ڈیجیٹل دنیا میں مرد و خواتین کا فرق ختم ہوگیا، عالمی رپورٹ
- ایک سال میں اسمارٹ فون کی مالک خواتین کا تناسب 30 سے بڑھ کر 40 فیصد ہو گیا، ترقی پذیر ممالک میں سب سے بڑی پیش رفت ہے، رپورٹ
جی ایس ایم اے موبائل جینڈر گیپ رپورٹ 2026 کے مطابق پاکستان میں موبائل اور انٹرنیٹ تک رسائی میں مرد و خواتین کا فرق ریکارڈ حد تک کم ہو گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایک سال میں موبائل انٹرنیٹ کا صنفی فرق 25 فیصد سے سکڑ کر محض 8 فیصد رہ گیا ہے، جبکہ موبائل فون کی ملکیت کا فرق 37 فیصد سے کم ہو کر 27 فیصد پر آ گیا ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں یہ اب تک کی سب سے بڑی پیش رفت ہے۔
ٹیلی کام آپریٹرز ایسوسی ایشن (ٹی او اے) کے چیئرمین عامر ابراہیم نے رپورٹ کی تقریبِ رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے اسے ایک بڑی ترقیاتی کامیابی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل دنیا میں خواتین کی شمولیت سے ان کے لیے تعلیم، روزگار اور مالیاتی خدمات کے نئے راستے کھلیں گے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اسمارٹ فون کی مالک خواتین کا تناسب 30 سے بڑھ کر 40 فیصد ہو گیا ہے۔
تاہم عامر ابراہیم نے اس بات پر زور دیا کہ ملک میں اب بھی تقریباً 47 ملین خواتین موبائل انٹرنیٹ سے محروم ہیں اور کئی خواتین گھر کے مردوں کے فون استعمال کرتی ہیں۔ اس فرق کو مٹانے کے لیے خواتین کو سستے اسمارٹ فونز کی فراہمی اگلی ترجیح ہونی چاہیے۔
























Comments