شرح سود بڑھنے کے خدشات، عالمی منڈی میں سونے کی قیمتیں گرگئیں
- اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.5 فیصد کمی کے ساتھ 4,035.67 ڈالر فی اونس پر آ گئی
عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں بدھ کو کمی ریکارڈ کی گئی، ایک روز قبل دو فیصد سے زائد اضافے کے بعد سرمایہ کاروں نے منافع وصولی کو ترجیح دی، جبکہ خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے مہنگائی اور امریکی شرح سود سے متعلق خدشات کو دوبارہ بڑھا دیا۔
اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.5 فیصد کمی کے ساتھ 4,035.67 ڈالر فی اونس پر آ گئی، جبکہ اگست کے لیے امریکی گولڈ فیوچرز 0.7 فیصد گر کر 4,042.20 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ ہوئے۔
منگل کو امریکی افراط زر کے جون کے اعدادوشمار توقعات سے بہتر آنے کے بعد سونے کی قیمت میں دو فیصد سے زائد اضافہ ہوا تھا اور یہ 4,100.49 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی تھی۔ تاہم بدھ کو توجہ ایک بار پھر مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور تیل کی قیمتوں پر مرکوز رہی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی تمام بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے اور تہران کو مذاکرات بحال نہ کرنے کی صورت میں آئندہ ہفتے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل تیسرے روز بھی اضافہ دیکھا گیا۔
او اے این ڈی اے کے سینئر مارکیٹ تجزیہ کار کیلون وونگ کے مطابق مارکیٹ اب امریکی صارفین کی مہنگائی کے اعدادوشمار سے آگے بڑھ چکی ہے، جبکہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت پر پابندیوں کے باعث تیل مہنگا ہو رہا ہے، جس سے سونے پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق خام تیل کی بلند قیمتیں مہنگائی کے خدشات کو تقویت دیتی ہیں، جس کے نتیجے میں امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود زیادہ عرصے تک بلند رکھنے یا مزید اضافے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ چونکہ سونا منافع یا سود نہیں دیتا، اس لیے بلند شرح سود کے ماحول میں اس کی کشش نسبتاً کم ہو جاتی ہے۔
دوسری جانب سرمایہ کار اب امریکی پروڈیوسر پرائس انڈیکس (پی پی آئی) کے اعدادوشمار کے منتظر ہیں، جن سے مہنگائی کی سمت کے بارے میں مزید اشارے ملنے کی توقع ہے۔ دیگر قیمتی دھاتوں میں چاندی، پلاٹینم اور پیلیڈیم کی قیمتوں میں ملا جلا رجحان دیکھا گیا۔






















Comments