BR100 Decreased By (-0.27%)
BR30 Decreased By (-0.57%)
KSE100 Decreased By (-0.29%)
KSE30 Decreased By (-0.26%)
BAFL 55.72 Increased By ▲ 0.21 (0.38%)
BIPL 23.70 Decreased By ▼ -0.27 (-1.13%)
BOP 26.94 Decreased By ▼ -0.36 (-1.32%)
CNERGY 12.28 Decreased By ▼ -0.12 (-0.97%)
DFML 16.65 Increased By ▲ 0.86 (5.45%)
DGKC 176.12 Increased By ▲ 0.54 (0.31%)
FABL 89.00 Decreased By ▼ -1.01 (-1.12%)
FCCL 49.90 Increased By ▲ 0.25 (0.5%)
FFL 13.06 Decreased By ▼ -0.30 (-2.25%)
GGL 18.60 Decreased By ▼ -0.09 (-0.48%)
HBL 281.90 Decreased By ▼ -1.36 (-0.48%)
HUBC 187.99 Increased By ▲ 0.13 (0.07%)
HUMNL 8.05 No Change ▼ 0.00 (0%)
KEL 5.66 Increased By ▲ 0.11 (1.98%)
LOTCHEM 22.49 Decreased By ▼ -0.55 (-2.39%)
MLCF 87.00 Increased By ▲ 0.37 (0.43%)
OGDC 296.90 Decreased By ▼ -1.22 (-0.41%)
PAEL 32.00 Decreased By ▼ -0.05 (-0.16%)
PIBTL 12.68 Increased By ▲ 0.13 (1.04%)
PIOC 221.50 Decreased By ▼ -2.67 (-1.19%)
PPL 208.00 Decreased By ▼ -2.17 (-1.03%)
PRL 94.17 Decreased By ▼ -0.35 (-0.37%)
SNGP 89.70 Decreased By ▼ -0.43 (-0.48%)
SSGC 22.38 Decreased By ▼ -0.14 (-0.62%)
TELE 6.65 Decreased By ▼ -0.01 (-0.15%)
TPLP 11.48 Decreased By ▼ -0.03 (-0.26%)
TRG 53.50 Increased By ▲ 0.96 (1.83%)
UNITY 7.75 Increased By ▲ 0.13 (1.71%)
WTL 0.89 No Change ▼ 0.00 (0%)
پاکستان

پاکستان کی آبادی 2050 تک 38 کروڑ 99 لاکھ تک پہنچنے کی پیشگوئی

  • پاکستان کی آبادی میں یہ تیز اضافہ شرح پیدائش اور آبادیاتی ڈھانچے کے رجحانات کا نتیجہ ہے
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان کی آبادی 2023 میں 24 کروڑ 15 لاکھ سے بڑھ کر 2050 تک 37 کروڑ 19 لاکھ سے 38 کروڑ 99 لاکھ کے درمیان پہنچنے کی پیشگوئی کی گئی ہے، جو شرح پیدائش میں کمی کی رفتار پر منحصر ہوگی۔

وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کی جانب سے جاری پاکستان پاپولیشن پروجیکشن رپورٹ 2023–2050 کے مطابق 2023 کی مردم شماری کی بنیاد پر ملک کی آبادی 24 کروڑ 18 لاکھ 60 ہزار ریکارڈ کی گئی، جو سست شرح پیدائش میں کمی کے منظرنامے کے تحت 2050 تک 38 کروڑ 97 لاکھ 80 ہزار تک پہنچ سکتی ہے، یعنی تقریباً 14 کروڑ 79 لاکھ افراد کا اضافہ ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کی آبادی میں یہ تیز اضافہ شرح پیدائش اور آبادیاتی ڈھانچے کے رجحانات کا نتیجہ ہے۔ اندرونی نقل مکانی کو شامل کرنے سے صوبائی سطح پر آبادی میں بھی نمایاں اضافہ متوقع ہے۔

اعدادوشمار کے مطابق پیدائش کی شرح 2023 میں 28.3 فی ہزار سے کم ہو کر 2050 تک 16 سے 16.8 فی ہزار تک آنے کا امکان ہے، جبکہ شرح اموات میں معمولی اضافہ متوقع ہے جو بنیادی طور پر عمر رسیدہ آبادی میں اضافے کی وجہ سے ہوگا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی ورکنگ ایج آبادی (15 سے 64 سال) 13 کروڑ 52 لاکھ سے بڑھ کر 25 کروڑ 54 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے، جو معاشی ترقی کے لیے ایک اہم موقع ہو سکتا ہے۔ اسی طرح نوجوان آبادی (15 سے 29 سال) بھی بڑھ کر تقریباً 9 کروڑ 97 لاکھ تک پہنچنے کا امکان ہے۔

بچوں کی آبادی 18 سال سے کم عمر میں 11 کروڑ 79 لاکھ سے بڑھ کر 13 کروڑ 97 لاکھ تک پہنچنے کی پیشگوئی ہے، جبکہ 65 سال سے زائد عمر کے افراد کی تعداد 86 لاکھ سے بڑھ کر 2 کروڑ 26 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ تیز رفتار آبادیاتی اضافہ تعلیم، صحت، روزگار اور وسائل پر شدید دباؤ ڈال سکتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر موجودہ رجحان برقرار رہا تو 2050 تک آبادی 37 سے 40 کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔

انہوں نے صوبوں کو آبادی کے بہتر انتظام کے لیے این ایف سی ایوارڈ میں مراعات دینے کی تجویز بھی دی اور کہا کہ انسانی وسائل کی ترقی کے بغیر آبادیاتی فائدہ حاصل نہیں کیا جا سکتا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف