بلاول کی اپوزیشن سے پارلیمانی قائمہ کمیٹیوں میں واپس آنے کی اپیل
- بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بدھ کو اپوزیشن جماعتوں پر زور دیا کہ وہ پارلیمانی قائمہ کمیٹیوں میں واپس آئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کو مؤثر بنانے اور انتخابی اصلاحات آگے بڑھانے کے لیے اپوزیشن کی فعال شرکت ناگزیر ہے۔
بلاول نے پارلیمنٹ ہاؤس میں قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ پارلیمنٹ کا احترام کیا ہے اور وہ چاہتی ہے کہ ملک کے جمہوری عمل میں پارلیمان مؤثر کردار ادا کرے۔
انہوں نے کہا، ’’پارلیمنٹ کو فعال رکھنے کے لیے قائمہ کمیٹیوں کا فعال ہونا بھی ضروری ہے،‘‘ اور اپوزیشن جماعتوں پر زور دیا کہ وہ کمیٹیوں کے بائیکاٹ کے اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں۔
بلاول نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے اپوزیشن جماعتوں سے رابطہ کیا ہے اور وہ چاہتی ہے کہ تمام سیاسی قوتیں مذاکرات کے عمل میں شامل ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ انتخابی اصلاحات پارلیمنٹ کے ذریعے کی جانی چاہئیں، لہٰذا جو جماعتیں انتخابی عمل میں بہتری کی خواہاں ہیں، انہیں کمیٹیوں میں واپس آکر مل کر کام کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل سے متعلق تحفظات اپوزیشن اور حکومتی بنچوں، حتیٰ کہ حکومتی اتحادیوں اور وزرا کی جانب سے بھی سامنے آرہے ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ انتخابی عمل سے متعلق اعتراضات دور کرنے میں اپنا کردار ادا کریں،‘‘ اور مزید کہا کہ اصلاحات کا عمل پارلیمانی کمیٹیوں کے ذریعے آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو طبی علاج کی سہولت ملنی چاہیے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ بہتر ہوتا اگر حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کرنے کے بجائے خود ہی ان کے علاج کا انتظام کردیتی۔
نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے بلاول نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا مؤقف واضح ہے اور پارٹی عوام کی رائے کا احترام کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی عوام پر زبردستی کوئی فیصلہ مسلط کرنے کی حمایت نہیں کرے گی۔
جنوبی پنجاب کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہاں نئے صوبے کے قیام پر پہلے ہی اتفاقِ رائے موجود ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے پیپلز پارٹی کا مؤقف بدستور وہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا، ’’جہاں اتفاقِ رائے نہیں، وہاں نئے صوبے قائم نہیں کیے جانے چاہئیں۔‘‘
























Comments