نیپرا نے بجلی منصوبوں کیلئے کنکرنس ریگولیشنز 2026 متعارف کرا دیں
- نئے قواعد کے مطابق اب کسی بھی نئے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے کے آغاز سے قبل نیپرا سے باقاعدہ منظوری (کنکرنس) حاصل کرنا لازمی ہوگا
قومی الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کے لیے نئی کنکرنس ریگولیشنز 2026 متعارف کرا دی ہیں۔
ایس آر او 692 (I)/2026 کے تحت جاری کردہ ان قواعد و ضوابط کا مقصد نئے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کی نگرانی کو مزید سخت بنانا اور پاکستان میں بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کی منظوری کے عمل کو معیاری بنانا ہے۔ یہ ریگولیشنز ریگولیشن آف جنریشن، ٹرانسمیشن اینڈ ڈسٹری بیوشن آف الیکٹرک پاور ایکٹ، 1997 کے تحت نافذ کیے گئے ہیں اور فوری طور پر مؤثر ہو چکے ہیں۔
نئے قواعد کے مطابق اب کسی بھی نئے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے کے آغاز سے قبل نیپرا سے باقاعدہ منظوری (کنکرنس) حاصل کرنا لازمی ہوگا۔ تاہم یہ قواعد ان پروسومرز پر لاگو نہیں ہوں گے جو نیپرا کے پروسومر ریگولیشنز 2026 کے تحت درخواست دیتے ہیں۔
فریم ورک کے تحت کوئی بھی فرد یا کمپنی جو بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ لگانا چاہتی ہے، اسے نیپرا کو تفصیلی درخواست جمع کرانا ہوگی، جس میں تکنیکی، مالی، ماحولیاتی، ارضیاتی، آبیاتی اور حفاظتی جائزے شامل ہوں گے۔ درخواست مقررہ فارم، فیس اور معاون دستاویزات کے ساتھ جمع کرانا ضروری ہوگی۔
رجسٹرار ابتدائی طور پر 15 ورکنگ دنوں میں درخواست کا جائزہ لے گا، جس کے بعد نامکمل درخواستیں واپس کی جا سکتی ہیں یا ان میں اصلاح کے لیے محدود وقت دیا جائے گا۔ مکمل درخواستوں کو رجسٹر کر کے ٹریکنگ نمبر جاری کیا جائے گا اور منصوبے کا خلاصہ اخبارات میں شائع کیا جائے گا تاکہ عوامی آرا اور اعتراضات حاصل کیے جا سکیں۔
بعد ازاں نیپرا مکمل درخواستوں پر 28 ورکنگ دنوں میں فیصلہ کرے گا، تاہم ضرورت پڑنے پر مدت میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔ ریگولیٹر اضافی معلومات طلب کرنے، سماعت منعقد کرنے یا تیسرے فریق کی رائے لینے کا اختیار بھی رکھتا ہے۔
نئے قواعد کے تحت نیپرا کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ طلب، معاشی جواز، ٹیکنالوجی، ماحولیاتی اثرات اور نظام کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبوں کی منظوری یا مسترد کرے۔ اگر کوئی منصوبہ بجلی کے شعبے کی ضروریات، مالیاتی قابلیت یا گرڈ کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا یا اس سے بہتر متبادل موجود ہو تو اسے مسترد کیا جا سکتا ہے۔
ہائیڈرو پاور منصوبوں کے لیے دریائی نظام، آبپاشی، پینے کے پانی اور سیلاب سے متعلق اثرات کا بھی جائزہ لیا جائے گا، جبکہ وفاقی اور صوبائی اداروں سے ضروری منظوری بھی لازمی ہوگی۔
منظوری ملنے کے بعد منصوبے کی صلاحیت، ٹیکنالوجی یا کنکشن میں کسی بھی تبدیلی کے لیے دوبارہ نیپرا کی اجازت درکار ہوگی۔ اس کے علاوہ کمپنی کو اپنی تفصیلات میں کسی بھی تبدیلی سے 14 دن کے اندر نیپرا کو آگاہ کرنا ہوگا۔
حکام کے مطابق ان نئے قواعد کا مقصد شفافیت کو فروغ دینا، غیر منصوبہ بند سرمایہ کاری کو روکنا اور بجلی کے نئے منصوبوں کو پاکستان کی طویل مدتی توانائی حکمت عملی اور انفرااسٹرکچر کے مطابق بنانا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

























Comments