عالمی تجارت کی نئی دراڑیں
جنگ کے طویل مدتی اثرات محض اس تباہی تک محدود نہیں رہتے جو یہ اپنے پیچھے چھوڑتی ہے یا تجارت میں فوری طور پر پیدا ہونے والی رکاوٹوں تک۔ یہ ممالک اور کاروباری اداروں کے لیے اشیا کے حصول کے ذرائع، مال برداری کے راستوں کے انتخاب اور خطرات کے تعین کے طریقوں کو بھی تبدیل کردیتی ہے۔ عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) کی ڈائریکٹر جنرل نگوزی اوکونجو ایویلا نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر ایک حالیہ انٹرویو میں اسی پہلو کی نشاندہی کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اور یوکرین کی جنگیں عالمی تجارت کے بہاؤ پر دیرپا اثرات مرتب کریں گی۔ ان کا یہ انتباہ سنجیدہ توجہ کا متقاضی ہے۔
ایران جنگ کے باعث مشرقِ وسطیٰ کی تجارت میں نمایاں سکڑاؤ آیا ہے۔ عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) نے رواں سال خطے کی برآمدات میں 17 فیصد اور درآمدات میں 15 فیصد کمی کی پیش گوئی کی ہے۔ جنگ بندی ہونے اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھلنے کے باوجود جنگ سے پہلے کے تجارتی معمولات کی بحالی یقینی نہیں، کیونکہ کاروباری ادارے مستقبل میں ممکنہ رکاوٹوں سے بچاؤ کے لیے متبادل تجارتی راستوں اور سپلائرز پر سرمایہ کاری کرچکے ہیں اور امکان ہے کہ وہ ان متبادل انتظامات کو برقرار رکھیں گے۔
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جنگ کے اثرات فوری طور پر متاثرہ علاقوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ دنیا بھر میں تجارتی راستوں، سپلائی چینز اور معاشی سرگرمیوں کو متاثر کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر بحیرۂ احمر، آبنائے باب المندب اور نہر سوئز ایک اہم بحری تجارتی راہداری بناتے ہیں جو ایشیائی صنعت کاروں کو یورپی منڈیوں سے منسلک کرتی ہے۔ سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی کشیدگی نے اس راستے پر بحری جہازوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو لاحق خطرات بڑھا دیے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کسی ایک اہم بحری گزرگاہ کے اطراف عدم استحکام کس طرح مختلف براعظموں میں سپلائی چینز کو متاثر کرسکتا ہے۔ اسی طرح یوکرین کی جنگ نے بھی روایتی تجارتی راستوں کو تبدیل کردیا ہے جس سے بحیرۂ اسود کے ذریعے اناج اور تیل کی برآمدات متاثر ہوئی ہیں۔ اس صورت حال میں برآمد کنندگان کو متبادل راستے تلاش کرنے اور رسد کے ذرائع میں تنوع پیدا کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ ان تمام حالات سے یہ سبق ملتا ہے کہ جغرافیائی و سیاسی خطرات تیزی سے کاروبار کرنے کی لاگت کا مستقل حصہ بنتے جارہے ہیں۔ یہ رکاوٹیں علاقائی تجارت کی جانب منتقلی کے عمل کو بھی تیز کررہی ہیں کیونکہ ممالک دور دراز کے سپلائرز اور خطرات سے دوچار بحری تجارتی راستوں پر انحصار کم کرنا چاہتے ہیں۔ اگرچہ اس رجحان سے علاقائی اقتصادی روابط مضبوط ہوسکتے ہیں، تاہم اس سے عالمی تجارت کے باہم مقابل بلاکس میں تقسیم ہونے کا خطرہ بھی بڑھ رہا ہے۔
2023 کے اواخر سے بحیرۂ احمر میں جاری بحران اس بات کی واضح مثال ہے کہ یہ تمام عوامل عالمی بحری تجارت کی حکمت عملیوں کو کس طرح تبدیل کررہے ہیں۔ تجارتی جہازوں پر حوثیوں کے حملوں کے باعث متعدد شپنگ کمپنیوں نے نہر سوئز کے بجائے کیپ آف گڈ ہوپ کے گرد متبادل راستہ اختیار کرلیا ہے جس سے ایندھن کا استعمال، بیمہ پریمیم اور مال برداری کے اخراجات بڑھ گئے ہیں جبکہ سامان کی ترسیل میں بھی تاخیر ہورہی ہے۔
ان جغرافیائی و سیاسی ہنگامہ آرائیوں کے باوجود بظاہر عالمی تجارت کے امکانات مستحکم دکھائی دیتے ہیں۔ عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) نے حال ہی میں 2026 کے دوران عالمی تجارتی مال کے حجم میں اضافے کی پیش گوئی مارچ میں لگائے گئے 1.9 فیصد کے تخمینے سے بڑھا کر 3.9 فیصد کردی ہے جس کی بڑی وجہ اے آئی سے متعلق مصنوعات کی طلب میں غیر معمولی اضافہ ہے۔ تاہم نگوزی اوکونجو ایویلا نے خبردار کیا ہے کہ یہ مضبوط نمو پس منظر میں موجود ناموافق رجحانات کو چھپا سکتی ہے۔ توانائی اور بحری مال برداری کے بڑھتے اخراجات پیداواری لاگت میں اضافہ کرتے ہیں، مہنگائی پر قابو پانے کی کوششوں کو پیچیدہ بناتے ہیں اور ان معیشتوں پر غیر متناسب بوجھ ڈالتے ہیں جو درآمدات پر انحصار کرتی ہیں اور جن کے پاس مالی وسائل اور زرمبادلہ ذخائر محدود ہوتے ہیں۔ ترقی پذیر ممالک کو اس وقت خاص مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب مہنگی مال برداری اور ضروری درآمدات کے بڑھتے اخراجات کے ساتھ مقامی کرنسی کی قدر میں کمی اور قرضوں کی ادائیگی کے اخراجات میں اضافہ بھی ہوجائے، لہٰذا تجارتی ذرائع اور راستوں میں تنوع پیدا کرنا ضروری ہے، لیکن اس کی بھی ایک قیمت ہے۔ متعدد سپلائرز، نقل و حمل کی راہداریاں اور اشیا کے ذخائر برقرار رکھنے سے رسد کا تحفظ بہتر ہوسکتا ہے، تاہم اس کے نتیجے میں وہ کفایتی فوائد کم ہوجاتے ہیں جنہوں نے عالمی سپلائی چینز کو مسابقت کے قابل بنایا تھا۔ حکومتوں کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ تجارتی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنائیں، علاقائی رابطوں کو بہتر کریں اور قواعد پر مبنی منڈیوں تک رسائی کو قابلِ پیش گوئی اور مستحکم رکھیں جبکہ سلامتی سے متعلق خدشات کو بلاامتیاز تحفظ پسندی کے جواز میں تبدیل ہونے سے بھی روکیں۔
نگوزی اوکونجو ایویلا کی یہ تنبیہ درست ہے کہ حالیہ مسلح تنازعات کے نتیجے میں عالمی تجارت میں آنے والی بعض تبدیلیاں جنگ ختم ہونے کے باوجود برقرار رہنے کا امکان ہے۔ تاہم، امن کی بحالی نہ صرف انسانی ہمدردی کے تقاضوں بلکہ عالمی معاشی استحکام کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ بحری تجارتی راستوں کا کھلا رہنا، توانائی کی قابلِ اعتماد فراہمی اور کثیرالجہتی تجارتی نظام کا فعال ہونا عالمی مفاد عامہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ تنازعات جتنی طویل مدت تک جاری رہیں گے، اتنا ہی زیادہ امکان ہوگا کہ عارضی متبادل انتظامات عالمی معیشت میں مستقل تقسیم کا سبب بن جائیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026





















Comments