BR100 Decreased By (-0.6%)
BR30 Decreased By (-1.16%)
KSE100 Decreased By (-0.56%)
KSE30 Decreased By (-0.54%)
BAFL 56.92 Increased By ▲ 0.05 (0.09%)
BIPL 24.91 Decreased By ▼ -0.05 (-0.2%)
BOP 30.07 Decreased By ▼ -0.28 (-0.92%)
CNERGY 12.96 Decreased By ▼ -0.16 (-1.22%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 187.85 Decreased By ▼ -4.60 (-2.39%)
FABL 93.78 Decreased By ▼ -0.36 (-0.38%)
FCCL 52.00 Decreased By ▼ -0.79 (-1.5%)
FFL 14.45 Decreased By ▼ -0.27 (-1.83%)
GGL 19.05 Decreased By ▼ -0.51 (-2.61%)
HBL 305.55 Decreased By ▼ -0.55 (-0.18%)
HUBC 199.99 Decreased By ▼ -1.43 (-0.71%)
HUMNL 9.98 Decreased By ▼ -0.18 (-1.77%)
KEL 6.13 Increased By ▲ 0.04 (0.66%)
LOTCHEM 26.25 Decreased By ▼ -0.21 (-0.79%)
MLCF 91.39 Decreased By ▼ -1.77 (-1.9%)
OGDC 314.15 Decreased By ▼ -2.58 (-0.81%)
PAEL 35.10 Decreased By ▼ -0.53 (-1.49%)
PIBTL 14.66 Decreased By ▼ -0.02 (-0.14%)
PIOC 239.99 Decreased By ▼ -3.22 (-1.32%)
PPL 222.50 Decreased By ▼ -4.41 (-1.94%)
PRL 90.99 Decreased By ▼ -2.03 (-2.18%)
SNGP 90.62 Decreased By ▼ -1.22 (-1.33%)
SSGC 23.30 Decreased By ▼ -0.51 (-2.14%)
TELE 7.58 Decreased By ▼ -0.22 (-2.82%)
TPLP 12.65 Decreased By ▼ -0.32 (-2.47%)
TRG 56.48 Decreased By ▼ -0.08 (-0.14%)
UNITY 8.03 Decreased By ▼ -0.04 (-0.5%)
WTL 1.02 Increased By ▲ 0.01 (0.99%)

ورچوئل ایسٹ سروس پرووائیڈرز کے لائسنسنگ کا عمل شروع

  • موجودہ ورچوئل ایسٹ سروس پرووائیڈرز کے لیے 5 ستمبر تک این او سی کے حصول کے لیے درخواستیں جمع کرانا لازمی قرار
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان نے ورچوئل ایسٹ سروس پرووائیڈرز کے لئے باضابطہ طور پر لائسنسنگ کا عمل شروع کردیا جو ایک ریگولیٹڈ فریم ورک کے تحت ملک کو عالمی ڈیجیٹل اثاثہ جات کی معیشت سے وابستہ کرنے کی سمت میں ایک بڑا قدم ہے۔

ورچوئل ایسٹس ایکٹ 2026 کی دفعہ 70 کے تحت موجودہ ورچوئل ایسٹ سروس پرووائیڈرز کے لیے 5 ستمبر 2026 تک این او سی (عدم اعتراض سرٹیفکیٹ) کے حصول کے لیے درخواستیں جمع کرانا لازمی قرار دیا گیا ہے، بصورت دیگر انہیں اپنی سرگرمیاں بند کرنا ہوں گی۔

پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی نے اب لائسنسنگ کے عمل کو فعال کردیا ہے جبکہ درخواستیں اور ضابطہ جاتی تفصیلات اس کے سرکاری پورٹل پر دستیاب ہیں۔

یہ پیش رفت پاکستان کی جانب سے بنیادی قانون سازی سے ضوابط کے نوٹیفکیشن اور لائسنسنگ نظام کے آغاز کی جانب پیشرفت کے چھ ماہ سے بھی کم عرصے بعد سامنے آئی ہے۔

نئے فریم ورک کا مقصد ورچوئل اثاثوں سے متعلق کاروبار کو باقاعدہ ضابطہ جاتی نگرانی کے دائرے میں لانا ہے جس کے تحت لائسنسنگ، قوانین کی پابندی، جوابدہی اور صارفین کے تحفظ سے متعلق تقاضے پورے کرنا ہوں گے۔

حکومت نے اس ضابطہ جاتی فریم ورک کو ڈیجیٹل اثاثوں سے متعلق کاروبار کے لیے شفاف اور قواعد پر مبنی ماحول کے قیام کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے جس کے ذریعے پاکستان تیزی سے وسعت پذیر عالمی ورچوئل اثاثہ معیشت میں بھی حصہ لے سکے گا۔

موجودہ آپریٹرز کو این او سی کے عمل کے ذریعے اپنی سرگرمیوں کو باقاعدہ بنانے کے لیے واضح مدت مقرر کی گئی ہے جو بڑی حد تک غیر منظم مارکیٹ سے باضابطہ ضابطہ جاتی نگرانی کی جانب منتقلی کا عندیہ ہے۔

پی وی اے آر اے نے ممکنہ درخواست گزاروں اور موجودہ ورچوئل ایسٹ سروس پرووائیڈرز کو لائسنسنگ کے تقاضوں کا جائزہ لینے اور اپنے سرکاری پورٹل کے ذریعے درخواستیں جمع کرانے کا مشورہ دیا ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026

Comments

200 حروف