پاکستان کے حساس ترین مالی معاملات میں سے ایک پر ایک غیرمعمولی سیاسی اتفاقِ رائے ابھرتا دکھائی دے رہا ہے: کیا نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) کے تحت صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کا فارمولا دہائیوں سے پائیدار ترقی کی قیمت پر بلا روک ٹوک بڑھتی آبادی کی حوصلہ افزائی (انعام) کرتا رہا ہے؟
اگرچہ این ایف سی ایوارڈ چار اشاریوں یعنی آبادی، ٹیکس یا ریونیو کی وصولی، انورس پاپولیشن ڈینسٹی اور غربت و پسماندگی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے صوبوں کے درمیان وسائل تقسیم کرتا ہے لیکن اس فارمولے میں اکیلے آبادی کو 82 فیصد کا بھاری ترین وزن (اہمیت) حاصل ہے۔
وسائل کی تقسیم کے اس واضح عدم توازن نے قومی ترجیحات اور مراعات کا رخ بگاڑ کر رکھ دیا ہے، جس نے آبادی میں اضافے کو مالیاتی فنڈز کے حصول کا بنیادی منطقی ذریعہ بنا دیا ہے۔ یہ سب ایک ایسے وقت میں ہورہا ہے جب ملک ایک طرف آبادی میں تشویشناک حد تک تیز رفتاری سے ہونے والے اضافے سے نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے، تو دوسری طرف بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے بھی ہاتھ پاؤں مار رہا ہے۔
اسی پسِ منظر میں این ایف سی فارمولے پر نظرثانی سمیت اصلاحات کے لیے مختلف سیاسی جماعتوں کا مشترکہ دباؤ زور پکڑ رہا ہے۔ اس کا مظہر 20 مارچ کو منعقدہ ’پارلیمانی فورم آن پاپولیشن‘ کا بجٹ سے پہلے کا ایک اجلاس تھا، جس میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے اراکین کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا گیا۔ اس اجلاس کا مقصد آبادی کے انتظام سے متعلق دیرینہ خدشات کو بجٹ کی ٹھوس تجاویز میں تبدیل کرنا تھا۔
حالیہ دہائیوں میں پاکستان میں آبادی کے بڑھتے ہوئے رجحان کی رفتار بدل کر اس کا سب سے بڑا معاشی چیلنج بن چکی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق، سال 2050 تک ملک کی آبادی بڑھ کر تقریباً 39 کروڑ (390 ملین) تک پہنچ جائے گی، جس میں سے لگ بھگ 25 کروڑ 60 لاکھ (256 ملین) لوگ کام کرنے کی عمر (ورکنگ ایج گروپ) کے دائرے میں آئیں گے، اور ان کی ایک بہت بڑی تعداد 30 سال سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہو گی۔
بہت سی معیشتوں میں نوجوان آبادی کو ایک طاقتور آبادیاتی فائدہ تصور کیا جاتا ہے جو پیداواری صلاحیت، صنعتی توسیع اور طویل المدتی معاشی ترقی کو مہمیز دیتا ہے۔ تاہم جیسا کہ سینیٹر شیری رحمان نے فورم سے خطاب میں کہا کہ پاکستان میں یہی ممکنہ مواقع اب ایک تباہ کن آبادیاتی بوجھ میں تبدیل ہوتے جا رہے ہیں۔
ملک اس تیزی سے بڑھتی نوجوان آبادی کو کھپانے کے لیے درکار معاشی استعداد، روزگار کے مواقع اور انسانی ترقی کے بنیادی ڈھانچے پیدا کرنے میں ناکام ثابت ہورہا ہے۔
تعلیم، صحت، ہنر کی ترقی اور روزگار کی فراہمی میں مسلسل سرمایہ کاری کے بغیر، پاکستان میں نوجوانوں کی یہ کثیر تعداد بے روزگاری، معاشی کمزوری اور سماجی دباؤ کو مزید سنگین بنانے کا باعث بن سکتی ہے، تاہم جب تک ملک کے وسائل تیزی سے بڑھتی آبادی کی ضروریات کے مقابلے میں مسلسل کم پڑتے رہیں گے، اس وقت تک مطلوبہ رفتار اور پیمانے پر یہ سرمایہ کاری ممکن نہیں ہو سکے گی اور پاکستان پسماندگی اور مالی دباؤ کے ایک نہ ختم ہونے والے چکر میں پھنسا رہے گا۔
یہ طرزِ حکمرانی کی ایک سنگین ناکامی ہے کہ مسلسل آنے والی حکومتوں نے ایسے نظام برقرار رکھے ہوئے ہیں جو اپنی ساخت ہی کے اعتبار سے آبادی میں اضافے کو ترغیب دیتے ہیں اور یہ معاملہ صرف این ایف سی ایوارڈ کے فارمولے تک محدود نہیں۔
پارلیمانی نشستوں کی تقسیم، وفاقی اور صوبائی سطح پر سرکاری ملازمتوں کے کوٹہ سسٹم، حتیٰ کہ سرکاری پیشہ ورانہ تعلیمی اداروں میں داخلوں تک، تقریباً تمام شعبے آبادی کے تناسب کی بنیاد پر ترتیب دیے گئے ہیں۔
غربت کی شرح، ریونیو میں حصہ داری اور موسمیاتی خطرات جیسے اشاریوں کو ترجیح دینے کے بجائے نظام اب بھی آبادی پر مبنی ڈھانچوں کے گرد گھوم رہا ہے جس کے باعث ترقیاتی ضروریات، مساوات کے اصول اور شواہد پر مبنی طرزِ حکمرانی پس منظر میں چلے گئے ہیں۔
یہ بات اہم ہے کہ عملی شواہد مسلسل یہ ظاہر کرتے رہے ہیں کہ آبادی میں اضافے کی شرح اور خواندگی کی سطح کے درمیان اُلٹا تعلق موجود ہے: کم شرحِ خواندگی زیادہ شرحِ پیدائش سے جڑی ہوتی ہے جبکہ تعلیم کے فروغ سے آبادیاتی دباؤ میں کمی آتی ہے۔ یہ صورتحال اس امر کی فوری ضرورت کو اجاگر کرتی ہے کہ تعلیم تک رسائی کو وسیع کیا جائے تاکہ نہ صرف انسانی وسائل کے معیار کو بہتر بنایا جا سکے بلکہ کم شرحِ پیدائش اور ذمہ دارانہ آبادی کے نظم و نسق کے سماجی و معاشی فوائد سے متعلق عوامی شعور بھی بیدار کیا جاسکے۔
اسی طرح یہ حقیقت بھی یکساں اہمیت کی حامل ہے کہ مختلف معاشروں اور حالات سے حاصل شدہ شواہد یہ ثابت کرتے ہیں کہ خواتین کی تعلیم اور معاشی سرگرمیوں میں ان کی شمولیت، خاندان کا حجم چھوٹا رکھنے کے سب سے مضبوط محرکات (عوامل) میں شامل ہیں۔ بااختیار خواتین میں زچگی میں تاخیر کرنے اور مانع حمل یا خاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے باخبر فیصلے کرنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔
لہٰذا این ایف سی ایوارڈ کے آبادی پر حد سے زیادہ انحصار کرنے والے فارمولے پر فوری نظرثانی کو ترجیح دینے کے ساتھ ساتھ پاکستان کو ملک بھر میں وسیع، مؤثر وسائل سے آراستہ خاندانی منصوبہ بندی کے اقدامات بھی کرنا ہوں گے جن کی بنیاد مضبوطی سے تعلیم اور خواتین کو بااختیار بنانے پر استوار ہو۔
بنیادی صحت کے نظام کو مضبوط بنانا، تولیدی صحت کی سہولتوں کو وسعت دینا اور اسکولی نصاب میں آبادی سے متعلق آگاہی کو شامل کرنا ان کوششوں کے تسلسل کیلئے نہایت اہم ہوگا۔
تاخیر کی قیمت صرف آبادیاتی دباؤ میں مزید اضافے اور مطلوبہ تبدیلی کے لیے پہلے سے محدود ہوتے مواقع کو مزید سکڑنے کی صورت میں ادا کرنا پڑے گی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026

























Comments