یمن، صومالیہ کے قریب 2 ہائی جیک بحری جہازوں پر 22 بھارتی شہری موجود
- بھارت کا کہنا ہے کہ دو غیر ملکی پرچم بردار بحری جہاز اغوا کیے گئے ہیں، ایک پر 16 جبکہ دوسرے پر 6 بھارتی شہری سوار تھے
نئی دہلی نے کہا ہے کہ رواں ہفتے خلیج عدن میں مسلح افراد کے ہاتھوں قبضے میں لیے گئے دو بحری جہازوں پر سوار عملے میں 22 بھارتی ملاح بھی شامل ہیں۔ بھارتی وزارتِ خارجہ نے جمعے کو یہ بات بتائی ہے۔
16 بھارتی ملاحوں پر مشتمل ٹینکر سی مول، جسے سیبو 1 کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، نے جمعرات کو خلیج عدن میں مدد کے لیے ہنگامی پیغام جاری کیا۔ مسلح افراد جہاز پر سوار ہوئے اور اسے رخ تبدیل کرکے صومالیہ کی جانب جانے پر مجبور کردیا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے صحافیوں کو بتایا، ’’دو غیر ملکی پرچم بردار بحری جہازوں کا معاملہ ہے۔ ایک پر 16 جبکہ دوسرے پر 6 بھارتی شہری سوار تھے۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’ہم متعلقہ حکام سے رابطے میں ہیں، اطلاعات کے مطابق تمام افراد محفوظ ہیں۔‘‘
بھارت نے دیگر ممالک کے عملے کے ارکان کی تعداد یا ان کے بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
امریکا نے گزشتہ سال دسمبر میں سی مول ٹینکر کو ایران کے ’’شیڈو فلیٹ‘‘ میں شامل جہازوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے اس پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ ان جہازوں پر الزام ہے کہ وہ گمراہ کن بحری طریقہ کار استعمال کرتے ہوئے ایرانی تیل برآمد کرتے ہیں۔
پیر کو کیمرون کے پرچم بردار کارگو جہاز لوتوف کو بھی آٹھ مسلح افراد نے ہائی جیک کرلیا تھا، جس پر 6 بھارتی شہری سوار تھے۔ حملہ آوروں نے یہ کارروائی اپریل میں قبضے میں لیے گئے ایک بحری جہاز ایم وی سوارڈ سے کی تھی۔
2000 کی دہائی میں صومالیہ کے ساحل کے قریب بحری قزاقی عروج پر تھی اور 2011 میں اس نے بلند ترین سطح کو چھوا، تاہم بین الاقوامی بحری افواج کی تعیناتی اور تجارتی جہاز رانی کے لیے نئے حفاظتی اقدامات کے بعد اس پر قابو پا لیا گیا۔
بھارت دنیا بھر میں تجارتی جہاز رانی کے لیے ملاح فراہم کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے۔ بھارتی وزارتِ جہاز رانی کے مطابق 2025 میں ملک میں 3 لاکھ 20 ہزار سے زائد فعال ملاح موجود تھے۔
























Comments