ایس سی او اجلاس : وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر کی علاقائی امن، دوطرفہ تعلقات پر گفتگو
- مسعود پزشکیان نے علاقائی سلامتی کے لیے پاکستان کی مسلسل سفارتی کوششوں کی تعریف کی
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پیر کو بشکیک، کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہانِ مملکت کے اجلاس کے موقع پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی، جس میں دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
ملاقات میں وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، وزیراعظم کے معاون خصوصی سید طارق فاطمی اور سیکریٹری خارجہ سفیر امنہ بلوچ شریک ہوئے، جبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور دیگر اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔
ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ایران کے درمیان دیرینہ اور قریبی تعلقات کی اہمیت کا اعادہ کرتے ہوئے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس سلسلے میں جون میں صدر پزشکیان کے دورہ پاکستان کے دوران طے پانے والی مفاہمت کو آگے بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
دونوں رہنماؤں نے علاقائی روابط اور عوامی سطح پر رابطوں کے فروغ کی کوششوں کا بھی جائزہ لیا۔
علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کی مخلصانہ سفارتی کوششوں کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے حالیہ دورہ تہران اور ان کی تعمیری ملاقاتوں کو اس حوالے سے مثبت پیش رفت قرار دیا۔
وزیراعظم نے خطے میں دیرپا امن و استحکام کے لیے تحمل اور مسلسل سفارتی رابطوں کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تحت طے پانے والی مفاہمت کو آگے بڑھانے پر زور دیتے ہوئے اسے دیرپا علاقائی امن کے لیے واحد قابلِ عمل راستہ قرار دیا۔
صدر مسعود پزشکیان نے علاقائی امن و سلامتی کے لیے پاکستان کی مسلسل سفارتی کوششوں کو سراہا۔ایرانی صدر نے پاکستان اور ایران کے تعلقات کی پائیدار اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے روابط صدیوں پر محیط مشترکہ تاریخ، ثقافت اور مذہب پر استوار ہیں۔ انہوں نے مختلف شعبوں میں پاکستان کے ساتھ تعاون مزید بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔
صدر پزشکیان نے عصرِ حاضر کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مسلم امہ کے اتحاد کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ملاقات کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر کو اپنی سہولت کے مطابق جلد از جلد پاکستان کے سرکاری دورے کی دعوت دی۔ صدر پزشکیان نے وزیراعظم شہباز شریف کو دسمبر 2026 میں تہران میں ہونے والے اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کے سربراہی اجلاس میں شرکت کی دعوت دی۔
وزیراعظم شہباز شریف کی کرغزستان آمد
وزیراعظم شہباز شریف پیر کو صدر کرغزستان صدر صادیر نورگوزوئیووچ ژاپاروف کی دعوت پر تین روزہ سرکاری دورے پر کرغز جمہوریہ پہنچے، جہاں وہ بدھ تک قیام کریں گے۔
بشکیک پہنچنے پر وزیراعظم کا استقبال کرغزستان کی کابینہ کے چیئرمین ادیل بیک کاسمالیئیف نے کیا۔دورے کے دوران وزیراعظم شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہانِ مملکت کے اجلاس میں شرکت کے علاوہ کرغزستان کی قیادت سے دوطرفہ ملاقاتیں کریں گے۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وزیر تجارت جام کمال خان، وزیر مواصلات عبدالعلیم خان، وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور دیگر اعلیٰ حکام بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہانِ مملکت کے اجلاس اور ایس سی او پلس سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے، جبکہ 2026-27 کے لیے ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کی سربراہی بھی پاکستان سنبھالے گا۔
ایس سی او اجلاس کے موقع پر وزیراعظم رکن ممالک کے رہنماؤں سے دوطرفہ ملاقاتیں کریں گے اور آج منعقد ہونے والی ورلڈ نومیڈ گیمز کی افتتاحی تقریب میں بھی شرکت کریں گے۔
2 ستمبر کو وزیراعظم شہباز شریف صدر ژاپاروف کے ساتھ پاکستان اور کرغزستان کے تعلقات کے تمام پہلوؤں پر دوطرفہ مذاکرات کریں گے۔
دونوں جانب سے پاکستان اور کرغزستان کے تعلقات کا جامع جائزہ لیتے ہوئے تجارت و سرمایہ کاری، توانائی، علاقائی روابط، تعلیم، سیاحت اور عوامی سطح پر روابط سمیت مختلف شعبوں میں تعاون مزید بڑھانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
رہنما باہمی دلچسپی کے علاقائی و عالمی امور اور علاقائی و کثیرالجہتی فورمز پر تعاون کے حوالے سے بھی خیالات کا تبادلہ کریں گے۔
پاکستان اور کرغز جمہوریہ کے درمیان گرمجوش اور برادرانہ تعلقات قائم ہیں، جو مشترکہ تاریخ، مذہب اور ثقافتی قربت کے ساتھ ساتھ جنوبی اور وسطی ایشیا میں امن، روابط اور خوشحالی کے مشترکہ عزم پر مبنی ہیں۔
وزیراعظم کا یہ دورہ حالیہ اعلیٰ سطح کے روابط سے پیدا ہونے والی رفتار کو مستحکم کرنے، سیاسی خیرسگالی کو عملی تعاون میں تبدیل کرنے اور پاکستان و کرغزستان کے دیرینہ شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کا اہم موقع فراہم کرے گا۔























Comments