BR100 Increased By (0.49%)
BR30 Increased By (1.06%)
KSE100 Increased By (0.35%)
KSE30 Increased By (0.38%)
BAFL 56.78 Increased By ▲ 0.02 (0.04%)
BIPL 24.72 Increased By ▲ 0.01 (0.04%)
BOP 29.86 Increased By ▲ 0.14 (0.47%)
CNERGY 12.88 Decreased By ▼ -0.05 (-0.39%)
DFML 17.10 Increased By ▲ 0.19 (1.12%)
DGKC 188.48 Increased By ▲ 1.51 (0.81%)
FABL 93.73 Increased By ▲ 0.20 (0.21%)
FCCL 52.40 Increased By ▲ 0.55 (1.06%)
FFL 14.15 Increased By ▲ 0.16 (1.14%)
GGL 19.85 Increased By ▲ 0.59 (3.06%)
HBL 302.40 Decreased By ▼ -0.43 (-0.14%)
HUBC 202.21 Increased By ▲ 0.88 (0.44%)
HUMNL 9.48 Increased By ▲ 0.21 (2.27%)
KEL 6.06 Increased By ▲ 0.47 (8.41%)
LOTCHEM 25.68 Decreased By ▼ -0.04 (-0.16%)
MLCF 91.60 Increased By ▲ 0.31 (0.34%)
OGDC 317.38 Increased By ▲ 0.33 (0.1%)
PAEL 34.31 Increased By ▲ 0.33 (0.97%)
PIBTL 13.63 Increased By ▲ 0.06 (0.44%)
PIOC 238.75 Increased By ▲ 2.11 (0.89%)
PPL 223.01 Increased By ▲ 1.89 (0.85%)
PRL 94.99 Increased By ▲ 0.61 (0.65%)
SNGP 91.10 Increased By ▲ 0.41 (0.45%)
SSGC 23.46 Increased By ▲ 0.39 (1.69%)
TELE 7.34 Increased By ▲ 0.10 (1.38%)
TPLP 12.10 Increased By ▲ 0.36 (3.07%)
TRG 55.68 Increased By ▲ 0.34 (0.61%)
UNITY 7.80 Increased By ▲ 0.05 (0.65%)
WTL 1.00 No Change ▼ 0.00 (0%)
کاروبار اور معیشت

آٹو مینوفیکچررز کا استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد میں نرمی معطل کرنے کا مطالبہ

  • اہم حفاظتی اقدامات ختم کیے جانے سے استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد میں تیزی آسکتی ہے، پاما
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما) نے منگل کو حکومت پر زور دیا ہے کہ انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) کے استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد سے متعلق نظرثانی شدہ فریم ورک پر عمل درآمد معطل کیا جائے، کیونکہ اس سے مقامی کار سازوں کو غیر متناسب نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

وزیراعظم کے صنعت و پیداوار کے مشیر ہارون اختر خان کو لکھے گئے خط میں پاما کے ڈائریکٹر جنرل رضی الرحمٰن نے 30 ستمبر کے نوٹیفکیشن پر نظرثانی اور آٹو موٹیو صنعت سمیت دیگر متعلقہ فریقوں سے بامعنی مشاورت کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ اہم حفاظتی اقدامات ختم کیے جانے سے استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد میں تیزی آسکتی ہے، جس کے نتیجے میں مقامی آٹو انڈسٹری اور اس کے وینڈر نیٹ ورک کو 50 ارب روپے سے زیادہ کا نقصان ہوسکتا ہے۔

ہارون اختر خان نے مؤقف اختیار کیا کہ ایک متوازن ریگولیٹری فریم ورک ضروری ہے، جو صارفین کے مفادات کا تحفظ کرے اور مسابقت کو فروغ دے، جبکہ اس بات کو یقینی بنائے کہ مقامی مینوفیکچررز اور ان کی بڑے پیمانے پر کی گئی سرمایہ کاری کو غیر ارادی اور غیر متناسب نقصان کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

خط میں کہا گیا کہ پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کی جانب سے ہم 30 ستمبر 2026 کے ای ڈی بی نوٹیفکیشن پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کرنا چاہتے ہیں، جو 30 ستمبر 2025 کے نوٹیفکیشن کی جگہ نافذ کیا گیا ہے اور استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد کو منظم کرنے والے ضابطہ جاتی فریم ورک میں نمایاں نرمی متعارف کراتا ہے۔

خط کے مطابق نظرثانی شدہ فریم ورک پہلے نوٹیفکیشن کے تحت متعارف کرائے گئے حفاظتی اقدامات میں کمی کی نمائندگی کرتا ہے۔ بالخصوص اس میں:

1۔ ضابطے کا دائرہ کار صرف استعمال شدہ گاڑیوں تک محدود کردیا گیا ہے، جبکہ 2025 کے نوٹیفکیشن میں نئی اور استعمال شدہ دونوں مکمل طور پر تیار شدہ گاڑیوں (سی بی یوز) کا احاطہ کیا گیا تھا۔

2۔ درآمدی کمپنیوں کے لیے کم از کم سرمایہ کی شرط اور مناسب بعد از فروخت خدمات کی شرط ختم کردی گئی ہے، جبکہ مؤثر مصنوعات واپس منگوانے کے طریقہ کار کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا۔

3۔ درآمد سے قبل اور درآمد کے بعد معائنے کی ذمہ داریاں ای ڈی بی سے پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (پی ایس کیو سی اے) کو منتقل کردی گئی ہیں۔

4۔ ایس آر او 2443(آئی)/2025 کے تحت کمرشل درآمدات کو مزید آسان بنایا گیا ہے، جس کے تحت پی ایس کیو سی اے میں رجسٹرڈ کمپنیاں درآمد شدہ استعمال شدہ گاڑیوں کا معائنہ کرسکتی ہیں۔

پاما نے کہا کہ ان تبدیلیوں کے نتیجے میں درآمدی حجم پر پہلے ہی نمایاں اثر پڑ رہا ہے۔

وزارت تجارت کے اعداد و شمار کے مطابق استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمدات مئی 2026 میں 48 یونٹس سے بڑھ کر جون میں 843، جولائی میں 1,938، اگست میں 1,445 اور ستمبر 2026 میں 2,276 یونٹس ہوگئیں۔

ہارون اختر نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اہم ضابطہ جاتی حفاظتی اقدامات ختم کیے جانے سے اس رجحان میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔

پاما کے عہدیدار کو تشویش تھی کہ یہ لبرلائزیشن ایسے وقت میں کی جارہی ہے جب مقامی آٹو موٹیو صنعت پہلے ہی خاصی غیر یقینی صورتحال میں کام کررہی ہے، جس میں آئندہ آٹو پالیسی اور قومی ٹیرف پالیسی (این ٹی پی) 2025-30 کے علاوہ مسابقت اور مارکیٹ کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے ٹیرف میں نمایاں کمی کی تجاویز بھی شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسی دوران کمرشل طور پر درآمد کی جانے والی استعمال شدہ گاڑیوں کو لاگت کے حوالے سے پہلے ہی نمایاں فائدے حاصل ہیں، جن میں 36 فیصد تک فرسودگی کے فوائد بھی شامل ہیں۔ اس سے ایک سنگین عدم توازن پیدا ہوتا ہے: مقامی مینوفیکچررز کو پلانٹ، مقامی پیداوار، ٹیکنالوجی، روزگار، معیار کے نظام، ٹیکسوں اور ضابطہ جاتی تقاضوں میں سرمایہ کاری کرنا پڑتی ہے، جبکہ کمرشل طور پر درآمد کی جانے والی استعمال شدہ گاڑیاں ایسی تقابلی ذمہ داریوں کے بغیر مارکیٹ میں داخل ہوسکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ محض مسابقتی دباؤ کا معاملہ نہیں ہے۔ اگر اسے بغیر روک ٹوک جاری رہنے دیا گیا تو مقامی طور پر تیار کردہ گاڑیوں کی جگہ درآمد شدہ گاڑیوں کے آنے کے نتیجے میں سرمایہ کاری، مقامی پیداوار، روزگار، حکومتی محصولات اور پاکستان کی آٹو موٹیو مینوفیکچرنگ اور وینڈر بیس کے استحکام پر نمایاں اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

پاما کا اندازہ ہے کہ مالی سال 2025-26 کی درآمدی سطح دوبارہ بحال ہونے کی صورت میں مقامی آٹو موٹیو صنعت اور اس کے وسیع وینڈر نیٹ ورک کو 50 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوسکتا ہے۔

Comments

200 حروف