نیپال اور چین میں نئے سیلاب کا خطرہ، جھیلیں پھٹنے کے خدشات بڑھ گئے
- ہمالیہ میں سیلاب کا نیا الرٹ، گلیشیئر کے ملبے سے بننے والی دو نئی جھیلوں کے پھٹنے کا خدشہ
نیپال اور چین نے جمعرات کو ہمالیہ میں سیلاب کے ایک اور خطرے سے خبردار کیا، جہاں سرحد کے دونوں جانب بننے والی دو جھیلوں کے پھٹنے کا خدشہ ہے۔ یہ خطہ رواں ہفتے آنے والے تباہ کن سیلاب کے اثرات سے اب بھی دوچار ہے۔
ملبے سے اٹے وادیوں اور پہاڑی ڈھلوانوں میں تلاش اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ بدھ کو نیپال اور چین کے تبت سے ملحقہ سرحدی علاقوں میں آنے والے سیلاب کے نتیجے میں کم از کم 362 افراد ہلاک جبکہ تقریباً ایک ہزار افراد تاحال لاپتا ہیں۔
دونوں ممالک نے سیلاب کی وجہ گلیشیئر کے ٹوٹنے کو قرار دیا ہے، جس کے باعث چٹانیں، برف، کیچڑ اور ملبہ پہاڑی علاقوں میں دریائی نظام میں جا گرا۔
نیپال کی ڈیزاسٹر اتھارٹی نے جمعرات کو ایک انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب زدہ مقام پر دریا کا راستہ ملبے سے بند ہونے کے نتیجے میں بننے والی جھیل کی سطح بلند ہو رہی ہے اور اس کے پھٹنے کا خطرہ ہے۔
اتھارٹی نے کہا، ’’زیریں علاقوں کے مکینوں، دریا کے کناروں سے گزرنے والے مسافروں، امدادی کارروائیوں میں مصروف ریسکیو اہلکاروں اور تمام متعلقہ افراد سے درخواست ہے کہ وہ خصوصی احتیاط برتیں اور دریا کے کناروں اور خطرناک علاقوں سے دور محفوظ مقامات پر رہیں۔‘‘
چین نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ تین روز کے دوران 30 لاکھ مکعب میٹر پانی، جو تقریباً 1,200 اولمپک سائز کے سوئمنگ پولز کے برابر ہے، سرحد کے اس جانب پہلے سے بند جھیل میں داخل ہونے کا امکان ہے۔ اس سے جھیل کا بند ٹوٹنے کا خطرہ بہت بڑھ گیا ہے، جبکہ پانی کا بہاؤ یکم ستمبر کے آس پاس عروج پر پہنچنے کی توقع ہے۔
چینی سرکاری نشریاتی ادارے سی جی ٹی این کے مطابق چینی ریسکیو ٹیم نے جمعرات کو فضائی فوٹیج کے ذریعے ملبے سے بننے والی جھیل کی تشکیل کے مناظر ریکارڈ کیے۔
فوٹیج میں بھورے رنگ کے پانی کی بڑی مقدار ایک ایسے نشیبی حصے میں جمع ہوتی دکھائی دی جہاں پانی کے اخراج کا کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا تھا۔ پانی پہلے ہی جھاڑیوں اور درختوں کو اپنی لپیٹ میں لے چکا تھا اور ملبے اور پتھروں سے بنے بند سے ٹکرا رہا تھا۔
مزید بارش کی پیش گوئی
چینی سرکاری میڈیا نے وزارتِ آبی وسائل کے حوالے سے بتایا کہ آئندہ ہفتے متوقع بارشیں اس خطرے کو مزید بڑھا دیں گی۔
وزارتِ آبی وسائل کے شعبۂ ہائیڈرولوجی کے محقق ژو جن فینگ نے سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کو بتایا، ’’پانی کی مقدار مسلسل بڑھ رہی ہے اور اس کے ساتھ خطرہ بھی بڑھ رہا ہے۔‘‘
انتباہ کے پیش نظر نیپال میں بعض امدادی کارکنوں نے جمعرات کو بلند مقامات کی جانب منتقل ہونا شروع کردیا۔
ان میں پاون کوئرالا بھی شامل تھے، جنہوں نے انتباہ جاری ہونے کے بعد اپنی 13 رکنی ٹیم کے ہمراہ دریا کے پاٹ سے دور اور نسبتاً بلند مقام کی جانب منتقل ہونا شروع کیا۔
انہوں نے کہا، ’’ہم یہاں امدادی کارروائیوں کے لیے موجود ہیں اور خطرے کے علاقے کے قریب نہیں رہنا چاہتے۔‘‘























Comments