BR100 Decreased By (-0.26%)
BR30 Decreased By (-0.76%)
KSE100 Decreased By (-0.17%)
KSE30 Decreased By (-0.18%)
BAFL 56.97 Increased By ▲ 0.10 (0.18%)
BIPL 24.91 Decreased By ▼ -0.05 (-0.2%)
BOP 30.29 Decreased By ▼ -0.06 (-0.2%)
CNERGY 13.02 Decreased By ▼ -0.10 (-0.76%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 189.74 Decreased By ▼ -2.71 (-1.41%)
FABL 94.39 Increased By ▲ 0.25 (0.27%)
FCCL 52.52 Decreased By ▼ -0.27 (-0.51%)
FFL 14.59 Decreased By ▼ -0.13 (-0.88%)
GGL 19.26 Decreased By ▼ -0.30 (-1.53%)
HBL 306.50 Increased By ▲ 0.40 (0.13%)
HUBC 200.95 Decreased By ▼ -0.47 (-0.23%)
HUMNL 10.06 Decreased By ▼ -0.10 (-0.98%)
KEL 6.14 Increased By ▲ 0.05 (0.82%)
LOTCHEM 26.27 Decreased By ▼ -0.19 (-0.72%)
MLCF 92.60 Decreased By ▼ -0.56 (-0.6%)
OGDC 314.88 Decreased By ▼ -1.85 (-0.58%)
PAEL 35.22 Decreased By ▼ -0.41 (-1.15%)
PIBTL 14.69 Increased By ▲ 0.01 (0.07%)
PIOC 242.11 Decreased By ▼ -1.10 (-0.45%)
PPL 223.47 Decreased By ▼ -3.44 (-1.52%)
PRL 91.99 Decreased By ▼ -1.03 (-1.11%)
SNGP 91.63 Decreased By ▼ -0.21 (-0.23%)
SSGC 23.70 Decreased By ▼ -0.11 (-0.46%)
TELE 7.70 Decreased By ▼ -0.10 (-1.28%)
TPLP 12.67 Decreased By ▼ -0.30 (-2.31%)
TRG 56.42 Decreased By ▼ -0.14 (-0.25%)
UNITY 8.06 Decreased By ▼ -0.01 (-0.12%)
WTL 1.02 Increased By ▲ 0.01 (0.99%)
کاروبار اور معیشت

درآمدی کوئلے کی خریداری میں بڑی نااہلی، پاور ڈویژن نے پالیسی گائیڈ لائن جاری کردی

  • پاکستان میں تقریباً 5,280 میگاواٹ مجموعی صلاحیت کے حامل کوئلے سے چلنے والے بجلی گھر مکمل یا جزوی طور پر درآمدی کوئلے پر انحصار کرتے ہیں۔
شائع اپ ڈیٹ

پاور ڈویژن نے بجلی گھروں کی جانب سے درآمدی کوئلے کی خریداری میں نمایاں نااہلی کی نشاندہی کرتے ہوئے اصلاحی اقدامات کے لیے پالیسی گائیڈ لائنز جاری کردی ہیں، جن پر عملدرآمد سے قومی خزانے کو سالانہ تقریباً 380 ملین روپے کی بچت ہوسکتی ہے۔

یہ انکشاف وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کی زیر صدارت ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاسوں کے دوران ہوا، جن میں درآمدی کوئلے کی اصل خریداری کے اعدادوشمار، معاہدوں اور مارکیٹ میں رائج طریقہ کار کا جائزہ لیا گیا۔

پاکستان میں تقریباً 5,280 میگاواٹ مجموعی صلاحیت کے حامل کوئلے سے چلنے والے بجلی گھر مکمل یا جزوی طور پر درآمدی کوئلے پر انحصار کرتے ہیں۔ ان میں پورٹ قاسم، حب پاور اور ساہیوال کے 1,320 میگاواٹ کے بجلی گھر شامل ہیں، جبکہ لکی اور جامشورو پاور پلانٹس بھی درآمدی کوئلہ استعمال کرسکتے ہیں۔

بجلی گھر بین الاقوامی سپلائرز کے ساتھ کول سپلائی ایگریمنٹس کے تحت کوئلہ خریدتے ہیں، جبکہ قیمتیں عموماً اے پی آئی-فور جیسے عالمی بینچ مارک سے منسلک ہوتی ہیں۔ تاہم حتمی قیمت سپلائرز سے حاصل کردہ ڈسکاؤنٹ پر بھی منحصر ہوتی ہے۔

جائزے میں انکشاف ہوا کہ ایک ہی سپلائر اور ایک ہی عالمی بینچ مارک کے باوجود مختلف بجلی گھروں کو دی جانے والی رعایت میں نمایاں فرق موجود ہے۔ بعض معاملات میں ڈسکاؤنٹ صرف 0.25 ڈالر فی میٹرک ٹن جبکہ بعض میں 7.12 ڈالر فی میٹرک ٹن تک رہا۔

جائزے میں یہ بھی سامنے آیا کہ بعض بجلی گھروں نے ایسے سپلائرز سے کوئلہ وصول کرنا جاری رکھا جن کی رعایت کم تھی، حالانکہ دوسرے معاہدہ شدہ سپلائر زیادہ رعایت دے رہے تھے۔

پاور ڈویژن کے مطابق ایسی صورتحال کا براہِ راست اثر بجلی صارفین پر پڑتا ہے کیونکہ ایندھن کی خریداری کی لاگت بالآخر بجلی کے ٹیرف میں شامل ہوتی ہے۔

اصلاحات کے پہلے مرحلے میں بہترین دستیاب ڈسکاؤنٹ کا اصول متعارف کرایا جارہا ہے، جس کے تحت بجلی گھروں کو معاہدہ شدہ سپلائرز میں سے سب سے زیادہ رعایت دینے والے سپلائر سے کوئلہ خریدنا ہوگا۔

پاور ڈویژن کے اندازے کے مطابق اس اقدام پر کسی اضافی سرمایہ کاری کے بغیر سالانہ تقریباً 380 ملین روپے کی بچت ہوسکتی ہے۔

وفاقی وزیر اویس لغاری نے کہا کہ اقدام کا مقصد ایندھن کی خریداری میں شفافیت اور کارکردگی یقینی بنانا اور بچت کا فائدہ بجلی صارفین تک پہنچانا ہے۔ تاہم ایک کوئلہ بجلی گھر کے نمائندے نے سوال اٹھایا کہ حکومت خود بولی کے ذریعے کوئلہ کیوں نہیں خریدتی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف