بروک کا انگلش کھلاڑیوں کو جو روٹ کے نقشِ قدم پر چلنے کا مشورہ
- کارڈف میں کامیابی سے قبل انگلینڈ اپنی گزشتہ 20 ون ڈے میچوں میں سے 16 میں شکست کھا چکا تھا
انگلینڈ کی وائٹ بال ٹیم کے کپتان ہیری بروک نے اپنی ٹیم پر زور دیا ہے کہ اگر وہ دنیا کی نمبر ایک ٹیم بھارت کے خلاف ون ڈے سیریز جیتنا چاہتی ہے تو اسے جو روٹ کی مثال سے سیکھنا ہوگا۔
روٹ نے پہلے ون ڈے میں شکست کے باوجود ناقابلِ شکست 76 رنز کی اننگز کھیلنے کے بعد دوسرے میچ میں بھی شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 99 ناٹ آؤٹ رنز بنائے، جس کی بدولت انگلینڈ نے جمعرات کو کارڈف میں کامیابی حاصل کرکے تین میچوں کی سیریز 1-1 سے برابر کر دی۔ اب سیریز کا فیصلہ اتوار کو لارڈز میں ہونے والے آخری ون ڈے میں ہوگا۔
کارڈف میں یہ فتح ایسے وقت میں آئی جب اس سے قبل انگلینڈ اپنی گزشتہ 20 ون ڈے میچوں میں سے 16 میں شکست کا سامنا کر چکا تھا۔
اس مایوس کن ریکارڈ نے یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ جارحانہ بیٹنگ پر انحصار کرنے والی انگلش ٹیم اگلے سال جنوبی افریقا، زمبابوے اور نمیبیا کی مشترکہ میزبانی میں ہونے والے 50 اوورز کے ورلڈ کپ میں کس حد تک مسابقتی ثابت ہو سکے گی۔
35 سالہ جو روٹ، جو 191 ون ڈے میچوں میں 20 سنچریوں کی مدد سے 7,752 رنز بنا چکے ہیں، نے کہا کہ انہیں انگلینڈ کی ٹیم میں آنے والے نوجوان کھلاڑیوں سے ہمدردی ہے، کیونکہ ملکی کرکٹ کے شیڈول میں تبدیلیوں کے باعث انہیں 50 اوورز کی کرکٹ کا وہ تجربہ اور سمجھ حاصل نہیں ہو سکی جو ماضی میں کھلاڑیوں کو میسر ہوتی تھی۔
تاہم روٹ کے یارکشائر کے ساتھی اور انگلینڈ کے کپتان ہیری بروک کا کہنا تھا کہ بہترین کھلاڑی بھی خود کو مزید بہتر بنانے کی کوشش جاری رکھتے ہیں۔
بروک نے ہفتے کو لارڈز میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ”میرے خیال میں انسان ہمیشہ سیکھتا رہتا ہے۔“
انہوں نے کہا، ”روٹ تقریباً 200 ون ڈے میچ کھیل چکے ہیں، لیکن وہ آج بھی سیکھنے اور خود کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ وہ انگلینڈ کے عظیم ترین بلے باز ہیں۔“
جب بروک سے پوچھا گیا کہ کیا انگلینڈ حد سے زیادہ روٹ پر انحصار کرنے لگا ہے، تو انہوں نے کہا، ”روٹ کئی برسوں سے غیرمعمولی کارکردگی دکھا رہے ہیں اور ان کا ٹیم میں ہونا ہمارے لیے باعثِ اطمینان ہے۔“
انہوں نے اعتراف کیا، ”حالیہ عرصے میں ہم نے ون ڈے اور ٹیسٹ دونوں فارمیٹس میں کسی حد تک ان پر زیادہ انحصار کیا ہے۔“
بروک نے کہا، ”امید ہے کہ میرے سمیت تمام کھلاڑی ان سے سیکھیں گے اور دیکھیں گے کہ وہ کتنی آسانی سے بیٹنگ کرتے ہیں اور کس طرح اسٹرائیک کو گردش میں رکھتے ہیں۔“
انہوں نے مزید کہا، ”اگر ہماری پوری ٹیم اپنی بیٹنگ میں جو روٹ کی کچھ خوبیاں شامل کر لے تو ہم یقیناً مضبوط پوزیشن میں ہوں گے۔“
دوسری جانب انگلینڈ اس وقت نئے ٹیسٹ کوچ کی تلاش میں ہے۔ برینڈن میک کولم، جو اب بھی محدود اوورز کی ٹیموں کے کوچ ہیں، نیوزی لینڈ کے خلاف حالیہ سیریز میں 2-1 کی شکست کے بعد ٹیسٹ ٹیم کی کوچنگ سے ہٹا دیے گئے تھے۔
اس شکست کے ساتھ انگلینڈ اپنی گزشتہ نو ٹیسٹ میچوں میں سے سات ہار چکا ہے۔
نئے ٹیسٹ کوچ سے متعلق سوال پر بروک نے کہا، ”یہ اچھا سوال ہے، اس کا جواب نئے کوچ کو ہی دینا ہوگا۔“
انہوں نے کہا، ”ہم چاہتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ مواقع پر خود کو ایسی مضبوط پوزیشن میں لے جائیں جہاں سے میچ پر غلبہ حاصل کیا جا سکے۔“
بروک نے مزید کہا، ”ٹیسٹ کرکٹ پانچ روزہ کھیل ہے، اور میرا خیال ہے کہ گزشتہ چند برسوں کے مقابلے میں ہمیں زیادہ مستقل مزاجی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔“

























Comments