BR100 Increased By (0.59%)
BR30 Increased By (1.07%)
KSE100 Increased By (0.46%)
KSE30 Increased By (0.52%)
BAFL 55.77 Decreased By ▼ -0.09 (-0.16%)
BIPL 24.33 Increased By ▲ 0.25 (1.04%)
BOP 28.81 Increased By ▲ 0.23 (0.8%)
CNERGY 12.80 Increased By ▲ 0.09 (0.71%)
DFML 16.08 Decreased By ▼ -0.02 (-0.12%)
DGKC 182.40 Increased By ▲ 0.79 (0.43%)
FABL 91.40 Decreased By ▼ -0.20 (-0.22%)
FCCL 51.99 Increased By ▲ 0.52 (1.01%)
FFL 14.02 Increased By ▲ 0.01 (0.07%)
GGL 20.10 Increased By ▲ 1.07 (5.62%)
HBL 289.44 Increased By ▲ 2.18 (0.76%)
HUBC 193.24 Increased By ▲ 1.73 (0.9%)
HUMNL 9.21 Increased By ▲ 0.09 (0.99%)
KEL 5.91 Decreased By ▼ -0.03 (-0.51%)
LOTCHEM 25.82 Decreased By ▼ -0.49 (-1.86%)
MLCF 90.45 Increased By ▲ 0.64 (0.71%)
OGDC 302.25 Increased By ▲ 2.51 (0.84%)
PAEL 33.73 Increased By ▲ 0.14 (0.42%)
PIBTL 13.71 Decreased By ▼ -0.01 (-0.07%)
PIOC 231.08 Increased By ▲ 0.02 (0.01%)
PPL 219.25 Increased By ▲ 1.78 (0.82%)
PRL 103.76 Increased By ▲ 4.57 (4.61%)
SNGP 90.13 Increased By ▲ 0.21 (0.23%)
SSGC 23.02 Increased By ▲ 0.40 (1.77%)
TELE 7.23 Increased By ▲ 0.18 (2.55%)
TPLP 11.87 Increased By ▲ 0.05 (0.42%)
TRG 55.47 Decreased By ▼ -1.08 (-1.91%)
UNITY 8.04 Decreased By ▼ -0.43 (-5.08%)
WTL 0.98 Increased By ▲ 0.02 (2.08%)
پاکستان

ڈیزل سے بجلی پر منتقلی: تھر میں کان کنی کے منصوبوں کو گرڈ سے منسلک کرنے کی تیاریاں

  • کوئلے کی قیمت میں تقریباً 0.7 ڈالر فی ٹن کمی کا امکان ہے، اعلامیہ
شائع اپ ڈیٹ

پاور ڈویژن نے تھر کول مائننگ میں آپریشنل مسائل کے خاتمے کیلئے ایک بڑے اصلاحی اقدام کا آغاز کردیا ہے جس سے ڈیزل کی مد میں یومیہ تقریباً 2.5 کروڑ (25 ملین) روپے کی بچت ہوگی۔ اس اقدام کے نتیجے میں سالانہ 25 سے 30 ملین امریکی ڈالر کے زرمبادلہ کی بچت متوقع ہے۔

پاور ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق وزیراعظم کی قیادت میں وزیر توانائی کی اسٹریٹجک ہدایات پر مائننگ آپریشنز کو ڈیزل سے بجلی پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ اس اقدام سے ڈیزل کی کھپت میں خاطر خواہ کمی کے ذریعے بڑے پیمانے پر قومی بچت متوقع ہے جس سے درآمدی بلوں میں کٹوتی اور بجلی کی قیمتوں میں کمی آئے گی۔

اعلامیے کے مطابق کوئلے کی قیمت میں تقریباً 0.7 ڈالر فی ٹن کمی کا امکان ہے جس کے نتیجے میں بجلی پیدا کرنے کی لاگت میں نمایاں کمی واقع ہوگی۔

حکام کے مطابق تھر کول میں ڈیزل سے بجلی کی لاگت 33 سینٹ فی یونٹ سے کم ہو کر 13 سینٹ تک آ جائے گی۔

مائننگ میں ڈی واٹرنگ کے لیے روزانہ 35 ہزار لٹر جبکہ مجموعی آپریشنز میں دو سے ڈھائی لاکھ لٹر ڈیزل استعمال ہوتا تھا جس کا بوجھ بجلی ٹیرف کی صورت میں عوام پر پڑتا تھا۔

معاشی اور ماحولیاتی اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے پاور ڈویژن نے وفاقی وزیر کی واضح پالیسی گائیڈ لائنز کے تحت ایک پائیدار متبادل تیار کرنے کے لیے اہم اسٹیک ہولڈرز بشمول تھر کول انرجی بورڈ ، نیشنل گریڈ کمپنی اور حیسکو کو اس عمل میں شامل کیا۔

تفصیلی غور و خوض کے بعد، تھر بلاک-I اور بلاک-II کی مینجمنٹ نے کان کنی کے آپریشنز کو ڈیزل پر مبنی نظام سے گرڈ پر چلنے والے انفرااسٹرکچر کی طرف منتقل کرنے پر اتفاق کیا اور اس مداخلت کے لیے سرمایہ کاری کرنے کا اعلان کیا۔

پریس ریلیز کے مطابق اس ٹرانزیشن میں گرڈ اسٹیشنز اور متعلقہ ٹرانسمیشن انفرااسٹرکچر کی تعمیر کے لیے تقریباً 5.3 ارب روپے کی سرمایہ کاری شامل ہے جس سے حیسکو کے 132 کے وی اسلام کوٹ گرڈ اسٹیشن کے ساتھ رابطہ ممکن ہوسکے گا اور کان کنی کے کاموں کے لیے تقریباً 60 میگاواٹ بجلی کی فراہمی (آف ٹیک) میں سہولت ملے گی۔

معاشی فوائد کے علاوہ، یہ اقدام نمایاں ماحولیاتی فوائد بھی پیش کرتا ہے۔

تخمینہ لگایا گیا ہے کہ اس سے ہر سال کاربن کے اخراج میں تقریباً 80,000 ٹن تک کمی آئے گی۔ مزید برآں، ڈیزل سے چلنے والی کان کنی کی گاڑیوں کو برقی (الیکٹرک) متبادل پر منتقل کرنے کی ہدایات بھی جاری کر دی گئی ہیں، جس سے کارکردگی میں بہتری آئے گی اور طویل مدتی ڈی کاربنائزیشن کے اہداف کو حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔

یہ اصلاحات پاکستان کے توانائی شعبے میں کارکردگی کو بہتر بنانے کی جانب ایک عملی اور پر اثر قدم کی نمائندگی کرتی ہیں۔

وفاقی وزیرتوانائی کی تزویراتی نگرانی میں ڈیزل پر مبنی مہنگے آپریشنز کو گرڈ سے فراہم کردہ بجلی سے تبدیل کرکے حکومت نہ صرف بجلی پیدا کرنے کی لاگت کم کررہی ہے بلکہ زرمبادلہ ذخائر پر دباؤ میں بھی کمی لارہی ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ کان کنی سے متعلق توانائی کی طلب کا ایک بڑا حصہ جس کا تخمینہ تقریباً 60 میگاواٹ لگایا گیا ہےنیشنل گرڈ پر منتقل کر دیا جائے گا جس سے سسٹم کے مجموعی استعمال میں بہتری آئے گی۔ ساتھ ہی اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ کارکردگی میں ہونے والے ان فوائد کو بالآخر سستی اور پائیدار بجلی کی صورت میں صارفین تک پہنچایا جائے۔

Comments

Comments are closed.