BR100 Increased By (1.42%)
BR30 Increased By (1.24%)
KSE100 Increased By (1.02%)
KSE30 Increased By (1.18%)
BAFL 57.18 Increased By ▲ 0.79 (1.4%)
BIPL 26.75 Increased By ▲ 0.19 (0.72%)
BOP 33.78 Increased By ▲ 0.73 (2.21%)
CNERGY 9.60 Decreased By ▼ -0.08 (-0.83%)
DFML 18.48 Increased By ▲ 0.32 (1.76%)
DGKC 207.00 Increased By ▲ 2.99 (1.47%)
FABL 99.00 Increased By ▲ 2.03 (2.09%)
FCCL 51.84 Increased By ▲ 0.93 (1.83%)
FFL 16.66 Increased By ▲ 0.10 (0.6%)
GGL 23.31 Increased By ▲ 0.54 (2.37%)
HBL 303.20 Increased By ▲ 5.16 (1.73%)
HUBC 216.90 Increased By ▲ 0.47 (0.22%)
HUMNL 10.93 Increased By ▲ 0.23 (2.15%)
KEL 7.44 Decreased By ▼ -0.08 (-1.06%)
LOTCHEM 30.58 Increased By ▲ 0.24 (0.79%)
MLCF 95.78 Increased By ▲ 2.46 (2.64%)
OGDC 320.70 Increased By ▲ 1.20 (0.38%)
PAEL 41.40 Increased By ▲ 0.34 (0.83%)
PIBTL 16.70 Increased By ▲ 0.25 (1.52%)
PIOC 262.50 Increased By ▲ 5.49 (2.14%)
PPL 223.49 Increased By ▲ 0.91 (0.41%)
PRL 41.55 Decreased By ▼ -0.50 (-1.19%)
SNGP 104.40 Decreased By ▼ -0.10 (-0.1%)
SSGC 28.50 Increased By ▲ 0.12 (0.42%)
TELE 8.71 Increased By ▲ 0.08 (0.93%)
TPLP 12.13 Increased By ▲ 1.10 (9.97%)
TRG 57.70 Decreased By ▼ -1.11 (-1.89%)
UNITY 9.68 Increased By ▲ 0.08 (0.83%)
WTL 1.25 Increased By ▲ 0.02 (1.63%)
دنیا

بھارت کے سب سے بڑے نیوکلیئر پاور پلانٹ کڈانکولم سے متعلق فائلیں ڈیٹا لیک میں بے نقاب

  • کڈانکولم نیوکلیئر پاور پلانٹ بھارت کی جنوبی ریاست تمل ناڈو میں واقع ہے
شائع اپ ڈیٹ

رینسم ویئر گروپ ورلڈ لیکس نے ڈارک ویب پر بھارت کے سب سے بڑے کڈانکولم نیوکلیئر پاور پلانٹ سے متعلق بڑی تعداد میں فائلیں جاری کر دی ہیں، جن میں مبینہ طور پر پلانٹ کے مختلف حصوں کے نقشے (بلوپرنٹس)، سپلائرز کی تفصیلات اور دیگر حساس معلومات شامل ہیں۔ گروپ کا دعویٰ ہے کہ یہ معلومات رِلائنس گروپ سے حاصل کی گئی ہیں۔

بھارت کی جنوبی ریاست تمل ناڈو میں واقع کڈانکولم نیوکلیئر پاور پلانٹ ملک کے سات جوہری بجلی گھروں میں سب سے بڑا ہے اور وزیرِ اعظم نریندر مودی کے جوہری توانائی کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے منصوبے میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔

پلانٹ کے ٹھیکیداروں میں شامل بھارتی صنعت کار انیل امبانی کے رِلائنس گروپ نے رائٹرز کو جاری بیان میں کہا کہ تیسرے فریق کے بھارتی ڈیٹا سینٹر سروس فراہم کنندہ یوٹا (Yotta) کے سرور پر محفوظ اس کے ڈیٹا میں جزوی دراندازی ہوئی ہے، جبکہ اس واقعے سے حکومت کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔

رِلائنس گروپ نے یہ نہیں بتایا کہ ڈیٹا میں دراندازی کے دوران کون سی معلومات متاثر یا افشا ہوئیں۔

حکومتوں کو جوہری سلامتی کے حوالے سے مشاورت فراہم کرنے اور مختلف ممالک کی تیاری کا جائزہ لینے والے ادارے نیوکلیئر تھریٹ انیشی ایٹو (NTI) کے سینئر ڈائریکٹر نکولس روتھ کے مطابق، یہ ڈیٹا لیک جوہری پاور پلانٹ کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔

یہ واقعہ اس امر کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ بھارت میں سائبر حملوں کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ بہت سی کمپنیاں اب بھی ایسے خطرات سے مؤثر انداز میں نمٹنے کی مطلوبہ صلاحیت نہیں رکھتیں۔

رائٹرز نے ان دستاویزات کا جائزہ لیا، جن کی تاریخیں 2016 سے وسط 2025 تک کی ہیں، تاہم خبر رساں ادارہ ان کی صداقت کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔ ان دستاویزات میں مبینہ طور پر پلانٹ کے بعض حصوں کے نقشے (بلوپرنٹس)، سپلائرز کی تفصیلات، اجلاسوں اور معائنوں کا ریکارڈ، آلات کی جانچ سے متعلق رپورٹس اور انشورنس پالیسیوں کی نقول شامل ہیں۔

تقریباً 19 ہزار فائلیں ورلڈ لیکس کی ویب سائٹ پر موجود رِلائنس گروپ کی مجموعی 8 لاکھ 58 ہزار فائلوں میں سے بظاہر سب سے زیادہ حساس نوعیت کی تھیں۔

رِلائنس انفراسٹرکچر، جو رِلائنس گروپ کا ذیلی ادارہ ہے، نے 2018 میں کڈانکولم نیوکلیئر پاور پلانٹ کے یونٹ 3 اور یونٹ 4 کے بنیادی ڈھانچے کے ڈیزائن اور تعمیر کا ٹھیکہ حاصل کیا تھا۔ زیرِ تعمیر دونوں یونٹس سے 2027 تک بجلی کی پیداوار شروع ہونے کی توقع ہے، جبکہ ان کی مجموعی پیداواری صلاحیت 2 ہزار میگاواٹ ہوگی۔

ورلڈ لیکس، جو اس سے قبل نائکی اور ٹاٹا گروپ کو بھی نشانہ بنا چکا ہے، نے رِلائنس کے ڈیٹا لیک سے متعلق رائٹرز کے سوالات کا جواب نہیں دیا۔

یہ گروپ عام طور پر اس وقت چوری شدہ کارپوریٹ ڈیٹا اپنی ویب سائٹ پر جاری کرتا ہے جب متعلقہ کمپنی تاوان ادا کرنے سے انکار کر دیتی ہے۔ اس کی ویب سائٹ تک رسائی صرف خصوصی براؤزر کے ذریعے ممکن ہے۔

جون میں ورلڈ لیکس نے رائٹرز کو بتایا تھا کہ اس نے ٹاٹا گروپ سے 15 لاکھ ڈالر تاوان طلب کیا تھا۔ گروپ کے مطابق ان فائلوں میں ایپل اور ٹیسلا کے خفیہ پرزہ جات کے ڈیزائن موجود تھے، اور کمپنی کی جانب سے مطالبہ نظر انداز کیے جانے کے بعد یہ ڈیٹا جاری کر دیا گیا۔

مئی میں سرور پر مشکوک سرگرمی

معاملے سے باخبر ایک ذریعے کے مطابق، نیوکلیئر پاور کارپوریشن آف انڈیا، جو ملک کے جوہری بجلی گھروں کی تعمیر اور آپریشن کی ذمہ دار ہے، ڈیٹا لیک کے معاملے پر رِلائنس کے ساتھ رابطے میں ہے، جبکہ بھارت کا مرکزی سائبر سکیورٹی ادارہ انڈین کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (CERT-In) بھی واقعے کی تحقیقات کر رہا ہے۔ حساسیت کے باعث ذریعے نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی۔

نیوکلیئر پاور کارپوریشن کے چیئرمین راجیش ویراراگھاون، CERT-In اور بھارتی حکومت کے مرکزی پریس دفتر نے متعدد بار رابطے کے باوجود کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

دوسری جانب یوٹا (Yotta) نے بیان میں کہا کہ 29 مئی کو اسے رِلائنس انفراسٹرکچر کے اس سرور پر، جو اس کے ڈیٹا سینٹر میں موجود تھا، مشکوک سرگرمی کا علم ہوا۔

کمپنی کے مطابق اس سرگرمی کو فوری طور پر روک دیا گیا اور ممکنہ رینسم ویئر حملہ ناکام بنا دیا گیا، تاہم جون کے آخر میں رِلائنس انفراسٹرکچر نے اسے آگاہ کیا کہ ”بیرونی خطرناک عناصر“ کی جانب سے ڈیٹا لیک کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔

یوٹا کا کہنا ہے کہ وہ ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کر سکی، تاہم اپنی تفصیلی تکنیکی تحقیقات رِلائنس انفراسٹرکچر کے ساتھ شیئر کر دی ہیں اور جاری تحقیقات میں تعاون کر رہی ہے۔

بھارت کے محکمہ جوہری توانائی نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا، جبکہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کے دفتر نے بھی رائٹرز کے سوالات کا کوئی جواب نہیں دیا۔

نقشے، انشورنس پالیسی اور ممکنہ خطرات

ورلڈ لیکس پر جاری کی گئی دستاویزات بظاہر جوہری ری ایکٹرز کے بنیادی نظام سے متعلق نہیں، کیونکہ وہ روسی سرکاری کمپنی روساٹوم فراہم کرتی ہے۔

تاہم ان میں یونٹ 3 اور یونٹ 4 کے وینٹیلیشن اور کولنگ سسٹمز کے مبینہ نقشے، اور ایک مشترکہ کنٹرول روم کا مکمل فلور پلان بھی شامل ہے۔

فائلوں میں سپلائرز کی تجاویز، منظور شدہ وینڈرز کی فہرست اور 2024 میں نیوکلیئر پاور کارپوریشن اور رِلائنس کے مشترکہ معائنے سے متعلق اجلاس کا ریکارڈ بھی موجود ہے، جس میں آلات کی تصاویر شامل ہیں۔

ایک اور دستاویز کے مطابق رِلائنس انفراسٹرکچر اور نیوکلیئر پاور کارپوریشن نے ایسی انشورنس پالیسی حاصل کر رکھی ہے، جس کے تحت یونٹ 3 یا یونٹ 4 پر دہشت گرد حملے کی صورت میں انہیں 11 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تک کا معاوضہ مل سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ فائلیں بدنیتی رکھنے والے عناصر کے ہاتھ لگ جائیں تو ان کے ذریعے پلانٹ کے معاون نظام، سپلائرز اور سکیورٹی چین کی ممکنہ کمزوریوں کی نشاندہی کی جا سکتی ہے۔

نیوکلیئر تھریٹ انیشی ایٹو کے نکولس روتھ نے کہا کہ یہ معلومات کسی بھی مخالف کو یہ جاننے میں مدد دے سکتی ہیں کہ منصوبے تک کس کی رسائی ہے اور وہ رسائی کن نظاموں تک پھیلی ہوئی ہے۔

سائبر سکیورٹی کمپنی سرف شارک کے مطابق گزشتہ سال 2 کروڑ 89 لاکھ سے زائد اکاؤنٹس کے متاثر ہونے کے ساتھ بھارت ڈیٹا لیک سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں تیسرے نمبر پر رہا، جبکہ امریکا اور فرانس بالترتیب پہلے اور دوسرے نمبر پر تھے۔

گزشتہ سال ڈیٹا سکیورٹی کونسل آف انڈیا اور سائبر سکیورٹی کمپنی سیک رائٹ کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ سروے میں شامل 204 بھارتی اداروں میں سے 73 فیصد کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کبھی سائبر حملے کا نشانہ بنے ہیں یا نہیں، جبکہ 57 فیصد اداروں میں بنیادی سائبر سکیورٹی اقدامات بھی موجود نہیں تھے۔

یہ دوسرا موقع ہے جب کڈانکولم نیوکلیئر پاور پلانٹ کا نام کسی سائبر حملے سے جوڑا گیا ہے۔ 2019 میں شمالی کوریا سے منسلک ایک ہیکر گروپ کا میل ویئر پلانٹ کے انتظامی نیٹ ورک میں پایا گیا تھا۔

اس وقت نیوکلیئر پاور کارپوریشن نے کہا تھا کہ واقعے کی فوری تحقیقات کی گئی تھیں اور پلانٹ کے آپریشنل نظام کسی بھی طرح متاثر نہیں ہوئے تھے۔

Comments

200 حروف