آٹو سیکٹر: توازن برقرار رکھنے کی ضرورت
- آٹو موبائل کی فروخت مالی سال 26 کے ابتدائی 9 ماہ کے دوران مسلسل بحالی کے رجحان کو برقرار رکھے ہوئے ہے
آٹو موبائل کی فروخت مالی سال 26 کے ابتدائی 9 ماہ کے دوران مسلسل بحالی کے رجحان کو برقرار رکھے ہوئے ہے، اور مجموعی فروخت میں سالانہ بنیاد پر 43 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو تقریباً 144,000 یونٹس تک پہنچ گئی ہے۔ یہ بحالی ابتدا میں کریڈٹ پر مبنی تھی، جس کی حمایت شرح سود میں کمی، صارفین کے اعتماد میں بہتری اور نئی گاڑیوں کی مستقل آمد نے کی۔ تاہم گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی پیداوار درآمدی بل کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، جو پالیسی سازوں کے لیے ایک مستقل تشویش کا باعث ہے۔
مسافر گاڑیوں کی مارکیٹ میں سیڈان/ہیچ بیک اور بڑے انجن والی گاڑیوں کے درمیان تقسیم مزید واضح ہو گئی ہے، خاص طور پر کیا ، چانگان اور بی وائی ڈی کی نئی پیشکشوں کے باعث صورتحال تبدیل ہوئی ہے۔
سیڈان گاڑیوں کا کم ہوتا ہوا حصہ اب بھی زیادہ تر ٹویوٹا کے زیرِ اثر ہے۔ تاہم مجموعی فروخت تاریخی سطح سے کم ہے، جس کی وجہ یا تو یہ ہے کہ اپر مڈل انکم طبقے کی قوتِ خرید کم ہوئی ہے یا انہوں نے مارکیٹ میں موجود ایس یو وی ماڈلز کی طرف رخ کر لیا ہے۔
اس کے برعکس سوزوکی آلٹو نے اپنی برتری مزید مضبوط کر لی ہے، اور اس کی فروخت 41,000 یونٹس سے تجاوز کر گئی ہے، یوں یہ مسافر گاڑیوں کی فروخت میں سب سے بڑا حصہ ڈالنے والا ماڈل بنا ہوا ہے۔ تاہم مجموعی فروخت میں اس کا حصہ معمولی کمی کے ساتھ 38 فیصد رہ گیا ہے (جو پہلے 42 فیصد تھا)، کیونکہ سوئفٹ اور کرولا کی فروخت تیزی سے بڑھی ہے۔ سوزوکی کی اپنی لائن اپ میں یہ تبدیلی صارفین کی ترجیحات میں بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔ بولان کا مکمل خاتمہ حیران کن طور پر سوزوکی ایوری نے پورا کر دیا ہے، جو ڈیزائن کے لحاظ سے نسبتاً کم معیار کی مگر ہلکی اور زیادہ فیول ایفیشنٹ ہے۔ چونکہ یہ گاڑی زیادہ تر کمرشل مقاصد کے لیے استعمال ہوتی ہے، اس کی بڑھتی ہوئی فروخت کمرشل سرگرمیوں میں بحالی کو ظاہر کرتی ہے (جیسے بسوں اور ٹرکوں کی فروخت میں 74 فیصد اضافہ بھی لاجسٹکس اور انفرااسٹرکچر سے جڑی طلب کی واپسی کی نشاندہی کرتا ہے)۔ سوئفٹ کی بحالی کمپنی کے لیے خوش آئند ہے کیونکہ یہ ماڈل خریداروں کی توجہ حاصل کر رہا ہے، حتیٰ کہ اس کی قیمت یارس جیسی سیڈان کے قریب پہنچ چکی ہے۔
ایس یو وی اور ایل سی وی کیٹیگری میں فروخت بنیادی طور پر سازگار کی ہیول لائن اپ کے ذریعے آگے بڑھ رہی ہے، جو ایک نمایاں کارکردگی دکھانے والا برانڈ ہے اور اس میں 57 فیصد سالانہ اضافہ ہوا ہے۔ ہنڈائی کی ٹکسن نے بھی 60 فیصد مضبوط اضافہ ریکارڈ کیا ہے، جبکہ مہنگے ماڈلز جیسے سانٹا فی اور سوناٹا میں کمزوری نظر آ رہی ہے، جن کی فروخت میں کمی واقع ہوئی ہے۔
دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کی فروخت بنیادی طلب کی اصل صورتحال کو واضح کرتی ہے۔ اس کی فروخت 31 فیصد بڑھ کر مالی سال 26 کے ابتدائی 9 ماہ میں 1.43 ملین یونٹس سے تجاوز کر گئی ہے، جو اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ آلٹو کی طرح مارکیٹ کا بڑا حصہ اب بھی ایسے فیول ایفیشنٹ آپشنز کی تلاش میں ہے، خاص طور پر ایسے معاشی ماحول میں جو مہنگائی کے دباؤ کا شکار ہے۔ یہ شعبہ نہ صرف معاشی دباؤ کا پیمانہ ہے بلکہ بڑے پیمانے پر الیکٹریفیکیشن کے لیے ممکنہ بنیاد بھی فراہم کرتا ہے، اگر پالیسی اور فنانسنگ دونوں ساتھ آئیں۔
زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی طلب زیادہ ایندھن کی کھپت کا باعث بنتی ہے، جسے درآمد کرنا پڑتا ہے۔ مکمل طور پر ناک ڈاؤن (سی کے ڈی) کٹس کے بڑھتے ہوئے درآمدی بل کے ساتھ مل کر، معیشت جلد ہی بیرونی کھاتے پر مزید دباؤ کا سامنا کرے گی، کیونکہ تیل کی قیمتیں عالمی معیشت پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔
اگر درآمدات پر مبنی طلب پاکستان کے لیے سنبھالنا مشکل ہو گئی تو ممکنہ پالیسی ردعمل میں درآمدی پابندیاں، سخت کریڈٹ شرائط، یا ایندھن کے استعمال پر انتظامی کنٹرول شامل ہو سکتے ہیں۔

























Comments