BR100 Decreased By (-0.55%)
BR30 Decreased By (-0.86%)
KSE100 Decreased By (-0.47%)
KSE30 Decreased By (-0.6%)
BAFL 57.77 Decreased By ▼ -0.12 (-0.21%)
BIPL 23.15 Decreased By ▼ -0.05 (-0.22%)
BOP 28.35 Decreased By ▼ -0.31 (-1.08%)
CNERGY 13.64 Decreased By ▼ -0.44 (-3.13%)
DFML 15.41 Decreased By ▼ -0.32 (-2.03%)
DGKC 178.15 Decreased By ▼ -3.85 (-2.12%)
FABL 91.40 Decreased By ▼ -0.50 (-0.54%)
FCCL 52.28 Decreased By ▼ -0.33 (-0.63%)
FFL 12.90 Decreased By ▼ -0.09 (-0.69%)
GGL 19.01 Decreased By ▼ -0.55 (-2.81%)
HBL 291.55 Decreased By ▼ -3.35 (-1.14%)
HUBC 193.18 Decreased By ▼ -0.86 (-0.44%)
HUMNL 8.57 Increased By ▲ 0.20 (2.39%)
KEL 5.79 Decreased By ▼ -0.17 (-2.85%)
LOTCHEM 23.89 Decreased By ▼ -0.58 (-2.37%)
MLCF 90.51 Decreased By ▼ -0.52 (-0.57%)
OGDC 306.78 Increased By ▲ 0.57 (0.19%)
PAEL 32.33 Decreased By ▼ -0.39 (-1.19%)
PIBTL 12.93 Decreased By ▼ -0.15 (-1.15%)
PIOC 233.14 Decreased By ▼ -1.42 (-0.61%)
PPL 213.93 Decreased By ▼ -1.59 (-0.74%)
PRL 96.96 Decreased By ▼ -3.85 (-3.82%)
SNGP 90.53 Decreased By ▼ -1.31 (-1.43%)
SSGC 22.53 Decreased By ▼ -0.61 (-2.64%)
TELE 6.72 Decreased By ▼ -0.09 (-1.32%)
TPLP 12.60 Increased By ▲ 0.31 (2.52%)
TRG 51.96 Decreased By ▼ -1.12 (-2.11%)
UNITY 7.79 Increased By ▲ 0.11 (1.43%)
WTL 0.94 Decreased By ▼ -0.01 (-1.05%)
دنیا

ٹرمپ نے حوثیوں کو بڑے فوجی حملے کی دھمکی دے دی

  • بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے دوران ٹرمپ نے امریکی۔سعودی جوہری پروگرام کو ابراہم معاہدوں کے تحت سعودی عرب کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے سے مشروط کر دیا
شائع اپ ڈیٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو یمن کے حوثی باغیوں کو ”بڑی فوجی سزا“ دینے کی دھمکی دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر انہوں نے بحیرۂ احمر میں تیل بردار جہازوں پر میزائل یا ڈرون حملے جاری رکھے تو سخت کارروائی کی جائے گی۔

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا، ”امریکہ ایران کو اس کا ذمہ دار ٹھہرائے گا، کیونکہ حوثی ایران کے حمایت یافتہ اور اس کے پراکسی ہیں۔ اگر باغیوں نے مزید حملے کیے تو ایران اور یقیناً خود حوثیوں کو بھی بڑی فوجی سزا دی جائے گی۔“

ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری پروگرام کی منظوری کا انحصار مکمل طور پر اس بات پر ہوگا کہ سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو کر اسرائیل کو تسلیم کرے۔

ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں امریکہ نے ابراہم معاہدوں کی ثالثی کی تھی، جن کا مقصد اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان تعلقات کو فروغ دینا تھا۔

ٹرمپ نے کہا، ”سعودی عرب میں سول جوہری پروگرام کے قیام کے معاہدے کی منظوری دی جائے گی، تاہم یہ مکمل طور پر اس بات سے مشروط ہے کہ سعودی عرب کامیاب اور قابل احترام ابراہم معاہدوں میں شامل ہو۔“

سعودی عرب 2023 میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے ابتدائی مذاکرات کر رہا تھا، تاہم غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد یہ عمل اچانک روک دیا گیا۔

ریاض کا مؤقف ہے کہ وہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا۔

ٹرمپ کا یہ بیان ایک روز بعد سامنے آیا، جب امریکہ اور سعودی عرب نے ایک تاریخی معاہدے کا اعلان کیا، جس کے تحت مملکت میں سول جوہری پروگرام قائم کیا جائے گا۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے یورینیم افزودگی اور خطے میں جوہری ہتھیاروں کی دوڑ کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکہ ایران کے ساتھ جنگ میں مصروف ہے، جس کی ایک بڑی وجہ تہران کے جوہری پروگرام پر خدشات ہیں۔ یہی مسئلہ دونوں ممالک کے درمیان تعطل کا شکار امن مذاکرات میں بھی بنیادی اختلاف کا باعث بنا ہوا ہے۔

متحدہ عرب امارات، بحرین اور مراکش ابراہم معاہدوں کے دستخط کنندگان ہیں، جن کے تحت اسرائیل کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات قائم کیے گئے۔ سوڈان نے اگرچہ معاہدے پر دستخط کیے تھے، تاہم اب تک تعلقات کو باضابطہ شکل نہیں دی، جبکہ قازقستان، جو پہلے ہی اسرائیل کو تسلیم کر چکا تھا، گزشتہ نومبر میں ان معاہدوں میں شامل ہونے پر آمادہ ہوا۔

Comments

200 حروف