پاکستان معرکۂ حق کے بعد مزید مضبوط ہو کر ابھرا ہے، وزیرِاعظم شہباز شریف
- وزیرِاعظم نے کہا کہ ’’معرکۂ حق اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ پاکستانی ایک امن پسند مگر بہادر، باہمت اور باوقار قوم ہیں۔‘‘
وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان ”معرکۂ حق“ کے بعد مزید مضبوط، زیادہ ثابت قدم اور زیادہ متحد ہو کر ابھرا ہے، جب کہ اس موقع پر ملک بھر میں شہدا، مسلح افواج کے اہلکاروں اور عسکری قیادت کو خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے جنہوں نے ہمسایہ ملک بھارت کے خلاف پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع میں کردار ادا کیا ہے۔
”معرکۂ حق“ سے مراد 22 اپریل 2025 سے 10 مئی 2025 تک جاری رہنے والا وہ وسیع تر تنازع ہے، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے بعد ختم ہوا۔
اپنے پیغام میں وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا: ’’معرکۂ حق کا دن اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں پر اس کے حضور شکر بجا لانے کا دن ہے۔ آج ہم پاکستان کے مشکل وقت میں جرات مندانہ موقف اور دشمن پر لگائی گئی فیصلہ کن برتری کو یاد کر رہے ہیں۔ قوم اپنے شہدا، ان کے اہلِ خانہ اور غازیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے جنہوں نے فولادی دیوار بن کر اپنے وطن کا دفاع کیا۔ ہماری افواج کی زمینی، بحری، فضائی اور سائبر محاذوں پر مربوط اور منظم کارروائی نے پاکستان کو ایک ناقابلِ تسخیر قوم کے طور پر منوایا۔‘‘
انہوں نے چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت، جبکہ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر اور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کی اسٹریٹجک بصیرت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
وزیرِاعظم نے کہا: ’’معرکۂ حق اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ پاکستانی ایک امن پسند مگر بہادر، باہمت اور باوقار قوم ہیں جنہیں نہ تو کسی جارحیت سے مرعوب کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی دبایا جا سکتا ہے۔ معرکۂ حق تاریخ میں اس شاندار کارنامے کے طور پر درج ہے جس میں بلا اشتعال جارحیت پر مبنی دشمن کے خلاف فیصلہ کن برتری حاصل کی گئی۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’دشمن کو حقیقت کا سخت سبق دیا گیا تاکہ اس کی ناقابلِ تسخیر ہونے کی غلط فہمی دور ہو سکے۔‘‘
وزیرِاعظم نے مسلح افواج کے افسران اور جوانوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی بھرپور حمایت سے انہوں نے پاکستان اور بھارت کے تناظر میں تاریخ کا ایک نیا باب رقم کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے امن کی خواہش کو واضح طور پر ظاہر کیا، ساتھ ہی اپنی دفاعی صلاحیت، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو بھی مؤثر انداز میں یقینی بنایا۔
وزیرِاعظم نے خبردار کیا کہ پاکستان کے خلاف کسی بھی جارحیت کا فوری، بھرپور اور ہر سطح پر مؤثر جواب دیا جائے گا، اور ملک اپنی سرحدوں کے دفاع کے لیے مکمل طور پر پرعزم اور چوکس ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے “فتنہ الخوارج” اور “فتنہ الہندوستان” کے خلاف اپنی جدوجہد کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے پرعزم ہے۔
کشمیر پر موقف
وزیرِاعظم نے کہا کہ پاکستان کی کوئی بھی کہانی کشمیر کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہوتی، جو برصغیر کی تقسیم کا نامکمل ایجنڈا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں اسٹریٹجک استحکام، مسئلۂ کشمیر کے حل کے بغیر ممکن نہیں، جسے اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔ پاکستان کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کی حمایت جاری رکھے گا۔
عالمی کردار
وزیرِاعظم نے کہا کہ آج پاکستان کو ایک ذمہ دار ملک کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے جو نہ صرف اپنا دفاع کرنا جانتا ہے بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران-امریکہ کشیدگی میں پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو عالمی سطح پر سراہا گیا ہے اور پاکستان تنازعات کے پرامن حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
آخر میں وزیرِاعظم نے شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے قوم پر زور دیا کہ وہ دشمنوں کا سامنا ”فولادی دیوار“ بن کر کرے اور اس عظیم وطن کی ترقی و سربلندی کے لیے خلوص نیت سے کردار ادا کرے۔

























Comments