی اصول مالی مراعات اور تحفظ پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ یہ اقدامات کاروباری اداروں کو مخصوص مشکلات پر قابو پانے، ٹیکنالوجی اپنانے یا نئی مصنوعات تیار کرنے میں مدد دے سکتے ہیں، لیکن اگر ادارے غیر معینہ مدت تک ان پر انحصار کرنے لگیں تو یہ اقدامات الٹا نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ ایسے درآمدی محصولات جو مشینری، کیمیکلز یا درمیانی نوعیت کی صنعتی اشیا کو مہنگا کر دیں، ایک صنعت کار کو تحفظ تو دے سکتے ہیں، لیکن دوسرے صنعت کاروں اور برآمد کنندگان کی لاگت بھی بڑھا سکتے ہیں۔

پاکستان سے حاصل ہونے والے شواہد بھی اس خدشے کو تقویت دیتے ہیں۔ عالمی بینک کی 2025 کی ایک تحقیق کے مطابق ٹیکسٹائل برآمدات کے لیے سبسڈی اسکیموں کے مجموعی برآمدات پر اثرات محدود رہے، جبکہ ان مراعات کے باعث برآمدی سرگرمیوں کا رخ زیادہ شرح سے ریبیٹ حاصل کرنے والی مصنوعات، خصوصاً ملبوسات کی جانب منتقل ہوا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مراعات مصنوعات کے انتخاب کو تو بدل سکتی ہیں، لیکن ضروری نہیں کہ ان کے نتیجے میں مجموعی برآمدات میں بھی اسی تناسب سے اضافہ ہو۔

اس سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کرنا چاہیے کہ تمام مراعات ختم کر دی جائیں۔ اصل سبق یہ ہے کہ حکومتی معاونت کسی واضح اور متعین رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے ہونی چاہیے اور اس کا مقصد کاروباری اداروں میں ایسی صلاحیتیں پیدا کرنا ہونا چاہیے جنہیں وہ طویل مدت تک برقرار رکھ سکیں۔ ٹیکنالوجی اپنانے، افرادی قوت کی تربیت، معیار کی سرٹیفکیشن اور برآمدات کے فروغ کے لیے معاونت، ایسے تحفظ کے مقابلے میں طویل مدت میں زیادہ فائدہ دے سکتی ہے جو محض اداروں کو مسابقت سے بچاتا رہے۔

بلند عزائم کو عملی نتائج میں بدلیں

سب سے اہم سوال یہ ہے کہ قومی صنعتی پالیسی کو عملی اور قابلِ پیمائش اقدامات میں کس طرح ڈھالا جائے گا۔ برآمدات کا ہدف اسی وقت مفید ثابت ہو سکتا ہے جب کاروباری اداروں اور سرکاری محکموں کو معلوم ہو کہ کن شعبوں سے کتنی برآمدات متوقع ہیں، کون سی رکاوٹیں دور کرنا ضروری ہیں اور پیش رفت کا جائزہ کب لیا جائے گا۔

حکومت کو چاہیے کہ ایک واضح نفاذی فریم ورک شائع کرے، جس میں برآمدات کے سالانہ سنگِ میل، شعبہ وار ترجیحات، دستیاب مراعات اور عمل درآمد کے ذمہ دار اداروں کی نشاندہی کی گئی ہو۔ اس فریم ورک میں یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ پیش رفت کا جائزہ کس طرح لیا جائے گا اور اہداف حاصل نہ ہونے کی صورت میں کیا اصلاحی اقدامات کیے جائیں گے۔ برآمدات کے بلند ہدف کے لیے موجودہ صورتِ حال سے مقررہ منزل تک پہنچنے کا ایک قابلِ اعتماد راستہ درکار ہے، محض ایک بڑا عددی ہدف کافی نہیں۔

حکومتی اداروں کے درمیان رابطہ کاری بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ صنعتی توانائی کی لاگت، ٹیکسوں، تجارتی پالیسی اور سرمایہ کاری کی مراعات کا اثر ایک ہی صنعت کار پر پڑتا ہے، لیکن ان سے متعلق فیصلے اکثر مختلف ادارے الگ الگ کرتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ صنعتی مسابقت کی راہ میں حائل اہم رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے واضح ذمہ داریاں مقرر کرے اور یقینی بنائے کہ مختلف محکموں کے فیصلے ایک مشترکہ مقصد کی تکمیل میں معاون ہوں۔ یہ مقصد پاکستان میں پیداوار کو زیادہ مسابقتی بنانا ہے، تاہم اس عمل میں توانائی کے شعبے کی مالی پائیداری کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔

پالیسی پر عمل درآمد کے لیے خود کاروباری اداروں کی رائے کو بھی اہمیت دی جانی چاہیے۔ صنعت کاروں، برآمد کنندگان، چھوٹے سپلائرز اور صنعتی انجمنوں سے باقاعدہ مشاورت کے ذریعے یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ کون سی رکاوٹیں سب سے زیادہ نقصان پہنچا رہی ہیں اور کون سے اقدامات مؤثر ثابت ہو رہے ہیں۔ جائزوں میں اجلاسوں کی تعداد یا اعلان کردہ مراعات کے بجائے پیداواری صلاحیت، سرمایہ کاری، مصنوعات کے معیار اور برآمدات میں قابلِ پیمائش بہتری کو بنیادی اہمیت دی جانی چاہیے۔

پاکستان کو ایسی صنعتی پالیسی کی ضرورت نہیں جو ہر ایک سے ہر طرح کے وعدے کرے۔ اسے ایسی پالیسی درکار ہے جو وسائل کو ترقی کی حقیقی رکاوٹیں دور کرنے اور ایسی صلاحیتیں پیدا کرنے پر مرکوز کرے جنہیں انفرادی کاروباری ادارے تنہا آسانی سے فروغ نہیں دے سکتے۔

پاکستان کی صنعتی پالیسی کا اصل امتحان یہ ہے کہ آیا وہ مقامی صنعت کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ حکومتی تحفظ پر غیر معینہ مدت تک انحصار کیے بغیر کامیابی سے مقابلہ کر سکے۔ پیداوار میں اضافہ یقیناً اہم ہے، لیکن مضبوط برآمدات، بہتر مصنوعات، زیادہ پیداواری صلاحیت اور اہل مقامی سپلائرز صنعتی ترقی کے لیے زیادہ مستحکم بنیاد فراہم کریں گے۔ بلند عزائم کو واضح ترجیحات، جواب دہی پر مبنی عمل درآمد اور صنعتی ترقی و جدید کاری کے لیے مسلسل معاونت میں تبدیل کرکے حکومت ایسا صنعتی شعبہ تشکیل دینے میں مدد دے سکتی ہے جو برآمدات، سرمایہ کاری اور طویل مدتی معاشی ترقی میں زیادہ قابلِ اعتماد کردار ادا کرے۔

یہ مضمون لازماً بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کی رائے کی عکاسی نہیں کرتا۔

Comments

200 حروف