سرمایہ کاروں کی بھرپور طلب، پاکستان نے یورو بانڈ کا حجم بڑھا کر 750 ملین ڈالر کردیا
- یورو بانڈ ابتدائی طور پر 500 ملین ڈالر کی مالیت سے جاری کیا گیا تھا
مشیرِ خزانہ خرم شہزاد نے بتایا ہے کہ پاکستان نے چار سال بعد بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹ میں اپنی واپسی پر توقعات سے زیادہ طلب کے پیشِ نظر گرین شو آپشن کا استعمال کرتے ہوئے اپنے تین سالہ یورو بانڈ کے حجم میں اضافہ کر دیا ہے۔ عالمی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی جانب سے مزید 250 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کے بعد اب یہ مجموعی رقم 750 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
حکومت کے گلوبل میڈیم ٹرم نوٹ (جی ایم ٹی این) پروگرام کے تحت شروع میں یہ بانڈ 500 ملین ڈالر کے لیے جاری کیا گیا تھا، جو چار برس میں پاکستان کی جانب سے پہلا یورو بانڈ اجرا تھا۔
خرم شہزاد نے اس سے قبل بتایا تھا کہ عالمی معاشی اور جیو پولیٹیکل غیر یقینی صورتحال کے باوجود سرمایہ کاروں کی جانب سے دکھائی گئی بھرپور دلچسپی پاکستان کے معاشی مستقبل پر ان کے نئے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔ تازہ ترین اپ ڈیٹ کے مطابق گرین شو آپشن کا کامیاب استعمال سرمایہ کاروں کی سرمایہ کاری میں دلچسپی کو ظاہر کرتا ہے اور عالمی سطح پر سرمایہ کاری کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرتا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ بانڈ کی رقم میں اس اضافے سے پاکستان کے سویڈن ییلڈ کرو کی گہرائی اور لیکویڈیٹی میں اضافہ ہوگا اور عالمی مالیاتی منڈیوں کے ساتھ پاکستان کے روابط مزید مضبوط ہوں گے۔ اس پیش رفت سے جی ایم ٹی این پروگرام کے تحت مستقبل کے اجرا کے لیے بھی تحریک ملے گی اور بین الاقوامی سطح پر فنڈز جمع کرنے کے لیے قیمت کا ایک نیا معیار طے ہو سکے گا۔
مشیرِ خزانہ نے نوٹ کیا کہ ان بانڈز کی قیمتیں مسابقتی شرائط پر طے کی گئی ہیں جو بہتر ہوتے ہوئے میکرو اکنامک اشاریوں کی عکاسی کرتی ہیں۔ ان کے بقول عالمی منڈیوں میں یہ کامیاب واپسی بیرونی مالیاتی ذرائع کو متنوع بنانے اور قلیل مدتی فنڈنگ پر انحصار کم کرنے کی حکومتی حکمت عملی کا ایک اہم سنگ میل ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاروں کی جانب سے زبردست طلب حکومت کے نظم و ضبط پر مبنی قرضوں کے انتظام کی عکاسی کرتی ہے۔
یورو بانڈ سے حاصل ہونے والی رقم پاکستان کی بیرونی مالیاتی ضروریات کو پورا کرنے اور زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے میں مدد دے گی۔ پاکستان نے حال ہی میں اپنے 1.3 ارب ڈالر کے یورو بانڈز کی واجب الادا رقم بھی شیڈول کے مطابق ادا کی ہے، جس سے عالمی منڈیوں میں ملک کی ساکھ بہتر ہوئی ہے۔
واضح رہے کہ حکومت آئندہ کے جی ایم ٹی این اور عالمی سوک پروگراموں کے لیے مالیاتی مشیروں کے تقرر کی تیاری کر رہی ہے، جبکہ پانڈا بانڈ کے اقدام پر بھی کام جاری ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں کمی اور بتدریج میکرو اکنامک استحکام وہ اہم عوامل ہیں جنہوں نے عالمی سرمایہ کاروں کے درمیان پاکستان کے بارے میں رسک پرسیپشن(خطرہ محسوس کرنے کا تاثر) بہتر بنانے میں مدد دی ہے۔

























Comments