جوابی حملوں کے بعد ٹرمپ کی ایران کو قیمت چکانے کی دھمکی
- فائرنگ کا یہ تبادلہ ٹرمپ کے اس دعوے کے بعد ہوا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر مار گرایا ہے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز کہا ہے کہ ایران نے معاہدے کے لیے مذاکرات میں بہت تاخیر کی اور اب اسے ”اس کی قیمت چکانا ہوگی“، جبکہ تہران نے رات بھر ہونے والی جوابی کارروائیوں کے بعد واشنگٹن کے ساتھ سفارتی روابط پر نظرثانی کا اعلان کیا ہے۔
ایران نے اردن، کویت اور بحرین میں امریکی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، جنہیں اس نے آبنائے ہرمز کے اطراف ایرانی اہداف پر امریکی حملوں کا جواب قرار دیا۔
فائرنگ اور حملوں کا یہ تبادلہ، جو ٹرمپ کے اس دعوے کے بعد ہوا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر مار گرایا ہے، اپریل میں جنگ بندی پر اتفاق کے بعد واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی میں سب سے بڑے اضافوں میں سے ایک سمجھا جا رہا ہے۔
ٹرمپ نے بدھ کی صبح سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ ”ایران صرف باتیں کرتا ہے، عملی اقدام نہیں کرتا۔ اس نے ایسے معاہدے پر مذاکرات میں بہت دیر کر دی جو اس کے لیے انتہائی فائدہ مند ثابت ہو سکتا تھا، اب اسے اس کی قیمت چکانا ہوگی۔“
امریکی فوج نے کہا کہ اس نے ایرانی فضائی دفاعی نظام، زمینی کنٹرول مراکز اور نگرانی کے ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی اپاچی ہیلی کاپٹر گرائے جانے کے جواب میں ”متناسب ردعمل“ تھی، جبکہ ہیلی کاپٹر کے دونوں اہلکاروں کو بحفاظت بچا لیا گیا۔
خلیجی ممالک اور اردن نے آنے والے میزائلوں کو روکنے کے لیے اپنے فضائی دفاعی نظام فعال کر دیے، جبکہ امریکی اڈوں کو نقصان پہنچنے کی فوری طور پر کوئی اطلاع نہیں ملی۔
یہ کشیدگی ایسے وقت میں بڑھی ہے جب چند روز قبل ہی ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے بعد پہلی بار ایک دوسرے پر حملے ہوئے تھے۔ اس صورتحال نے 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں سے شروع ہونے والی جنگ کے خاتمے کے لیے کسی ممکنہ معاہدے کے امکانات پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ تہران جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزیوں کے بعد واشنگٹن کے ساتھ سفارتی روابط کا ازسرنو جائزہ لے گا۔
انہوں نے کہا کہ ”کسی بھی سفارتی عمل کے لیے کم از کم ایک مستحکم ماحول ضروری ہوتا ہے۔“
ٹرمپ کے بیان کے بعد تیل کی قیمتوں میں تقریباً 2 فیصد اضافہ ہوا جبکہ عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں کمی دیکھی گئی۔ یہ بیان ایران کی عسکری صلاحیتوں سے متعلق ایک طویل پیغام کے اختتام پر سامنے آیا۔
فاکس نیوز نے ٹیلیفونک گفتگو کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران معاہدے میں مزید تاخیر کرتا ہے تو وہ اس کے بجلی گھروں اور پلوں پر نئے حملوں کا حکم دے سکتے ہیں۔
اس کے باوجود سفارتی کوششیں جاری رہنے کے آثار بھی دکھائی دیے۔ معاملے سے آگاہ ایک عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ امریکی مشاورت کے بعد قطری ثالث بدھ کو تہران پہنچے تاکہ ممکنہ معاہدے کو حتمی شکل دینے کی کوشش کی جا سکے۔ واشنگٹن اور تہران کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
آبنائے ہرمز کے اطراف حملے
امریکی فوج کی رات بھر جاری رہنے والی کارروائیاں تقریباً چار گھنٹے تک جاری رہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے بدھ کی صبح اعلان کیا کہ آپریشن مکمل ہو چکا ہے۔ ایک امریکی عہدیدار کے مطابق تقریباً 20 ایرانی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
ایران کی پاسداران انقلاب نے کہا کہ جزیرہ قشم اور بندرگاہ سیریک کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی میڈیا نے بندر عباس اور بعد ازاں آبنائے ہرمز کے دہانے پر واقع جاسک کے قریب دھماکوں کی بھی اطلاع دی۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ اس کے جواب میں بحرین، کویت اور اردن میں امریکی اڈوں پر ڈرون اور میزائل حملے کیے گئے اور مزید کسی امریکی کارروائی کی صورت میں ”فیصلہ کن اور تباہ کن“ جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔
تنظیم کے مطابق اردن میں واقع امریکی العزرق اڈے کے چار مقامات، جن میں ایف-35 لڑاکا طیاروں کے ہینگر اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر شامل ہیں، کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔
ایک امریکی عہدیدار نے کہا کہ ابتدائی جائزے کے مطابق تقریباً تمام ایرانی میزائل اور ڈرون تباہ کر دیے گئے اور کسی جانی نقصان یا بڑے نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
اردن کی فوج نے کہا کہ العزرق اڈے کی جانب داغے گئے پانچ میزائل مار گرائے گئے اور گرنے والے ملبے سے کوئی نقصان نہیں ہوا۔
کویت کی وزارت دفاع نے کہا کہ اس نے ”دشمن فضائی اہداف“ کو تباہ کر دیا، جبکہ بحرین کے شاہی میڈیا مشیر کے مطابق ملک کے فضائی دفاعی نظام نے ایرانی حملوں کو ناکام بنا دیا۔ کویت میں امریکی فوج کی اہم تنصیبات اور ایک بڑا فضائی اڈہ موجود ہے، جبکہ بحرین میں امریکی بحریہ کے علاقائی بیڑے کا ہیڈکوارٹر قائم ہے۔
اپاچی ہیلی کاپٹر کی تباہی
ایک امریکی عہدیدار کے مطابق جس امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کے گرائے جانے کے بعد یہ کشیدگی شروع ہوئی، اسے ایرانی یک طرفہ حملہ آور ڈرون نے نشانہ بنایا تھا۔ ٹرمپ کے مطابق ہیلی کاپٹر کے دونوں اہلکار محفوظ رہے۔
امریکی فوج نے بتایا کہ ہیلی کاپٹر منگل کی صبح عمان کے ساحل کے قریب گشت کے دوران سمندر میں گر گیا تھا، تاہم بحریہ کے ایک بغیر پائلٹ کے بحری نظام نے عملے کو تلاش کرکے بحفاظت نکال لیا۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے ایک فوجی ذریعے کے حوالے سے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران آبنائے ہرمز میں کوئی جارحانہ فضائی کارروائی نہیں کی گئی۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس واقعے کا براہ راست ذکر نہیں کیا، تاہم ایکس پر اپنی پوسٹ میں خبردار کیا کہ خطے میں موجود غیر ملکی افواج حادثات یا کراس فائر کا شکار ہو سکتی ہیں۔
انہوں نے لکھا، ”خطرات کم کرنے کا بہترین حل یہی ہے کہ وہ یہاں سے چلے جائیں۔“
امن معاہدہ دور کی بات
اپریل کے اوائل میں جنگ بندی کے اعلان کے ساتھ ہی امن مذاکرات کی منصوبہ بندی بھی کی گئی تھی۔ اس کے بعد سفارت کار آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے، ایرانی بندرگاہوں پر امریکی پابندیاں ختم کرنے اور ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔
ٹرمپ متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے، لیکن پاکستان اور قطر کی ثالثی میں ہونے والے کئی بالواسطہ مذاکراتی ادوار کے باوجود دونوں فریق اب بھی اپنے مؤقف میں خاصے دور دکھائی دیتے ہیں۔
دوسری جانب لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری جنگ بھی ختم نہیں ہو سکی، جبکہ تہران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بیشتر بحری آمدورفت پر پابندیاں برقرار رکھی ہوئی ہیں۔ جنگ سے قبل دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کا خام تیل اور مائع قدرتی گیس اسی راستے سے گزرتی تھی۔ امریکہ نے بھی ایرانی بندرگاہوں پر اپنی پابندیاں برقرار رکھی ہیں۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ کسی بھی امن معاہدے میں یہ ضمانت شامل ہونی چاہیے کہ ایران جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا، تاہم ایران ایسے عزائم کی تردید کرتا ہے۔
ایران کے مطالبات میں پابندیوں کا خاتمہ، منجمد اثاثوں میں سے اربوں ڈالر کی واپسی، آبنائے ہرمز پر اپنے کنٹرول کو تسلیم کرانا اور لبنان میں جاری لڑائی کا خاتمہ شامل ہے۔






















Comments