کسانوں کا زرعی پالیسیوں کے خلاف جون میں احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان
- موسمیاتی تبدیلی نے گندم کی پیداوار کو نمایاں طور پر متاثر کیا ہے، کسان اتحاد
کسان اتحاد نے جون میں صوبہ بھر میں احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کرتے ہوئے کسان دشمن پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کی ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ گندم، چینی اور زرعی شعبے سے متعلق ناقص پالیسیوں کے باعث کاشتکار ایک بے مثال بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔
تنظیم نے حکومت پر زور دیا کہ آئندہ سالانہ بجٹ میں موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے چیلنجز سے نمٹنے اور زراعت کو اس کے منفی اثرات سے محفوظ بنانے پر خصوصی توجہ دی جائے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کسان اتحاد کے مرکزی چیئرمین خالد حسین باٹھ نے الزام عائد کیا کہ 2024 میں حکومت پنجاب نے گندم خریداری کے لیے کسانوں کو رجسٹریشن کرانے کا کہا، لیکن ایک دانہ بھی نہیں خریدا گیا، جبکہ 2025 میں متعارف کرایا گیا الیکٹرانک ویئر ہاؤس رسید (ای ڈبلیو آر) نظام بھی گندم کی خریداری یقینی بنانے میں ناکام رہا۔
خالد حسین نے گندم کی ریکارڈ پیداوار اور کامیاب خریداری کے سرکاری دعوؤں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ مارکیٹ میں گندم نایاب ہوتی جا رہی ہے اور تقریباً 4,000 روپے فی من کے حساب سے فروخت ہو رہی ہے، جبکہ نجی کمپنیوں نے کسانوں سے 2,800 سے 3,500 روپے فی من کے درمیان گندم خریدی۔ انہوں نے تقریباً 30 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کی مبینہ منصوبہ بندی پر بھی تنقید کرتے ہوئے سوال کیا کہ اگر ملکی ذخائر کافی ہیں تو درآمدات کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی نے گندم کی پیداوار کو نمایاں طور پر متاثر کیا ہے اور گندم کی نقل و حرکت پر عائد پابندیاں حکومت کی ڈی ریگولیشن پالیسی کے منافی ہیں۔ چینی کے شعبے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے خبردار کیا کہ چینی کی برآمدات کی اجازت مستقبل میں مہنگی درآمدات کا سبب بن سکتی ہے، جیسا کہ ماضی میں بھی ہو چکا ہے۔
کسان اتحاد کے چیئرمین نے وزرا کی جانب سے موسمی کسان اور فارمر مافیا جیسی اصطلاحات کے استعمال پر بھی تنقید کی اور الزام لگایا کہ پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز کو زرعی شعبے کی حقیقی صورتحال سے آگاہ نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے وزیراعظم اور آرمی چیف سے مطالبہ کیا کہ کسانوں کے مسائل کا نوٹس لیا جائے اور ان کے تحفظات دور کیے جائیں۔
خالد حسین نے کہا کہ مجوزہ احتجاج پرامن ہوگا اور اس میں مارچ اور قافلے شامل ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ کسانوں کے بچوں کو پی ایم ایس امتحانات میں خصوصی رعایت دی جائے، جس میں عمر کی بالائی حد 35 سال کرنے اور پانچ مواقع فراہم کرنے کی اجازت شامل ہے۔
دریں اثنا، کسان اتحاد کے مرکزی صدر عمیر مسعود نے الزام لگایا کہ گندم کی درآمدات کمیشن خوری اور منافع خوری کا ذریعہ بن چکی ہیں، جبکہ کسان بجلی اور کھاد پر سبسڈی نہ ہونے کے باعث بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت برداشت کر رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کاشتکاروں کو اپنے اضلاع سے باہر گندم لے جانے سے روکا جا رہا ہے اور انہیں کم قیمت پر فصل فروخت کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
عمیر مسعود نے اس سرکاری دعوے کو مسترد کر دیا کہ کسان خوشحال ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق زرعی ترقی کی شرح منفی ہو چکی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ تنظیم کی احتجاجی تحریک جون کے دوران لاہور میں اپنے عروج پر پہنچے گی، تاہم حتمی تاریخ کا ابھی اعلان نہیں کیا گیا۔
کسان رہنماؤں نے خبردار کیا کہ اگر فوری اصلاحی اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان کے زرعی شعبے کو درپیش بحران مزید سنگین ہو جائے گا، جس سے نہ صرف کسانوں کا روزگار متاثر ہوگا بلکہ قومی غذائی تحفظ کو بھی خطرات لاحق ہو جائیں گے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

























Comments