مودی کی بی جے پی نے نوجوانوں کے احتجاج کے چند ہفتے بعد سوشل میڈیا سربراہ تبدیل کردیا
- بھارت کی بی جے پی نے نوجوانوں کی مؤثر آن لائن تحریکوں سے ہم آہنگ ہونے کے لیے حکمتِ عملی میں تبدیلی کے تحت نیا سوشل میڈیا سربراہ مقرر کردیا
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے پیر کو تنظیمی ردوبدل کے تحت اپنا سوشل میڈیا سربراہ تبدیل کردیا۔ پارٹی نے یہ اعلان ایسے وقت میں کیا ہے جب چند ہفتے قبل سوشل میڈیا پر زور پکڑنے والے نوجوانوں کے احتجاج کے باعث وزیر تعلیم کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا تھا۔
یہ ردوبدل بی جے پی کے نئے صدر نتن نابین کی جانب سے کیا جانے والا پہلا بڑا تنظیمی اقدام ہے۔ 45 سالہ نتن نابین نے جنوری میں پارٹی کی قیادت سنبھالی تھی اور وہ بی جے پی کے کم عمر ترین صدر ہیں۔ ان کی تقرری کو نئی نسل کی قیادت کی جانب منتقلی اور نوجوان ووٹرز کو اپنے ساتھ جوڑے رکھنے کی بی جے پی کی کوششوں کا حصہ قرار دیا جارہا ہے۔
بی جے پی نے ایک بیان میں کہا کہ 2015 سے پارٹی کے سوشل میڈیا سربراہ کے عہدے پر فائز امیت مالویہ کی جگہ دیپک مہاسکے کو مقرر کردیا گیا ہے۔ پارٹی نے مہاسکے کی سابقہ ذمہ داریوں کے بارے میں تفصیلات نہیں بتائیں، تاہم ان کے لنکڈ اِن پروفائل کے مطابق وہ پارٹی ترجمان اور وسطی بھارت میں بی جے پی کے انفارمیشن ٹیکنالوجی سیل کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ان کے نئے کردار کے بارے میں مزید کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔
مالویہ نے ایکس پر مہاسکے اور ان کی ٹیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ’’مجھے یقین ہے کہ ان کی قیادت میں بی جے پی کی ڈیجیٹل کمیونیکیشن نئی کامیابیاں حاصل کرے گی اور پختگی، تخلیقی صلاحیت اور وضاحت کے ساتھ بھارت کے عوامی مباحثے کی تشکیل جاری رکھے گی۔‘‘
نابین نے اس تبدیلی کی وجہ یا یہ وضاحت نہیں کی کہ مہاسکے کی قیادت میں سوشل میڈیا ٹیم کیا مختلف انداز میں کام کرے گی۔ تاہم وسیع تر تنظیمی ردوبدل کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس سے پارٹی کی تنظیم مزید مضبوط ہوگی اور اسے ’’نئی رفتار‘‘ ملے گی۔
یہ تنظیمی ردوبدل نئی دہلی اور دیگر شہروں میں دسیوں ہزار افراد کے احتجاج کے چند ہفتے بعد کیا گیا ہے۔ مظاہرین نے قومی میڈیکل کالج داخلہ امتحان کے سوالیہ پرچے لیک ہونے پر اُس وقت کے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کیا تھا۔ پردھان نے 25 جولائی کو استعفیٰ دے دیا تھا۔
احتجاج کی قیادت خود کو ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ کہنے والے گروپ نے کی، جو مئی میں سوشل میڈیا پر ایک طنزیہ پلیٹ فارم کے طور پر سامنے آیا اور چند ہی روز میں وائرل ہوگیا۔ ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں اس کے فالوورز کی تعداد ڈیڑھ کروڑ تک پہنچ گئی، جبکہ اس کے مقابلے میں بی جے پی کے فالوورز کی تعداد 90 لاکھ سے بھی کم تھی۔
سوشل میڈیا بڑی حد تک جنریشن زیڈ سے تعلق رکھنے والے مظاہرین کے لیے احتجاجی مہم کا اہم مرکز بن گیا۔ انہوں نے ان پلیٹ فارمز پر ریپ، گانوں اور ویڈیوز کے ذریعے مودی اور ان کی حکومت کا مذاق اڑایا، حالانکہ بی جے پی طویل عرصے سے انہی پلیٹ فارمز کو اپنے حامیوں سے رابطے اور سیاسی بیانیے کی تشکیل کے لیے بھرپور طور پر استعمال کرتی رہی ہے۔























Comments