ٹیکسٹائل کونسل کا بجٹ میں 10 سالہ فکسڈ ریٹ فنانسنگ اور ٹیکس ریلیف کا مطالبہ
- یہ اقدامات سرمایہ کاری کی بحالی، برآمدات میں اضافے اور عالمی منڈیوں میں پاکستان کی مسابقت بڑھانے کیلئے ناگزیر ہیں، فواد انور
پاکستان ٹیکسٹائل کونسل (پی ٹی سی) نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وفاقی بجٹ 2026-27 میں صنعتی سرمایہ کاری کیلئے10 سالہ فکسڈ ریٹ فنانسنگ سہولت متعارف کرائی جائے، برآمد کنندگان کیلئے فائنل ٹیکس رجیم بحال اور برآمدی شعبے پر عائد ایڈوانس ٹیکسز ختم کیے جائیں۔ کونسل کے مطابق یہ اقدامات سرمایہ کاری کی بحالی، برآمدات میں اضافے اور عالمی منڈیوں میں پاکستان کی مسابقت بڑھانے کیلئے ناگزیر ہیں۔
چیئرمین پاکستان ٹیکسٹائل کونسل فواد انور نے کہا ہے کہ برآمدی شعبہ اس وقت مہنگی فنانسنگ، بلند توانائی نرخوں، نقدی کی قلت اور پیچیدہ ٹیکس نظام جیسے سنگین مسائل کا سامنا کر رہا ہے جس کے باعث نئی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہو رہی ہے اور برآمدات کی ترقی متاثر ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ بجٹ معیشت کو سرمایہ کاری اور برآمدات پر مبنی ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کا ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے۔ ان کے مطابق طویل المدتی فکسڈ ریٹ فنانسنگ، ایف ٹی آر کی بحالی اور ایڈوانس ٹیکسز کے خاتمے پر مبنی مسابقتی پالیسی فریم ورک سرمایہ کاروں اور برآمد کنندگان کو درکار استحکام اور اعتماد فراہم کرے گا۔
چیئرمین پی ٹی سی نے کہا کہ صنعتی منصوبوں کیلئے طویل المدتی مالی منصوبہ بندی اور قرضوں کی لاگت میں پیشگی یقین دہانی انتہائی ضروری ہے۔ دس سال تک مقررہ شرح منافع پر خصوصی فنانسنگ سہولت صنعتوں کی توسیع، ٹیکنالوجی اپ گریڈیشن اور نئی برآمدی صنعتوں کے قیام کی راہ ہموار کرے گی۔
فواد انور نے مزید کہا کہ برآمد کنندگان کو متعدد ایڈوانس ٹیکس کٹوتیوں کا سامنا نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اس سے ان کی نقدی روانی متاثر ہوتی ہے اور کاروبار کی لاگت میں اضافہ ہوتا ہے۔ اسی طرح فائنل ٹیکس رجیم کی بحالی ٹیکس نظام کو سادہ بنانے، دستاویزی عمل کو بہتر کرنے اور برآمد کنندگان کو اپنی توجہ پیداوار اور برآمدات بڑھانے پر مرکوز رکھنے میں مدد دے گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس برآمدات بڑھانے کے وسیع مواقع موجود ہیں اور عالمی سپلائی چین میں جاری تبدیلیوں سے ملک بھرپور فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ تاہم اس مقصد کے لیے ایسی پالیسیوں کی ضرورت ہے جو کاروباری لاگت کم کریں اور سرمایہ کاری کے لیے مستحکم ماحول فراہم کریں۔
فواد انور نے کہا کہ برآمدات زرمبادلہ کے حصول اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا سب سے پائیدار ذریعہ ہیں۔ درست بجٹ فیصلے نئی سرمایہ کاری کو متحرک کر سکتے ہیں، پیداواری صلاحیت میں اضافہ کر سکتے ہیں اور ملکی معیشت کو مضبوط اور پائیدار ترقی کی راہ پر ڈال سکتے ہیں۔
پاکستان ٹیکسٹائل کونسل نے امید ظاہر کی کہ بجٹ 2026-27 میں ایسی عملی اور ترقی پسند اصلاحات شامل کی جائیں گی جو برآمدی شعبے کو تقویت دینے، سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور پاکستان کو ایک مسابقتی صنعتی و برآمدی مرکز کے طور پر مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوں گی۔
























Comments