نائب وزیراعظم اسحاق ڈار عالمی مصنوعی ذہانت کانفرنس میں شرکت کے لیے چین پہنچ گئے
- وزیر خارجہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے کے لیے رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی کریں گے
نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار جمعرات کو دو روزہ دورے پر شنگھائی چین پہنچ گئے ہیں۔ہوائی اڈے پر پہنچنے پر وزیر خارجہ کا استقبال شنگھائی کی میونسپل پارٹی کمیٹی کے اسٹینڈنگ کمیٹی کے رکن اور شنگھائی کے نائب میئر وو وی، چین میں پاکستان کے ناظم الامور اعزاز خان اور شنگھائی میں پاکستان کے قونصل جنرل شہزاد احمد خان نے کیا۔
چونکہ پاکستان بانی رکن کے طور پر ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کوآپریشن آرگنائزیشن (ڈبلیواے آئی سی او) میں شامل ہو رہا ہے اس لیے نائب وزیراعظم یہاں اس معاہدے پر دستخط کریں گے ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کانفرنس 2026 میں شرکت کریں گے اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون کو آگے بڑھانے اور ایک جامع و منصفانہ گورننس کو فروغ دینے کے لیے چینی رہنماؤں کے ساتھ تبادلہ خیال کریں گے۔وہ 17 جولائی کو گلوبل اے آئی گورننس کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کریں گے۔
علاوہ ازیں کانفرنس کے موقع پر اسحاق ڈار کے چینی وزیر خارجہ وانگ ای کے ساتھ دوطرفہ ملاقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کے لیے دیگر غیر ملکی ہم منصبوں سے ملاقات کے شیڈول بھی طے ہیں۔
دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار مصنوعی ذہانت میں بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے کے حوالے سے پاکستان کا نقطہ نظر پیش کریں گے، جس میں خاص طور پر ترقی پذیر ممالک (گلوبل ساؤتھ) کی ترجیحات اور ترقیاتی ضروریات پر زور دیا جائے گا۔ان سے یہ امید بھی کی جا رہی ہے کہ وہ عالمی سطح پر اے آئی کے فرق کو ختم کرنے کی اہمیت پر روشنی ڈالیں گے، تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ اے آئی پائیدار ترقی اور مشترکہ خوشحالی میں اپنا حصہ ڈالے۔
دریں اثنا اقوام متحدہ میں پاکستان اور تاجکستان کے مستقل مشنز نے وزیراعظم کے یوتھ پروگرام کے ساتھ مل کر اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں مصنوعی ذہانت پر ایک اعلیٰ سطحی بحث کا اہتمام کیا۔اپنے کلیدی خطاب میں وزیراعظم کے یوتھ پروگرام کے چیئرمین رانا مشہود احمد خان نے نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور قومی ترقی کے لیے اے آئی کو ایک محرک کے طور پر استعمال کرنے کے لیے حکومتِ پاکستان کے اقدامات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے موجودہ مالی سال کے لیے وزیراعظم کے یوتھ پروگرام کے لیے 40.58 ارب روپے مختص کیے ہیں، جو نوجوانوں کو اے آئی پر مبنی معیشت کے لیے تیار کرنے کے پاکستان کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔
پاکستان کے طویل مدتی اے آئی وژن کو اجاگر کرتے ہوئے چیئرمین نے بتایا کہ نیشنل آرٹیفیشل انٹیلیجنس پالیسی کا مقصد ملک بھر میں اے آئی کی تعلیم، تحقیق اور جدت کو فروغ دیتے ہوئے 2030 تک 10 لاکھ اے آئی پروفیشنلز اور 10 ہزار اے آئی ٹرینرز کو تربیت دینا ہے۔تاجکستان کے اقتصادی ترقی اور تجارت کے وزیر عبدالرحمن عبدالرحمن زادہ نے پائیدار ترقی کو آگے بڑھانے میں اے آئی کی انقلابی صلاحیتوں پر زور دیا، جبکہ ڈیجیٹل تقسیم کو ختم کرنے کے لیے منصفانہ رسائی، استعداد کار میں اضافے اور بین الاقوامی تعاون کی اہمیت پر بھی زور دیا۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے مضبوط بین الاقوامی شراکت داری قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ مصنوعی ذہانت کے فوائد منصفانہ طور پر تقسیم ہوں اور یہ سب کے لیے زیادہ شمولیت، لچک اور پائیدار ترقی کا باعث بنے۔
























Comments