تھر بلاک ٹو: فیز تھری سے کوئلے کی سالانہ پیداوار بڑھ کر 11.2 ملین ٹن ہو جائے گی، وزیراعلیٰ
- سندھ حکومت نے تھرپارکر میں منصوبے کے فیز تھری کا افتتاح کردیا
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے پیر کو کہا ہے کہ تھر کول بلاک ٹو منصوبے کے فیز تھری کی تکمیل کے بعد تھر کوئلے کی کان کی سالانہ پیداوار 36 لاکھ ٹن اضافے سے بڑھ کر 1 کروڑ 12 لاکھ ٹن ہوجائے گی۔
ایک بیان کے مطابق سندھ حکومت نے پیر کو تھرپارکر میں منصوبے کے فیز تھری کا افتتاح کردیا۔
تھر کوئلہ صوبہ سندھ میں موجود مقامی لیگنائٹ کوئلے کے ذخائر ہیں جو ملک کی توانائی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں اور درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے کے لیے معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔ یہاں اندازاً 175 ارب ٹن لیگنائٹ کوئلے کے ذخائر موجود ہیں جو اسے دنیا کے بڑے کوئلے کے ذخائر میں شامل کرتے ہیں۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ توسیعی منصوبے سے کان کی پیداواری صلاحیت میں سالانہ 36 لاکھ ٹن اضافہ ہوگا، یوں پیداوار 76 لاکھ ٹن سالانہ سے بڑھ کر 1 کروڑ 12 لاکھ ٹن ہوجائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ منصوبہ 100 فیصد سیلف فنانسنگ کے ذریعے مکمل کیا جارہا ہے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ فیز تھری کی تکمیل کے بعد مائن ماؤتھ پاور پلانٹ میں بجلی کی لاگت کم ہوکر 3.75 ڈالر فی ملین برٹش تھرمل یونٹس (ایم ایم بی ٹی یو) رہنے کی توقع ہے۔ مقامی کوئلے سے پیدا ہونے والی بجلی درآمدی کوئلے پر مبنی بجلی کے مقابلے میں تقریباً تین گنا سستی ہوگی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ فیز تھری کے تحت لکی الیکٹرک پاور کمپنی کے 660 میگاواٹ کے پاور پلانٹ کو تھر کوئلے پر چلانے کے قابل بنایا جائے گا جس کے بعد تھر سے مجموعی بجلی کی پیداوار 1,980 میگاواٹ تک پہنچ جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ توسیعی منصوبے سے بجلی کی پیداوار کی لاگت میں سالانہ تقریباً 15 ارب روپے، یعنی 54 ملین ڈالر کی بچت متوقع ہے جبکہ ہر سال تقریباً 220 ملین ڈالر کے زرمبادلہ کی بھی بچت ہوگی۔
مراد علی شاہ کے مطابق تھر منصوبہ پہلے ہی 1.7 ارب ڈالر سے زائد کے زرمبادلہ کی بچت کرچکا ہے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ حکومت کوئلے کی گیسی فکیشن کے ذریعے تھر کوئلے سے یوریا اور صنعتی و ایندھن کے استعمال کیلئے سنگیس (Syngas) تیار کرنے پر بھی غور کر رہی ہے کیونکہ پاکستان درآمدی ایندھن پر اپنا انحصار کم کرنے کی کوشش کررہا ہے۔
وزیراعلی نے مزید کہا کہ تھر فیز تھری کے بعد مقامی کوئلے کا استعمال مزید بڑھے گا۔مجوزہ تھر ریل منصوبہ کوئلے کو ملک بھر میں قابلِ رسائی بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔





















Comments