حکومت نے تمباکو کی قیمت کا پرانا طریقہ ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا
- ڈبلیو اے پی کا تصور بنیادی پاکستان ٹوبیکو بورڈ آرڈیننس 1968 کے برعکس، جس سے قانونی تضاد پیدا ہو رہا تھا، وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق
حکومت نے تمباکو کی کم از کم علامتی قیمت (ایم آئی پی) کے تعین کے لیے استعمال ہونے والے ویٹڈ ایوریج پرائس (ڈبلیواے پی) کے تصور کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے تمباکو مارکیٹنگ کنٹرول رولز 2016 اور مارشل لا آرڈر (ایم ایل او) 487 میں ترامیم کی جا رہی ہیں۔
وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے مطابق موجودہ نظام کے تحت تمباکو کی ابتدائی کوٹے کی خریداری زیادہ قیمت (ڈبلیو اے پی) پر اور اضافی پیداوار کم قیمت (ایم آئی پی) پر کی جاتی ہے۔ فصل 25-2024 کے لیے ایم آئی پی کی قیمت 545 روپے جبکہ ڈبلیو اے پی کی قیمت 719 روپے فی کلو رہی، جس سے کاشتکاروں کو 67 فیصد تک غیر معمولی منافع ملا۔
وزارت کا مؤقف ہے کہ ڈبلیو اے پی کا تصور بنیادی پاکستان ٹوبیکو بورڈ آرڈیننس 1968 کے برعکس ہے، جس سے قانونی تضاد پیدا ہو رہا تھا۔ اس بھاری منافع کی وجہ سے پاکستانی تمباکو عالمی منڈی میں مسابقت کھو رہا ہے۔ کابینہ کمیٹی نے ان ترامیم کی منظوری دے دی ہے۔






















Comments