آر فور وزرائے خارجہ کی اسرائیلی تشدد اور حوثی حملوں کی مذمت
- چاروں ممالک کا سفارتی کوششوں میں کردار ادا کرنے کے عزم کا اعادہ
پاکستان، ترکیہ، مصر اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ نے جمعہ کو فلسطین میں اسرائیلی تشدد کے خاتمے کا مطالبہ کیا، سعودی عرب اور بحیرہ احمر میں بحری جہازوں پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت کی جبکہ امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان تنازع کے حل اور آبنائے ہرمز سے محفوظ بحری آمدورفت یقینی بنانے کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری پر زور دیا۔ دفتر خارجہ کی جانب سے یہاں جاری کردہ آر فور وزارتی اجلاس کے مشترکہ اعلامیے میں یہ باتیں کہی گئیں۔
ترکیہ، مصر، پاکستان اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ (آر فور گروپ) نے جمعے کو استنبول میں ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی کے علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ چاروں ممالک نے سفارتی کوششوں میں کردار ادا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا اور اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں اور مقاصد کے مطابق خطے اور اس سے باہر امن و استحکام کے فروغ کو مشترکہ مفاد قرار دیا۔
وزرائے خارجہ نے زور دیا کہ اسرائیلی قبضہ خطے اور اس سے باہر عدم استحکام کی بنیادی وجہ ہے جب کہ اسرائیلی پالیسیاں عالمی رائے عامہ میں ناانصافی کے گہرے احساس کو جنم دے رہی ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق دو ریاستی حل پر جلد عملدرآمد کا مطالبہ کیا۔
وزرائے خارجہ نے فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی حمایت کا اعادہ کیا جن میں حق خودارادیت اور 4 جون 1967ء کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد، خودمختار، قابلِ عمل اور جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست کا قیام شامل ہے جس کا دارالحکومت مشرقی بیت المقدس ہو۔ انہوں نے مشرق وسطیٰ میں جامع امن کے قیام کے لیے سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق اس مقصد کے حصول پر زور دیا۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی تشدد کے فوری خاتمے، بیت المقدس کی قانونی اور تاریخی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں روکنے اور فلسطین میں مزید تباہی و انسانی المیے کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے مغربی کنارے اور بیت المقدس میں ماضی اور حال کی تمام اسرائیلی آبادکاری سرگرمیوں اور فلسطینیوں کے خلاف آبادکاروں کے تشدد کی مذمت کی۔ انہوں نے غزہ میں بلا تعطل انسانی امداد کی فراہمی اور تعمیر نو کی فوری ضرورت پر بھی زور دیا۔
یمن کے حوالے سے وزرائے خارجہ نے حوثی ملیشیا کی جانب سے ناقابلِ قبول کشیدگی میں اضافے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی جس سے انسانی مصائب میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کے مسلسل حملوں، بالخصوص شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حملوں، نیز بحیرہ احمر اور باب المندب میں تجارتی جہاز رانی پر حملوں کی بھی مذمت کی۔
انہوں نے یمن کی حکومت اور مملکت سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے حوثی ملیشیا پر زور دیا کہ وہ تمام فوجی کارروائیاں، دھمکیاں اور حملے فوری طور پر بند کرے اور نیک نیتی کے ساتھ سیاسی عمل کی جانب واپس آئے۔
امریکا و اسرائیل اور ایران کے درمیان فوجی تنازع اور آبنائے ہرمز کی صورت حال کے حوالے سے وزرائے خارجہ نے زور دیا کہ اس تنازع کو صرف مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کی فوری ضرورت ہے۔ انہوں نے جہازوں سمیت شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے سے گریز پر بھی زور دیا۔ وزرائے خارجہ نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی حمایت کا اظہار کیا، کشیدگی میں مزید اضافے کو روکنے کے لیے جاری سفارتی کوششوں کا خیرمقدم کیا اور مذاکرات کے ذریعے پائیدار حل کے عزم کا اعادہ کیا۔
وزرائے خارجہ نے بحری جہاز رانی کی آزادی، سمندری تحفظ و سلامتی کو مستقل بنیادوں پر یقینی بنانے اور جہاز رانی سے متعلق حقوق و آزادیوں کے تحفظ کو انتہائی اہم قرار دیا۔
وزرائے خارجہ نے قانونی جہاز رانی میں رکاوٹ ڈالنے والے کسی بھی اقدام یا پابندی کو مسترد کرتے ہوئے آبنائے ہرمز سے محفوظ، پُرامن اور بلا رکاوٹ آمدورفت کی جلد اور مکمل بحالی کا مطالبہ کیا۔
وزرائے خارجہ نے مذکورہ امور پر قریبی مشاورت اور رابطہ کاری جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔


















Comments